دین پسند بریلوی ۔ دیوبندی اور اہلحدیث کے نام

ھر اس بریلوی ‘ دیوبندی ‘ اھل حدیث کے نام…… جسکا دل زندہ ھے !! جسے اپنے مسلک سے زیادہ اپنا دین عزیز ھے !!

میں حضرت مولانا انور شاہ کاشمیری کی خدمت میں ایک دن نمازِ فجر کے وقت اندھیرے میں حاضرھوا تو دیکھا کہ حضرت سر پکڑے ہوئے بہت غمزدہ بیٹھے ہیں.. میں نے پوچھا.. “مزاج کیسا ہے..؟”

انھوں نے کہا.. “ہاں ! ٹھیک ہی ہے میاں.. مزاج کیا پوچھتے ہو.. عمر ضائع کردی..!”

میں نے عرض کیا.. “حضرت ! آپ کی ساری عمر علم کی خدمت میں اور دین کی اشاعت میں گزری ہے.. ہزاروں آپ کے شاگرد علماء ہیں جو آپ سے مستفید ہوئے اور خدمتِ دیں میں لگے ہوئے ہیں.. آپ کی عمر اگر ضائع ہوئی تو پھر کس کی عمر کام میں لگی..؟

حضرت نے فرمایا.. “میں تمہیں صحیح کہتا ہوں کہ اپنی عمر ضائع کر دی..”

میں نے عرض کیا.. “حضرت ! اصل بات کیا ہے..؟”

فرمایا.. “ہماری عمر کا ‘ ہماری تقریروں کا ‘ ہماری ساری کوششوں کا خلاصہ یہ رہا کہ دوسرے مسلکوں پر حنفی مسلک کی ترجیح قائم کر دیں.. امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کے مسائل کے دلائل تلاش کریں.. یہ رہا ہے محور ہماری کوششوں کا ‘ تقریروں کا اور علمی زندگی کا.. اب غور کرتا ہوں کس چیز میں عمر برباد کر دی..”

پھر فرمایا.. “ارے میاں ! اس بات کا کہ کون سا مسلک صحیح تھا اور کون سا خطا پر ‘ اس کا راز کہیں حشر میں بھی نہیں کھلے گا اور نہ دنیا میں اس کا فیصلہ ہو سکتا ہے اور نہ ہی قبر میں منکر نکیر پوچھیں گے کہ رفع یدین حق تھا یا ترکِ رفع یدین حق تھا..؟ آمین زور سے کہنا حق تھا یا آہستہ کہنا حق تھا..؟ برزخ میں بھی اسکے متعلق سوال نہیں کیا جائے گا اور قبر میں بھی یہ سوال نہیں ہوگا..

روزِ محشر اللہ تعالیٰ نہ امام شافعی کو رسوا کرے گا نہ ہی امام ابوحنیفہ کو نہ امام مالک کو نہ امام احمد بن حنبل کو.. اور نہ میدانِ حشر میں کھڑا کر کے یہ معلوم کرے گا کہ امام ابو حنیفہ نے صحیح کہا تھا یا امام شافعی نے غلط کہا تھا.. ایسا نہیں ہوگا..

تو جس چیز کا نہ دنیا میں کہیں نکھرنا ہے نہ برزخ میں نہ محشر میں ‘ اس کے پیچھے پڑ کر ہم نے اپنی عمر ضائع کر دی اور جو “صحیح اسلام” کی دعوت تھی جو سب کے نزدیک مجمع علیہ اور وہ مسائل جو سب کے نزدیک متفقہ تھے اور دین کی جو ضروریات سبھی کے نزدیک اہم تھیں’ جن کی دعوت انبیاء کرام لے کر آئے تھے ‘ جن کی دعوت کو عام کرنے کا ہمیں حکم دیا گیا تھا ‘ وہ منکرات جن کو مٹانے کی کوشش ہم پر فرض کی گئی تھی ‘ آج اس کی دعوت تو نہیں دی جا رہی..

یہ ضروریاتِ دین تو لوگوں کی نگاہوں سے اوجھل ہو رہی ہیں اور اپنے و اغیار سبھی دین کے چہرے کو مسخ کر رہے ہیں اور وہ منکرات جن کو مٹانے میں ہمیں لگنا چاہئے تھا وہ پھیل رہے ہیں..

گمراہی پھیل رہی ہے ‘ الحاد آرہا ہے ‘ شرک و بدعت پرستی چلی آ رہی ہے ‘ حرام و حلال کا امتیاز اٹھ رہا ہے لیکن ہم لگے ہوئے ہیں ان فرعی و فروعی بحثوں میں.. !

اس لئے غمگین بیٹھا ہوں اور محسوس کر رہا ہوں کہ عمر ضائع کر دی___!!”

اقتباس: “وحدتِ امّت” از مفتی محمد شفیع

اے کاش کہ ھماری عمریں ضائع ھونے سے بچ جائیں اور ھم اپنی انا اور مسلک پرستی پر اپنے دین کو ترجیح دے سکیں.. آمین یارب العالمین..

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *