مُزمل کامل کی EOBI میں غضب کرپشن کی عجب کہانی : تیسری قسط

مزمل کامل ملک

کراچی : 2007 میں ای او بی آئی میں بھرتی ہونے والے افسر مزمل کامل ملک ایمپلائی نمبر 923182 ڈپٹی ڈائریکٹر اور موجودہ ریجنل ہیڈ ساہیوال پر 2018 میں ادارہ کے قواعد و ضوابط اور احکامات شکنی، لا پرواہی اور نالائقی برتنے، ادارہ کے مفادات کو ضرر پہنچانے،جھوٹے اور گمراہ کن بیانات دینے اور دیگر بدعملیوں کا مرتکب ہونے کے سنگین الزامات عائد کئے گئے تھے ۔

جس کے مطابق مزمل کامل ملک نے ریجنل ہیڈ بہاول پور کی حیثیت سے ای او بی آئی کے قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے خلاف قانون غیر مجاز طور پر بد نیتی سے کمپیوٹر سسٹم کے بجائے روائتی طریقہ سے قادری ٹیکسٹائل ملز ای او بی آئی رجسٹریشن نمبر BRA-00001 کو مبلغ 1,423,699 روپے مالیت کا ڈیمانڈ نوٹس جاری کیا تھا ۔

حتیٰ کہ دفتری طریقہ کار کے مطابق ریجنل آفس بہاولپور اور ذیلی دفتر بہاولنگر کے ڈسپیچ رجسٹر میں بھی لاکھوں روپے کی اس خودساختہ ڈیمانڈ نوٹس کا کہیں اندراج نہیں کیا گیا تھا ۔ بعد ازاں مزمل کامل ملک کے اس خلاف قانون ڈیمانڈ نوٹس کی تصدیق قادری ٹیکسٹائل ملز بہاولپور کے مالک مسٹر فیصل اور ان کے فنانس منیجر حاجی بشیر کے بیانات سے بھی ہوگئی تھی ۔

مذید پڑھیں :مزمل کامل کا EOBI میں بڑھتا ہوا اثر محنت کشوں کے حق پر ڈاکہ : پہلی قسط

مزمل کامل ملک پر عائد اس سنگین پر انتظامیہ نے تادیبی کاروائی کرتے ہوئے 29 نومبر 2019 کو اسے چارج شیٹ اور فہرست الزامات جاری کی تھی۔ اس کیس کی انکوائری ذوالفقار علی گریوال ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل آپریشنز لاہور کے سپرد کی گئی ۔ جنہوں نے پورے معاملہ کا باریک بینی سے جائزہ لینے کے بعد حافظ ٹیکسٹائل ملز کی انتظامیہ کے بیانات حاصل کئے اور مزمل کامل ملک سے تفصیلی پوچھ گچھ کے بعد فیصلہ دیا کہ اس معاملہ میں مزمل کامل ملک قصور وار پایا گیا اور اس نے مقررہ قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے انتہائی بد دیانتی کا مظاہرہ کیا ۔

انکوائری رپورٹ میں مزمل کامل ملک کے خلاف پانچ میں سے چار الزامات ثابت ہو گئے تھے۔ انکوائری رپورٹ جمع ہونے کے بعد 23 جون 2020 کو ہیڈ آفس میں مزمل کامل ملک کی چیئرمین ای او بی آئی اظہر حمید کے روبرو ذاتی شنوائی ہوئی۔ جس کے دوران اس معاملہ میں دی گئی چارج شیٹ اور فہرست الزامات بلند آواز میں پڑھ کر سنائے گئے ۔

چیئرمین کی جانب سے سچ جاننے کے متعلق با رہا سوالات کے دوران مزمل کامل ملک انتہائی نروس اور کنفیوز نظر آیا اور سوال کے جواب میں قسم اٹھاتے ہوئے خود پر عائد ان تمام الزامات کی صحت سے بار بار انکار کرتے ہوئے خود کو بے گناہ قرار دیتا رہا۔ بالآخر چیئرمین کی جانب سے آخری بار سچ سچ بتانے پر مزمل کامل ملک نے ادارہ کے مفاد میں کمپیوٹر سسٹم کے بجائے روائتی طریقہ سے ڈیمانڈ نوٹس جاری کرنے کا اعتراف کر لیا اور چیئرمین سے یہ کہ کر معافی طلب کی کہ وہ اپنی بیوی اکلوتی بیٹی، ہمشیرہ کا واحد کفیل ہے ۔ لہذاء اسے معافی دی جائے ۔

مذید پڑھیں :مزمل کامل کی غضب کرپشن کی عجب کہانی : دوسری قسط

جس پر خدا ترسی کا مظاہرہ کرتے ہوئے چیئرمین ای او بی آئی اظہر حمید نے اپنے صوابدیدی اختیارات کے تحت آفس آرڈر نمبر 188 بتاریخ 7 دسمبر 2020 کو مزمل کامل ملک کو بڑی سزا سے بچاتے ہوئے بیک جنبش قلم تمام الزامات سے بری کرتے ہوئے اسے صرف ایک سالانہ انکریمنٹ روکنے کی نرم سزا سنائی اور ہیومن ریسورس ڈپارٹمنٹ کو مزمل کامل ملک پر ایک سال تک اس کی کارکردگی پر نظر رکھنے اور آئندہ اسے کسی بھی انتظامی عہدہ پر تعینات کرنے پر پابندی لگانے کا فیصلہ بھی صادر کیا ۔لیکن تمام تر ٹھوس شواہد کے باوجود مزمل کامل ملک کو اس کے کئے کی سزا سے بچانا انتہائی حیرت کا باعث ہے ۔

واضح رہے کہ مزمل کامل ملک کی انہی غیر قانونی حرکات کے باعث سابق چیئرمین خاقان مرتضیٰ نے مزمل کامل ملک کو گراؤنڈ کر کے بی اینڈ سی آفس عوامی مرکز تبادلہ کر دیا تھا ۔ لیکن ادارہ سے ان کا ٹرانسفر ہوتے ہی مزمل کامل ملک کے بیچ سے تعلق رکھنے والی طاقتور لابی نے مزمل کامل ملک کو پہلے ریجنل ہیڈ کریم آباد اور پھر اس کے آبائی علاقہ کے قریب ریجنل ہیڈ ساہیوال تعینات کرا دیا تھا ۔

ای او بی آئی کے ذرائع کے مطابق ان تمام کیسوں سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے کی مزمل کامل ملک عادی اور مجرمانہ ذہن کا حامل ہے اور انتظامیہ کی جانب سے اسے یکے بعد دیگرے بدعنوانی کے کیسوں مظفر گڑھ میں جعلی پنشن کیسوں منظوری دے کر اختیارات کے ناجائز استعمال کے ذریعہ ای او بی آئی کو لاکھوں روپے کا نقصان پہنچانے اور موجودہ کیس میں مسلسل کذب بیانی سے کام لینے اور انکوائری میں الزامات ثابت ہو جانے کے باوجود اس پر ترس کھا کر نہایت صفائی سے بچائے جانے پر سخت حیرت کا اظہار کرتے ہوئے اس کے تمام کیسوں دوبارہ غیر جانبدارانہ اور منصفانہ انکوائری کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔

مذید پڑھیں :مُحسنِ پاکستان شیخ عابد حسین عرف سیٹھ عابد کون تھے ؟

الرٹ نیوز https://www.alert.com.pk کو حاصل ہونے والی دستاویزات کے مطاق ای او بی آئی کے ریجنل ہیڈز کی جانب سے اداروں اور ان کے ملازمین کی رجسٹریشن کے نام پر ایمپلایئرز کو ڈرانے اور خوف وہراس پیدا کرنے کےلئے بھاری کنٹری بیوشن کی وصولی کے لئے بھاری مالیت کے ڈیمانڈ نوٹس جاری کرنا اور پھر جوڑ توڑ کرکے اپنا بھاری کمیشن وصول کرنا معمول ہے ۔ لیکن آج تک ان بدعنوان اور راشی ریجنل ہیڈز کے خلاف کوئی سنجیدہ کارروائی نہیں کی گئی ۔

لہذاء ای او بی آئی کے بیشتر ریجنل ہیڈ انہی کالے دھندوں میں مصروف ہیں۔ مزمل کامل ملک کے اعلیٰ ٹھاٹ باٹھ، رہن سہن اور اس کا ایلیٹ کلاس طرز زندگی اس کی آمدنی اور عہدہ کے مقابلہ میں کافی بلند نظر آتا ہے ۔ جو ای او بی آئی کی انتظامیہ کے لئے لمحہ فکریہ ہے ۔ اس حوالے سے موقف جاننے کے لئے وزارت محنت کے سیکرٹری محمد ہاشم پوپلزئی سے رابطہ کیا گیا جنہوں نے کہا کہ  تحریری شکایت کے بعد اس کا ازالہ ضرور ہونا چاہئے ہے تاہم میں اس کیس کو دیکھوں گا ۔

نوٹ : مزمل کامل کو بچائے جانے والے لیٹر کو درج زیل لنک سے ڈائون لوڈ کیا جا سکتا ہے ۔ Order # 188

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *