داﺅد کالج آف انجنیئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی نے 63 طلبا کا مستقبل تباہ کر دیا

کراچی : داﺅد کالج آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کراچی کے 63 فارغ تحصیل طلباء کو پاکستان انجینئرنگ کونسل اسلام آ باد گزشتہ 11 سال سے رجسٹریشن دینے انکار کر رہی ہے، جو تعلیمی قانوں کی خلاف ورزی ہے ۔

بی ای انجینئرنگ کی ڈگری ہونے کے باوجود فارغ تحصیل طلباء گزشتہ 11 سالوں سے پاکستان انجینئرنگ کونسل کی رکنیت کیلئے دربدر ہیں جو ایک بڑی نا انصافی ہے۔ یہ بات طلبہ ایکشن کمیٹی داﺅد انجینئرنگ کالج کراچی اولڈ بیچز 1991 ۔ 1996 کے صدر انجینئر مصطفیٰ حسین نے ہفتہ کے روز کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

انہوں نے کہا ہے کہ فارغ تحصیل طلبا ءکبھی داﺅد کالج آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کراچی اور کبھی پاکستان انجینئرنگ کونسل کے دھکے کھار رہے ہیں لیکن ان کا کوئی پرسان حال نہیں ہے ۔ مصطفیٰ حسین کا مزید کہنا تھا کہ اعلیٰ حکام مسلسل ٹال مٹول اور الزام تراشیوں میں مصروف ہیں اور ایک ادارہ دوسرے ادارے کو اس کا ذمہ دار قرار دے رہا ہے ۔ لیکن طلبہ کے کیریئر کی کسی ادارے کو کوئی فکر نہیں ہے .

مذید پڑھیں :مُحسنِ پاکستان شیخ عابد حسین عرف سیٹھ عابد کون تھے ؟

نتیجہ یہ ہے کہ آج 11 سال گزرنے کے باوجود 63 طلبہ داﺅد کالج آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کراچی سے فارغ التحصیل ہونے کے باوجود پاکستان انجینئرنگ کونسل کی رکنیت سے محروم ہیں۔ انہوں نے وزیر اعظم پاکستان عمران خان اور چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد سے فریاد کی کہ وہ متاثر طلبہ کو انصاف فراہم کرنے میں اپنا کردار ادا کرتے ہوئے طلبہ کا تعلیمی اور روز گار کا مستقبل تباہ ہونے سے بچائیں۔

انجینئر مصطفیٰ حسین نے کہا کہ ہم گذشتہ 11 سال سے متعلقہ ہر سرکاری و نجی ادارے میں ملازمت کے حصول کیلئے دھکے کھا رہے ہیں . کیو نکہ اعلیٰ انجینئرنگ کی تعلیم اور نوکری حاصل کرنے کیلئے یہ پی ای سی کی رجسٹریشن ضروری ہے . لیکن ہمیں ہر طرف سے مایوسی ہوئی ہے . ہم تمام اداروں کی تمام شرائط پوری کرنے کے باوجود آج بھی پاکستان انجینئرنگ کونسل کی رکنیت سے محروم ہیں ۔

مذید پڑھین :جنوری 21 کو ’’اسرائیل نامنظور‘‘ جلسہ عام عوامی ریفرنڈم ہو گا : JUI سندھ

انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ ہم کو انصاف فراہم کیا جائے اور جو بھی اس کا ذمہ دار ہے اس کے خلاف سخت تادیبی کاروائی کی جائے تاکہ پھر کوئی طالب علم کے کیریئر سے کھیلنے کی جرئت نہ کرے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان انجینئرنگ کو نسل نے ان طلبا ءکی رجسٹریشن اس بنیاد پر روکی تھی کہ طلباء کو چار سالہ انجینئرنگ ڈگری سات سال میں پاس کرنی چا ہئے لیکن داﺅد کالج اور این ای ڈی یو نیوورسٹی کے درمیان جھگڑے کی وجہ سے تقریباً تین سال سے زیا دہ عر صے میں امتحان نہیں ہو سکے اور طلبا ءکے کلاسزز بری طرح متاثر ہوئے۔

لیکن بعد میں 2019 میں انجینئرنگ کو نسل نے ایک ایس آر او منظور کر کے سات سال میں ڈگری پاس کر نے کی شرط کو ختم کر دیا اور کہا کہ 2018 سے پہلے فارغ تحصیل طلباء کو ڈگری دی جائے گی ،لیکن اب انجینئرنگ کونسل اپنے قانون کی خود خلاف ورزی کر رہی ہے اور ایک نیا اعتراض اٹھایا ہے کہ داﺅد انجینئرنگ کالج نے ان 63 طلباء کو جس طریقہ کار اور ضابطہ کار کے تحت ڈگریاں دی ہیں . کالج کی پالیسی کے بارے میں پی ای سی اسلام آباد کو باضابطہ مدعو نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ انجینئرنگ کونسل کا یہ نیا اعتراض بالکل غلط ہے اور قانون کے خلاف ہے ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *