چین کی WHO کو اپنے ملک میں کورونا پھیلنے سے متعلق تحقیقات کی اجازت

ڈائریکٹر ڈبلیو ایچ او

بیجنگ: چین نے عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کو اپنے ملک میں کورونا وائرس کے پھیلنے سے متعلق تحقیقات کرنے کی اجازت دے دی۔

واضح رہے کہ کچھ روز قبل ڈبلیو ایچ او کی ٹیم ووہان میں تحقیقات کے لیے چین آنے کے لیے تیار ہوئی تو بیجنگ نے اسے اپنے ملک میں داخلے سے روک دیا تھا۔

تاہم اب تازہ اطلاعات کے مطابق چینی حکام نے کہا ہے کہ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے 10 سائنسدانوں کو اجازت دی گئی ہے کہ وہ جمعرات کو چین آ کر اس بات کا سراغ لگائیں کہ کورونا وائرس کی ابتدا کہاں سے ہوئی تھی۔

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق ایسے وقت میں یہ دورہ بہت اہم ہے کہ جب کورونا وائرس نے دنیا کا نظام درہم برہم کر دیا ہے، 20 لاکھ کے قریب ہلاکتیں ہو چکی ہیں اور عالمی معیشت کی بری حالت ہے۔

چین کے نیشنل ہیلتھ کمیشن نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’ڈبلیو ایچ او کی ٹیم چینی سائنسدانوں کے ساتھ مشترکہ تحقیقات کرے گی۔‘

عالمی ادارہ صحت کی ٹیم کو چین میں داخلے کی اجازت نہ دینے پر بدھ کو ڈبلیو ایچ او کے سربراہ کا کہنا تھا کہ انہیں سخت مایوسی ہوئی ہے کہ چین نے ابھی تک بین الاقوامی ماہرین کو اس علاقے تک رسائی کی اجازت نہیں دی جہاں سے کورونا وائرس نے سر اٹھایا تھا۔

تاہم چین نے کشیدگی کو کم کرنے کی کوشش کرتے ہوئے اسے ’غلط فہمی‘ قرار دیا تھا۔

ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل  ٹیڈروس ادھانوم نے جنیوا میں ایک آن لائن نیوز کانفرنس میں کہا تھا کہ ’آج ہمیں معلوم ہوا ہے کہ چینی حکام نے ابھی تک ٹیم کو چین روانگی کے لیے ضروری اجازت نہیں دی۔ ’میں چین کے سینیئر حکام کے ساتھ رابطے میں ہوں اور میں نے ایک بار پھر یہ واضح کیا ہے کہ یہ مشن ڈبلیو ایچ کی ترجیح ہے۔

چین کو 2019 کے اواخر میں منظر عام پر آنے والے کورونا وائرس کے ابتدائی کیسز سے موثر انداز میں نہ نمٹنے پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس وبا کے پھیلاؤ کے دوران بیجنگ کے عملی اقدامات پر بھی سوال اٹھایا تھا اور واشنگٹن نے اس معاملے کی شفاف تحقیقات  کرانے کا مطالبہ کیا تھا۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *