نئے سال کا نیا عہد

تحریر : عبدالمنعم فائز
ایڈیٹر ہفت روزہ شریعہ اینڈ بزنس

فضیل بن عیاض رحمہ اللہ نے ایک شخص سے پوچھا: کتنے سال کے ہو؟ اس نے کہا: 60 سال کا۔ آپ نے یہ سن کر فرمایا: آپ 60 سال سے اپنے رب کی طرف جانے کے لیے سفر میں ہو، اب تو منزل قریب ہے۔ وہ بولا: اناللہ وانا الیہ راجعون۔ یہ سن کر آپ نے فرمایا: جس شخص کو علم ہو کہ میں اللہ کا بندہ ہوں اور اسی کے پاس واپس آجانا ہے، وہ شخص قید میں ہوتا ہے، قیدی سے پوچھ گچھ ہوتی ہے، اس لیے سوالوں کے جواب تیار کرلو۔ جواب کا ایک ہی طریقہ ہے: اپنی باقی زندگی سدھار لو، اللہ تعالی پچھلے گناہ بھی معاف کردے گا۔ (حلیۃ الاولیاء، روایت نمبر: 11782)

آج یہ سطریں لکھنے بیٹھا ہوں تو نئے سال کا سورج طلوع ہوچکا ہے۔ دنیا بھر میں نئے سال کے عہد ہورہے ہیں، بری عادتوں سے پیچھا چھڑانے اور اچھی عادتیں اپنانے کے عزم ہورہے ہیں۔ یہ رجحان اب رفتہ رفتہ پاکستان میں بھی پذیرائی حاصل کررہا ہے۔ سال میں کوئی دن تو ایسا مقرر کرنا چاہیے جب ہم اپنے گزرے دنوں کا محاسبہ اور آنے والے دنوں کی منصوبہ بندی کرسکیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے: حساب کا دن آنے سے پہلے پہلے اپنا محاسبہ کرلو۔ (کتاب الزہد، امام احمد بن حنبل، حدیث نمبر:633) کلینکیل سائیکالوجی کا سروے بتاتا ہے کہ جو لوگ اپنے نئے سال کے اہداف مقرر کرلیتے ہیں ان میں سے 46 فیصد افراد اپنے ہدف کو حاصل کرلیتے ہیں۔ مگر جو لوگ اپنے اہداف مقرر نہیں کرتے، بس یہ سوچتے ہیں کہ ہم کرکے دکھائیں گے، ان کی کامیابی کے امکانات صرف اور صرف 4 فیصد تک ہوتے ہیں۔ اس لیے آئیے اپنے اگلے سال کے اہداف متعین کرتے ہیں۔ اس منصوبہ بندی کے نتیجے میں اور کچھ نہ سہی، نیت کا ثواب تو مل ہی جائے گا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ایمان والے کی نیت، اس کے عمل سے بھی بہتر ہوتی ہے۔ (شعب الایمان، بیہقی، جلد5، صفحہ:359) اس لیے کہ نیت میں نہ ریا کاری ہوتی ہے، نہ دکھاوا۔

دنیا میں کیے گئے سروے بتاتے ہیں کہ نئے سال کے عہد میں سب سے پہلا ہدف صحت بہتر بنانا رکھا جاتا ہے۔ پھر مالی استحکام اور اقتصادی خود مختاری۔ مگر ہم یہ ترتیب تھوڑی سی بدلتے ہیں۔ سب سے پہلا عزم یہ کرتے ہیں کہ عبادات بروقت کریں گے۔ روزانہ ایک پارہ تلاوت کرنا ہے۔ نماز یا نفل کی پابندی میں کوئی سستی ہے تو اسے دور کرنے کا عزم کیجئے۔ صدقہ خیرات کتنا کریں گے، ابھی سے متعین کرلیجئے۔ اس کے بعد اپنی صحت کو کیسے بہتر بنائیں گے۔ کب اور کون سی ایکسرسائز کریں گے؟ ہرماہ کتنا وزن کم کرنا ہے؟ دماغی صحت کے لیے کیا کیا اقدام کرنے ہیں؟ خوراک میں کیا تبدیلی لانی ہے؟ پان، گٹکا، چھالیہ یا نسوار کی عادت ہے تو کب تک چھوڑ دینی ہے۔ اس کے بعد مالیاتی منصوبہ بندی کیجیے۔ اخراجات کیسے کنٹرول کرنے ہیں؟ بچت کیسے بڑھانی ہے؟ پھر اپنی صلاحیتوں کو بڑھانے کی فکر کیجئے۔ کچھ نیا پڑھیے، مطالعہ کا ہدف مقرر کیجئے۔ کسی نئی ڈگری کے لیے تگ و دو کیجئے۔ کتاب لکھنے، ویڈیو بنانے اور علم پھیلانے کا ہدف بنائیے۔ کوئی نئی زبان سیکھیے۔ بچوں کی تعلیم، رشتہ داروں سے صلہ رحمی اور خاندان سے متعلق اہداف بھی مقرر کیجئے۔ جب یہ سب ہوجائے تو آج سے ہی اس پر عمل شروع کیجئے۔ نیکی کے کام میں دیر نہیں کرنی چاہیے۔

مذید پڑھیں :بھائی کی وفات پر صوبائی وزیر محب اللہ خان سے تعزیت

کامیاب لوگوں کی زندگی میں کل نہیں ہوتا۔ سوچنا بند کیجئے اور عمل کرنا شروع کیجئے، کہیں ایک اور سال اسی ادھیڑ بن میں نہ گزر جائے۔ سستی پیدا ہونے لگے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان پڑھ لیجئے: ”سات چیزوں سے پہلے نیک اعمال کرنے میں جلدی کرو۔ کیا تمہیں ایسی غربت کا انتظار ہے جو سب کچھ بھلادینے والی ہے؟ یا ایسی مال داری کا انتظار ہے جو سرکش بنادیتی ہے؟ یا ایسی بیماری کا جو لاچار کردیتی ہے؟ یا ایسے بڑھاپے کا جو عقل خراب کردیتا ہے؟ یا ایسی موت کا جو جلد آجانے والی ہے؟ یا دجال کا جو سب سے بری انتظار کی جانے والی چیز ہے؟ یا اس قیامت کا جو نہایت سخت اور کڑوی ہے؟“۔ (ترمذی شریف، کتاب الزہد، باب ماجاء فی المبادرۃ بالعمل، حدیث نمبر:2306)

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *