بلدیہ عظمیٰ میں NAB زدہ بدعنوان افسران پھر تعینات

 

 

کراچی : بلدیہ عظمیٰ کراچی میں کرپٹ، نااہل اور متنازع افسران کی آمد ایک بار پھر شروع ہوگئی ہے جس کی وجہ سے بلدیہ کے مجموعی حالات بہتر ہونے کے امکانات معدوم ہوگئے ہیں شہریوں خصوصاً بلدیہ کے افسران کو نئی ایڈمنسٹریٹر کے تقرر کے بعد بہتری کی جو توقعات ہوگئی تھیں اب یکسر ختم ہوگئیں ۔

اپنے تقرر کے منتظر تقریباً3 درجن افسران شدید مایوس نظر آرہے ہیں، کہنا ہے کہ تقرر کے منتظر افسران کو تعینات کرنے کے بجائے اب ایک بار پھر پہلے سے مختلف اسامیوں پر تعینات افسران کو اضافی چارج دیے جا رہے ہیں جبکہ ساتھ ہی عدالت عظمیٰ کے احکامات کے خلاف کرپشن اور نیب کے مقدمات میں ملوث افسران کو تعینات کیا جا رہا ہے۔

ایڈمنسٹریٹر لئیق احمد خود رواں ماہ مسعود عالم سمیت دس افسران کو بلدیہ عظمیٰ سے فارغ کرنے کا حکم دے چکے تھے۔کراچی میٹرو پولیٹن کارپوریشن کے ذرائع کا کہنا ہے کہ 4 جنوری کو مجاز اتھارٹی کی منظوری سے سینئر ڈائریکٹر ایچ آر ایم جمیل فاروقی نے 5 افسران کو اضافی چارج دینے کے احکامات جاری کیے۔

خیال رہے کہ جمیل فاروقی خود ڈائریکٹر ویٹرنری کا اضافی چارج گزشتہ دو سال سے اپنے پاس رکھتے ہیں حالانکہ عدالت کے حکم پر ان کی گریڈ 19 سے 18 میں تنزلی بھی کردی گئی تھی۔ سینئر ڈائریکٹر ایچ آر ایم کے دستخط سے جاری ہونے والے نوٹیفکیشن کے مطابق محکمہ انٹر پرائزز و انوسٹمنٹ پروموشن ( ای آئی اینڈپی) میں عبدالقیوم کو سینئر ڈائریکٹر مقرر کیا گیا ہے حالانکہ یہ مبینہ طور پر اس محکمے کا درست نام بتانے کی بھی صلاحیت نہیں رکھتے۔

ان کی پوسٹ پر تعینات عقیل بیگ کو ڈائریکٹر ایڈمن اینڈ اکاؤنٹس ویٹرنری ڈپارٹمنٹ تقرر کیاگیا جبکہ گریڈ 18 کے افسر کمال الدین کو محکمہ ای اینڈ آئی پی میں ڈائریکٹر تعینات کیاگیا ہے۔ ان کے بارے میں پتا چلا ہے کہ وہ مبینہ طو پر محکمہ فشریز کے ملازم ہیں مگر ان کا تقرر مبینہ طور پر سیاسی اثر و رسوخ کی وجہ سے ڈیپوٹیشن کی بنیاد پر کے ایم سی میں کی گیا ہے۔

آفتاب مجدد کو ڈائریکٹر میونسپل ہیلتھ سروسز اور سید محمد طٰہٰ چیف انجینئر مقرر کیاگیا جبکہ سینئر ڈائریکٹر کوآرڈینیشن کی خلاف قانون اسامی پر متعین گریڈ 20 کے متنازع افسر مسعود عالم کو ایک بار پھر سینئر ڈائریکٹر میونسپل سروسز مقرر کیا گیا ہے۔

حالانکہ مسعود عالم مبینہ طو پر پورے محکمہ میونسپل سروسز کو انتظامی اور مالی نقصان پہنچانے کا الزام عام ہے۔ وہ 2009 ء تا 18 اسی پوسٹ پر رہ کر محکمہ کے اہم ترین شعبے فائر بریگیڈ کا تباہ کرچکے تھے جس کی وجہ سے 48 فائر ٹینڈرز اور 3اسنارکل خراب ہو کر صرف 8 فائر ٹینڈرز اور ایک اسنارکل باقی بچے تھے جو اب موجود قائم مقام چیف فائر آفیسر مبین احمد کی کوشش کی وجہ سے 14 ہوچکے ہیں تاہم جلد ہی فائر بریگیڈ میں 50 نئے فائر ٹینڈرز کے اضافے پر مسعود عالم دوبارہ محکمہ فائر بریگیڈ پر نظریں گاڑھے ہوئے ہیں۔

خیال رہے کہ مسعود عالم کے خلاف نیب کی تحقیقات بھی جاری ہیں، یہ بھی یاد رہے کہ عدلیہ، نیب ودیگر تحقیقاتی اداروں کی زد میں موجود افسران کو پوسٹوں سے ہٹانے کے احکامات دے چکی ہے جبکہ ایڈمنسٹریٹر لئیق احمد خود رواں ماہ مسعود عالم سمیت دس افسران کو بلدیہ عظمیٰ سے فارغ کرنے کا حکم دے چکے تھے۔لوگوں کو حیرت ہے کہ ایڈمنسٹریٹر خود اپنے تحریری حکم کی کیسے خلاف ورزی کررہے ہیں ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *