(جہات) "الغزو الفکری” پر ایک اہم نشست : عنایت شمسی

آج مسلم دنیا جہاں جغرافیائی اور سیاسی طور پر شدید انتشار اور تقسیم کا شکار ہے۔ کہاں امت واحدہ اور کہاں آج یہ حال کہ امت و ملت کا تصور ہی مفقود ہے اور اس کی جگہ پچاس سے زائد مختلف وطنی اقوام کے ٹکڑے ہیں، جو اپنی اپنی ترجیحات، اپنے اپنے مفادات کے خول میں بند اور ایک دوسرے کے دکھ درد اور غمی خوشی سے بے نیاز اپنی ہی دنیا میں مگن ہیں۔ جغرافیہ کی اس ناگوار صورتحال پر مستزاد مسلمانوں کا فکری اور نظریاتی زوال ہے۔ یہ دونوں حالات ایک دوسرے کے ساتھ لازم و ملزوم ہیں اور دونوں نے مل کر ہی مسلمانوں کو اپنے عقیدے، نظریے اور ایمان سے دور کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے ملی وجود کو بھی دسیوں جغرافیائی ٹکڑوں میں بانٹ کاٹ کر رکھ دیا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ ابتری کی یہ دونوں لہریں مسلسل منہ زور ہوتی جا رہی ہیں اور امت کا فکری زوال اور وجودی انتشار مزید گہرا اور وسیع ہوتا جا رہا ہے۔ مولانا عبید اللہ سندھی فرماتے ہیں کہ کوئی قوم اپنا ملک اور زمین گنوا کر اس وقت تک کامل غلام نہیں بن سکتی، جب تک وہ اپنے سر رشتہ فکر سے شعوری طور پر وابستہ رہے اور اپنے نظریہ حیات کو اپنے عمل اور دل و دماغ سے نہ نکالے۔ نظریہ اور ایمان متزلزل ہو گیا تو وطن، زمین اور ملک کے ہوتے ہوئے بھی کوئی قوم اپنی آزادی، اپنی شناخت اور ملی وجود برقرار نہیں رکھ سکتی۔ اس تناظر میں مراکش سے وسطی ایشیا اور مشرق بعید سے شرق اوسط تک نظر دوڑائی جائے تو پورا عالم اسلام نظریاتی بحران کی کثیف دھند کی لپیٹ میں دکھائی دیتا ہے۔

مسلم دنیا میں جاری سیاسی انتشار اور خلفشار کی فضا عالم اسلام کے مزید حصے بخرے کرنے کی راہ ہموار کر رہی ہے اور وہ بھی لا دین اور بے خدا فلسفوں کی بنیاد پر…. جو مسلم دنیا کے اہل فکر و نظر کیلئے سخت لمحہ فکریہ ہے۔ گزشتہ صدی میں اس حوالے سے کئی مفکرین نے چراغ فکر جلایا، امہ کو جھنجھوڑا، مگر استعمار کا حملہ اس قدر ہمہ گیر تھا کہ فکر صالح کی کمزور بادبان اس کا مقابلہ نہیں کر سکی اور پوری امہ حملہ آور فکر و فلسفے کی سیلِ بلا کی نذر ہو گئی۔ آج بھی فکر و نظر کی مشعل تھامے کچھ لوگ مسلم نوجوانوں کو اپنی روایت، اپنی فکر اور نظریات سے پیوستہ رہنے اور ایمان کش حملہ آور فکر و فلسفے کی ہوائے تند و تیز کا مقابلہ کرنے کی ہمت اور شعور دلانے میں مصروف ہیں اور گو ایسے لوگ چند ہیں، مگر انتہائی قابل قدر ہیں۔ اس بات کی ضرورت ہے کہ ان کو سنا جائے، ان کی باتوں اور فکر سے تب و تابِ عمل کشید کی جائے اور نظریاتی یلغار کے ہتھیاروں، دشمن کے وار اور مقابلے کے طور طریقوں سے آگہی حاصل کی جائے۔

مولانا محمد اسماعیل ریحان جوان سال، راسخ العلم، صاحب فکر عالم دین ہیں۔ بہترین صاحب قلم ہیں، مورخ ہیں۔ روایتی حلقے میں غالباً وہ پہلی شخصیت ہیں، جنہوں نے ”تاریخ“ کو پرفیشنل انداز میں بطور موضوع چنا ہے اور جانئے کہ اس کا کریڈٹ وطن عزیز کی انقلابی دینی دانشگاہ جامعہ الرشید کو بھی جاتا ہے، جامعہ الرشید (اللہ تعالیٰ اسے تمام شرور و فتن سے محفوظ اور اس کے چشمہ فیضِ عالی کو دائم رواں رکھے) نے روایتی ماحول میں جہاں اور نئی جہاتِ علم و فکر متعارف کرائی ہیں، وہاں یہ بھی جامعہ کا کمالِ امتیاز ہے کہ اس نے تاریخ کو ایک الگ شعبہ و شاخِ علم کی حیثیت دے کر اس کیلئے مولانا اسماعیل ریحان جیسے قابل فاضل کو ”استاد شعبہ تاریخ“ مقرر کر رکھا ہے۔ تاریخ کے علاوہ مولانا اسماعیل ریحان کا ایک اختصاصی فن اور خصوصی موضوع ”الغزو الفکری“ بھی ہے۔ الغزو الفکری وہ میدانِ فکر و دانش ہے جس میں عالم اسلام کے سیاسی زوال و ادبار کا فکری تجزیہ، دشمن کی نظریاتی یلغار کے خفیہ و ظاہری محاذوں کی نشاندہی اور متعلقہ دلائل و ہتھیاروں سے مقابلے کا شعور اور احساس بیدار کیا جاتا ہے۔

مذید پڑھیں : مُحسنِ پاکستان شیخ عابد حسین عرف سیٹھ عابد کون تھے ؟

جامعہ الرشید میں اس موضوع پر خاص توجہ دی جاتی ہے، مولانا اسماعیل ریحان جامعہ میں بھی بطور فن طلبہ کو اسے پڑھاتے رہے ہیں اور اب آن لائن بھی ٹریننگ دیتے ہیں۔ اس موضوع پر ان کی تین کتابیں بھی موجود ہیں، جو اس فن کی مبادیات سمیت جملہ تفصیلات کا احاطہ کرتی ہیں ۔ جامعہ اسلامیہ مخزن العلوم بنارس، کراچی کی چند قدیم دینی درسگاہوں میں سے ہے۔ مولانا ڈاکٹر قاسم محمود اپنے والد گرامی مفتی مظفر الدینؒ کے جانشین کے طور پر اس کی سرپرستی کرتے ہیں۔ مولانا ڈاکٹر قاسم محمود خود صاحب علم و فکر شخصیت ہیں، سیاست و سماجی خدمت سے بھی عملاً منسلک ہیں اور جامعہ مخزن العلوم کے طلبہ کو عصر حاضر کے تقاضوں کے مطابق دعوتِ دین کے جدید مناہج، عصری افکار و نظریات اور سماج کے بدلتے تقاضوں کے مطابق خدمت دین کے شعور و احساس سے مزین کرنے کیلئے ہمہ وقت فکر مند بھی رہتے ہیں۔ اسی سلسلے میں گزشتہ دنوں انہوں نے جامعہ مخزن العلوم کے اساتذہ و طلبہ کیلئے ”الغزو الفکری“ کی خصوصی نشست رکھی، جس میں مولانا اسماعیل ریحان صاحب نے فکر انگیز گفتگو کی۔

نشست سے اپنی گفتگو میں مسلم امہ کے زوال پر بات کرتے ہوئے مولانا اسماعیل ریحان نے کہا کہ مسلم امہ پر زوال و ادبار کے بادل اچانک نہیں چھائے اور نہ ہی یورپ اور مغرب نے اچانک عروج حاصل کیا۔ انہوں نے کہا کہ مسلم امہ کی عظمت اور شوکت کو پانچ صدی قبل باہمی اختلافات، نزاعات اور عیش و آرام میں انہماک کے باعث زوال کے گھن نے چاٹنا شروع کیا اور گزشتہ صدی کے آغاز میں امت مسلمہ زوال کے قعر مذلت میں جا گری، جبکہ مسلمانوں کے اقتدار اور فوجی اور ٹیکنالوجی کی برتری کے خلاف سازشوں کا سلسلہ صلیبی جنگوں کے دوران نو صدی قبل شروع ہوا۔ انہوں نے کہا کہ نو صدی قبل دنیائے عیسائیت کا جب مسلمانوں سے ٹاکرا ہوا تو وہ مسلمانوں کی حیرت انگیز مادی اور دنیا وی ترقی دیکھ کر دنگ رہ گئے، وہ علم سے مکمل نا آشنا اور جہالت کے اندھیروں میں گم تھے۔

مذید پڑھیں : داﺅد کالج آف انجنیئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی نے 63 طلبا کا مستقبل تباہ کر دیا

انہوں نے مسلمانوں کا مقابلہ کرنے کیلئے نو صدی قبل عربی زبان سیکھنے پر توجہ دی، پھر اسلامی علوم سیکھنے لگے اور مستشرقین کی ایک بڑی کھیپ تیار کر لی، جنہوں نے سترہویں اور اٹھارہویں صدی میں مسلمانوں میں طرح طرح کے نظریاتی شکوک و شبہات پیدا کر کے ان کے ایمان کو متزلزل کرنے کی بھرپور کوشش کی اور اس کے ساتھ ساتھ فرانس، اسپین، جرمنی، ہالینڈ اور برطانیہ کی مسیحی حکومتوں نے فوجی یلغار کر کے کمزور مسلمان ریاستوں پر قبضے کرنا شروع کر دیے۔ انہوں نے ایک طرف مستشرقین کے ذریعے مسلمانوں کے ایمان کو کمزور کیا، دوسری طرف مسلمانوں سے ہی اسلحہ سازی کی صنعت اور فنون حرب سیکھ کر مسلمانوں پر فوجی حملے بھی شروع کر دیے۔ اس طرح انیسویں اور بیسویں صدی میں انہوں نے دنیا بھر سے مسلمانوں کی شان و شوکت کو مٹا کر ان کی عظمت کو قصہ پارینہ بنا دیا…. نشست محدود تھی، اس لیے موضوع کا مکمل احاطہ نہیں کیا جا سکا اور دنیا میں رائج اسلامی فکر کے مقابل دیگر افکار و نظریات اور بالخصوص مغرب کے جدید فلسفے کے تعارف کی تشنگی رہ گئی۔ بہر کیف اس بات کی ضرورت ہے کہ اس موضوع پر جامعہ مخزن العلوم کی طرح دیگر مدارس بھی تربیتی نشستوں کا اہتمام کریں، اس سے نظریاتی شعور کی آبیاری کے ساتھ طلبہ و فضلا میں کچھ کرگزرنے کا جذبہ بھی بیدار ہو گا ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *