کاش کوئی ایسی مسجد بنا سکوں ۔۔۔۔ !

آرزو ہے ایک ایسی مسجد کی جس کے اندر بورڈ پہ کچھ ایسا لکھا ہو ، آپ مزدور ہیں مسافر ہیں تھکے ہوئے تو پنکھا چلا کر کچھ دیر سستا سکتے ہیں ۔

آپ کے یہاں پانی نہیں آرہا ، نمازیوں کا خیال کرتے ہوئے ضرورت کا پانی استعمال کے لئیے لے جاسکتے ہیں ۔

ہمارے مسلک میں دوسری جماعت کی اجازت نہیں ، چونکہ آپکے مسلک میں ہے لہذا آپ جیسے پیارے احباب مختص جگہ پہ باجماعت نماز ادا کرسکتے ہیں ۔

آپ کسی نیک مقصد کے لئیے چندہ مانگنا چاھتے ہیں ہمارے فرقے سے تعلق بھی نہیں رکھتے ، مشورہ کرکے آپکو اجازت دی بھی جاسکتی ہے اور اچھے انداز سے معذرت بھی ۔

آپ چھوٹے بچے ہیں ، ضرور تشریف لائیں کیونکہ آپ ہی اس مسجد کا مستقبل ہیں ۔

مذید پڑھیں :پسند کی شادی پر 4 قتل کے بعد ڈھائی کروڑ جرمانوں پر تصفیہ

نماز پڑھیں ہلکی پھلکی شرارتیں بھی کریں ہم حسن بصری نہیں جو نماز میں خلل پڑے ویسے بھی نماز میں ہم میں سے اکثر حساب کتاب کرتے ہی پڑھتے ہیں ۔

پیارے بچوں ، آپکو نماز سکھانے کہانیاں سنانے اور کھیل ہی کھیل میں تربیت کا بھی انتظام ہے ۔

آپ خاتون ہیں تو یہ آپ ہی کی مسجد ہے ، آئیں نماز پڑھیں وقت گزاریں ٹوائلٹ استعمال کریں بچوں کو دودھ پلانے کپڑے بدلنے کی بھی جگہ موجود ہے ۔

مذید پڑھیں :ملک کی ترقی و خوشحالی میں فنکار برادری کا اہم کردار ہے،ارم اشنا

مسجد کے امام و انتظامیہ محلے سے بھرپور رابطہ رکھتے ہیں خوشی غمی میں شریک ہوتے ہیں مسجد میں نوجوانوں خواتین لڑکیوں سب کے لئیے الگ الگ انتظامات ہیں جہاں دینی سرگرمیوں کھیل لائیبریری تعلیمی اداروں کے امتحانات انکی تیاری جیسے معاملات کا انتظام ہے ۔

اس سے مسجد سے بھوکوں کو کھانا کپڑا ، محلے کی فلاحی سرگرمیاں ضرورت مند خواتین و حضرات کی شادی کے انتظامات کئیے جاتے ہیں ۔ ہماری مسجد کے امام سمیت عملے کی تنخواہیں شاندار ہیں انہیں اچھے گھر میڈیکل سمیت دیگر سہولتیں میسر ہیں ، پینشن بھی دی جاتی ہے ۔ ہمارا امام ہماری طرح بلکہ ہم سے بھی اچھی زندگی بسر کرتا ہے ۔

نوٹ : 
یہ سارے کام ریاست کے ہیں مگر اسے پہلے کبھی ان سے دلچسپی رہی نہ آئندہ امکان ہے چونکہ ملک کا تقریباً مساجد کا انتظام عام افراد کے پاس ہے لہذا اس فارمولے یا اس سے بھی بہتر چیزیں کر کے لوگو کو مذھب سے قریب کیا جا سکتا ہے
مشورہ مفت ہے عمل کرنا نہ کرنا اپنی اپنی پسند ہے ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *