حکومت سندھ کے لوکل ڈیپارٹمنس میں 13ارب روپے کی مالی بے ضابگیوں کا انکشاف

ڈائریکٹر جنرل آڈٹ لوکل کونسلز سندھ نے مالی سال 2017.18 کے دوران بلدیہ عظمیٰ کراچی ، واٹر بورڈ اور بلدیاتی اداروں میں 13 ارب 77 کروڑ 44 لاکھ 92 ہزار 609 روپے کی بے ضابطگیوں کا انکشاف کیا ہے۔

36 بلدیاتی اداروں،سیکریٹری لوکل گورنمنٹ بورڈ، ایس بی سی اے، کے ڈی اے سمیت 7 اداروں،بلدیہ عظمیٰ کراچی کے14و واٹر بورڈ کے 33 شعبوں میں اس عرصے میں سیلز ٹیکس کٹوتی و انکم ٹیکس کی عدم ادائیگی پر خزانہ کو کروڑوں کا نقصان پہنچا۔ کروڑوں کی ادائیگیوں کا کوئی ریکارڈ نہیں۔منصوبوں میں شفافیت کافقدان رہا۔ٹینڈر کے بغیر ترقیاتی کام کرائےگئے۔

اختیارات کا غلط استعمال کرتے ہوئے گاڑیاں خریدی جاتی رہی ہیں ، پیٹرول کی مدمیں کروڑوں روپے خلاف ضابطہ اڑا دیے گئے۔ اداروں کومتعدد بار خطوط بھیجے گئے ،لیکن آڈٹ پیراز نمٹانے کیلئے لیکن کوئی جواب نہ ملنے پر حکام نے سیکریٹری بلدیات کو بذریعہ خط صورتحال سے آگاہ کر دیا ہے۔

دستاویزات کے مطابق مالی سال 2017.18 کے دوران بلدیہ عظمیٰ کراچی کے14شعبوں میں2 ارب 86 کروڑ 24 لاکھ83 ہزار713 روپے کی مالی بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ پروجیکٹ ڈائریکٹر لینڈ ریونیو اورنگی ٹاؤن میں16کروڑ21لاکھ39ہزار 73روپے، ڈائریکٹر جنرل پارکس وہارٹی کلچر3 کروڑ26 لاکھ 41 ہزار، ڈائریکٹر جنرل میونسپل سروسز میں5 کروڑ 44لاکھ 20ہزار،ایم ایس سوبھراج میٹرنٹی اسپتال 77لاکھ79 ہزار254روپے،ڈائریکٹر لینڈ مینجمنٹ میں ایک ارب21 کروڑ29لاکھ95ہزار823روپے کی مالی بے ضابطگی سامنے آئی۔

سینئرڈائریکٹراسٹیٹ میں50 کروڑ57 لاکھ 33 ہزار،سینئرڈائریکٹر وہیکلز کے شعبے میں 2 کروڑ 57 لاکھ 94 ہزار، پرنسپل کراچی میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج میں 3 کروڑ 63 لاکھ 99 ہزار،سینئرڈائریکٹر انٹر پرائز انویسٹمنٹ پروموشن 49 کروڑ 2 8 لاکھ 18 ہزار563،ڈائریکٹر سالڈ ویسٹ مینجمنٹ 3کروڑ98 لاکھ 44 ہزار،سینئرڈائریکٹر ویٹنری سروسز29 کروڑ19 لاکھ 65 ہزار کی مالی بے ضابطگیاں سامنے آئیں ۔

سیکریٹری لوکل گورنمنٹ بورڈ،سینئرڈائریکٹر ٹریفک انجنیئرنگ بیورو،ایس بی سی اے و کے ڈی اے سمیت 7محکموں میں6ارب 41کروڑ، 63 لاکھ، 25 ہزار، 974کی مالی بے ضابطگیاں ہوئیں ۔ حاصل دستاویزات کےمطابق سینئرڈاریکٹر ٹریفک انجنیئرنگ بیورو میں 13کروڑ86لاکھ56 ہزار 147 روپے جبکہ سینئر ڈائریکٹر ماسٹر پلان ڈپارٹمنٹ ایس بی سی اے میں3 ارب 70کروڑ81لاکھ32 ہزار138 روپے کی بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ ڈائریکٹر لینڈ مینجمنٹ اول کے ڈی اے میں ایک ارب21کروڑ 97لاکھ5 ہزار 849روپے،سیکریٹری لوکل گورنمنٹ بورڈ میں ایک کروڑ85لاکھ74ہزار،ڈارئریکٹر فنانس اینڈ اکاؤنٹس ایک ارب37کروڑ29 لاکھ91ہزار روپے کی مالی بے ضابطگی ہوئی۔ ڈائریکٹر ہاؤسنگ ٹاؤن پلاننگ حیدرآباد میں بھی مالی بے ضابطگیاں ریکارڈ کی گئیں۔ ڈارئریکٹر جنرل ادارہ ترقیات کراچی ایک کروڑ80لاکھ96ہزار کی بے ضابطگیوں کا سراغ ملا۔

سندھ کے36بلدیاتی اداروں میں4 ارب22 کروڑ16لاکھ 39ہزار646روپے کی مالی بے ضابطگیاں سامنے آئیں ۔آڈٹ پیراز میں بلدیاتی اداروں میں خلاف ضابطہ اخراجات وادائیگیوں پر کئی سوال اٹھائے گئے ہیں ۔آڈٹ پیزاز میں سندھ کے بلدیاتی اداروں کی طرف سے سیلز ٹیکس کی کٹوتی اور انکم ٹیکس کی عدم ادائیگی سے قومی خزانے کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچنے کا بھی انکشاف ہوا ہے ۔

آڈٹ حکام کے مطابق اداروں کے پاس ادائیگیوں کا ریکارڈ نہیں۔ترقیاتی کاموں میں شفافیت کو مد نظر نہیں رکھا گیا۔ بغیرٹینڈر طلب کئے کام کرائے گئے، اختیار کا غلط استعمال کرتے ہوئے گاڑیوں کو خریدا جاتا رہا ۔چیئرمین ڈی ایم سی جنوبی سےمتعلق آڈٹ پیراز کے مطابق مختلف مدوں میں 59کروڑ19لاکھ63ہزار روپے کی بےضابطگیاں ہوئیں۔

ضلع مٹیاری ہالہ کے چیئرمین میونسپل کمشنر آفس میں8کروڑ20لاکھ زار 440روپے، چیئرمین وسی ایم اواورمیونسپل کمشنر ٹنڈو محمد خان 9کروڑ91 لاکھ10 ہزار، چیئرمین ٹاؤن کمیٹی ٹنڈو غلام حیدر 12کروڑ 38لاکھ 58 ہزار، چیئرمین و کونسل آفیسر ضلع کونسل بدین 3کروڑ 17لاکھ14ہزار،چیئرمین و ٹاؤن آفیسرٹاؤن کمیٹی مٹیاری5 کروڑ47لاکھ،7ہزار 339روپے،چیئرمین وٹاؤن آفیسر ٹاؤن کمیٹی نیو سعید آباد8کروڑ53لاکھ88ہزار، 870 روپے، چیئرمین و چیف آفیسر ضلع کونسل سجاول 19کروڑ 98لاکھ61 ہزار روپے،چیئرمین و چیف آفیسر ضلع کونسل سکھر68 کروڑ91 لاکھ9999 روپے، چیئرمین ٹاؤن کمیٹی نوشہرو فیروز ایک کروڑ2لاکھ 22 ہزار،چیئرمین ٹاؤن کمیٹی چوہڑ جمالی5کروڑ96لاکھ88 ہزار ، چیئرمین و ٹاؤن آفیسر ٹاؤن کمیٹی سجاول 16کروڑ 23لاکھ13ہزار، چیئرمین وچیف آفیسر ضلع کونسل خیرپور 8کروڑ34لاکھ26 ہزار، چیئرمین وٹاؤن آفیسر ٹاؤن کمیٹی سیٹھارجہ7 کروڑ 8لاکھ14ہزار، چیئرمین جوہی ضلع دادو12 کروڑ38 لاکھ41ہزار، چیئرمین وچیف میونسپل آفیسر میونسپل کمیٹی ٹنڈو الہیار56کروڑ91لاکھ 66 ہزار روپے، چیئرمین و ٹاؤن آفیسرٹاؤن کمیٹی بلڑی شاہ کریم10کروڑ88 لاکھ93 ہزار،

چیئرمین خیرپور ناتھن شاہ ضلع دادو22کروڑ81 لاکھ 96 ہزار روپے،چیئرمین وٹاؤن آفیسرٹاؤن کمیٹی پیارو لونڈ ضلع ٹنڈو الہیار12کروڑ95لاکھ17 ہزار روپے، چیئرمین و ٹاؤن آفیسر ٹاؤن کمیٹی بھریا سٹی2کروڑ 62 لاکھ 35 ہزار روپے،چیئرمین وچیف میونسپل آفیسر میونسپل کمیٹی مورو2کروڑ58لاکھ62 ہزار، چیئرمین و چیف آفیسرضلع کونسل ٹنڈو الہیار15کروڑ7لاکھ54 ہزار، چیئرمین وسی ایم اومیونسپل کمیٹی دادو9کروڑ99 لاکھ91ہزار،چیئرمین وٹاؤن آفیسرٹاؤن کمیٹی میرپور ساکرو 6کروڑ 35 لاکھ 86 ہزار،چیئرمین و چیف آفیسرضلع کونسل دادو32 کروڑ 43 لاکھ8 ہزار روپے ،

چیئرمین و چیف آفیسرضلع کونسل کشمور 9کروڑ5لاکھ54ہزار،چیئرمین وٹاؤن آفیسر ٹاؤن کمیٹی کشمور 4کروڑ، 4لاکھ،84ہزار،چیئرمین وسی ایم او میونسپل کمیٹی کندھکوٹ ایک کروڑ 69لاکھ22 ہزار،چیئرمین وسی ایم او میونسپل کمیٹی سنجھورو ایک کروڑ49لاکھ54ہزار343 روپے، چیئرمین وسی ایم او میونسپل کمیٹی ٹھٹہ 30کروڑ 8لاکھ62ہزار ،چیئرمین وسی ایم او میونسپل کمیٹی ٹنڈو آدم ضلع سانگھڑ8کروڑ4لاکھ61ہزار652،،چیئرمین وکونسل آفیسر ضلع کونسل سانگھڑ 10کروڑ8ل اکھ59ہزار200 روپے،

چیئرمین وسی ایم او میونسپل کمیٹی میہڑ2 کروڑ 66ل اکھ88ہزار،چیئرمین وسی ایم او میونسپل کمیٹی گھوٹکی ایک کروڑ97لاکھ21 ہزار ، چیئرمین وسی ایم او میونسپل کمیٹی سانگھڑ26کروڑ4لاکھ26ہزار842کی مالی بے ضابطگیاں ریکارڈ کی گئیں ۔ ذرائع کے مطابق ڈائریکٹر جنرل آڈٹ لوکل کونسلز سندھ کی طرف سے تمام اداروں کو مجوزہ آڈٹ پیراز کےحوالے سے ریکارڈ پیش کرنے کیلئے خطوط ارسال کئے گئے ،لیکن انہیں کسی کی طرف سے کوئی جواب موصول نہ ہوا۔اس پر اے جی کی طرف سے سیکریٹری بلدیات کو خط کے ذریعے ماتحت اداروں کو ریکارڈ کی فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت دینے کیلئے کہا گیا ہے ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *