ہزارہ یونیورسٹی میں طالبات کیلئے عبایا لازمی قرار

پشاور : ہزارہ یونیورسٹی کیلئے نیا ڈریس کوڈ جاری کر دیا گیا ہے ۔

نئے ڈریس کوڈ کو دسمبر 2020 میں منعقدہ اجلاس کے ایجنڈہ میں 4 پر رکھا گیا تھا جس کی منظوری دی گئی ہے ۔

نوٹی فکیشن کے مطابق ہزارہ یونیورسٹی میں زیر تعلیم طلبہ ڈریس پینٹ اور ڈریس شرٹ پہن سکتے ہیں ۔ ڈریس شوز اور جرابیں پہن سکتے ہیں ۔صاف ستھرے شلوار اور قمیص اور واسکٹ بنیان اور کوٹ پہن سکتے ہیں اور سردیوں میں ٹوپی بھی پہن سکتے ہیں ۔اور یونیورسٹی کے اندر طالب علم اپنا کارڈ بھی لازمی اپنا کر رکھے گا ۔

طلبہ کیلئے ممنوعہ چیزوں کے مطابق کوئی بھی طالب علم ہاف بازو شرٹ ‛ جینز اور فٹنگ والی شرٹ و چینز نہیں پہنے گا ۔ کوئی بھی طالب علم چیپل اور کھیڑی کسی سی قسم کے نہیں پہنے گا ۔کوئی بھی طالب علم انگوٹھی ‛ گلے میں لاکٹ وغیرہ نہیں پہنے گا ۔ کسی طالب علم کو لمبے بال رکھنے کی اجازت نہ ہو گی ۔پونی نہیں لگائے گا اور غیر شائستہ داڑھی بھی نہیں رکھے گا ۔

ہزارہ یونیورسٹی میں طالبات کیلئے کے لئے عبایا لازمی ہو گا ۔عبائے کا رنگ کالا ‛ گرے اور ڈارک بیلو ہو گا اس کے علاوہ عبائے پر کوئی کشیدہ کاری اور ڈیکوریشن نہیں ہو گی ۔اس کے علاوہ طالبات دوپٹہ ‛ اسکارف پہن سکتی ہیں ‛ دوپٹے اور اسکارف کا رنگ کالا ‛ سفید یا ڈارک بلیو کے علاوہ مہرون ہو گا ۔ڈریس کوڈ کے مطابق طالبات شلوار قمیض پہنیں گی اور بغیر بازو کے قمیص یا شرٹ نہیں پہنیں گی ۔اور چادر اور دوپٹہ ضروری ہو گا ۔اور طالبات بھی اپنا کارڈ لازمی طور پر پہنیں گی ۔

ڈریس کوڈ کے مطابق طالبات جینز ‛ پاجامے اور ٹی شرٹس بھی نہیں پہنیں گی ۔ چھوٹی قمیصیں اور جینز وغیرہ بھی ممنوع ہے ۔ طالبات زیور بھی نہیں پہن کر آئیں گی اور زیادہ میک اپ بھی نہیں کریں گی ۔اور زیادہ بھاری بیگ بھی ممنوع قرار دیئے گئے ہیں ۔

اس کے علاوہ جامعہ کے ملازمین کیلئے ضروری قرار دیا گیا ہے کہ ان کا لباس بھی صاف ستھرا اور قابل نمائش ہو ۔یونیورسٹی کا شناخت نامہ لازمی پہنا ہو گا ۔یونیورسٹی کے اساتذہ دوران تدریس سیاہ گاؤن لازمی پہنیں گے ۔ اس کے علاوہ کوئی بھی اسٹاف جینز ‛ چست لباس نہیں پہنے گا ۔ اساتذہ و ملازمین چپل ‛ کھیڑی اور سلیپر نہیں پہنیں گے ۔انگوٹھی ‛ لاکٹ وغیرہ سے بھی اجتناب برتیں گے ۔

Comments: 1

Your email address will not be published. Required fields are marked with *

  1. یقینا ہزارہ یونیورسٹی کی انتظانیہ کا یہ اچھا اقدام ہے ۔ یہ ایسا اقدام ہے جس سے غریب طلبہ کو کسی امیر طلبہ پر فوقیت کا احساس نہیں ہو گا ۔
    اور فیشن کے نت نئے اطوار سے امیر طلبہ اپنے ہم مکتب کو زیر نہیں کر سکیں گے ۔