ساحلی پٹی کےگوٹھوں میں روزگار کا کوٹہ انتہائ کم

سماجی تنظیم کوسٹل سجاگ فورم کے رہنماوں نبیل رند، اصغر جت نے میڈیا کو بتایا ہے کہ ساحلی پٹی پر موجود بجلی گھروں میں مقامی گوٹھوں کے لوگوں کے روزگار کا کوٹہ انتہائ کم ہے اور جو وہاں کام کررہے ہیں انکی زندگی جیل جیسی ہے

افسران کا رویہ مقامی لوگوں کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا ہے

ساحلی پٹی کی اہمیت اور یہاں موجود پنکھا بجلی گھر دیگر شہروں و صوبوں کو تو بجلی دے رہی ہے پر جہاں سے پیدا کرتی ہے جن گوٹھوں سے گذرتی ہے یہ سب اندھیرے میں ہوتے ہیں

دوسری جانب جو لیبر قوانین ہیں انکی پاسداری نہی ہورہی غرض کہ گوٹھوں کے بنیادی ضروریات تعلمی صحت راستوں کا پکا ہونا سے مقامی لوگ محروم ہیں اور انکے لئے کمپنیوں کو نوگو ایریا بنادیا گیا ہے

مقامی شناختی کارڈ رکھنے والے کو گیٹ سے ہی واپس کردیا جاتا ہے یہ سب سراسر انسانی حقوق کی پامالی ہے ایسے میں مقتدر ادارے اور لیبر لاء ڈپارنمنٹ سمیت انسانی حقوق کی تنظیمیں ان مسائل کے حل میں اپنا کردار ادا کرے

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *