پنجاب اسمبلی :پروڈکشن آرڈراختیار سپیکر کو دینے کا فیصلہ

پنجاب اسمبلی کی خصوصی کمیٹی تین نے بڑے فیصلے کرلئے ،کمیٹی نے سپیکر پنجاب اسمبلی کو کسی بھی رکن کے پروڈکشن آرڈر جار ی کرنے کا اختیار دینے کا فیصلہ کرلیا جبکہ کمیٹی نے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی اور سٹینڈنگ کمیٹیوں کی بھی تشکیل نو کا فیصلہ کیا ہے

پنجاب اسمبلی کے قواعد و ضوابط میں تبدیلی کے لئے قائم کردہ خصوصی کمیٹی 3 میں حکومت اور اپوزیشن میں سپیکر پنجاب اسمبلی کو کسی بھی رکن کے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے کااختیاردینے پر اتفاق ہوگیا ، خصوصی کمیٹی تین کے اجلاس میں سٹیڈنگ کمیٹی کے اراکین تعداد 10 سے بڑھا کر11 کرنے اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اراکین کی تعداد 13سے بڑھا کر17 کرنے پر بھی اتفاق ہوا ہے

اس کمیٹی کی سفارشات پیر کو پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں پیش کی جائیں گی ،اس حوالے سے وزیر قانون پنجاب بشارت راجہ پیر کو اجلاس میں پنجاب اسمبلی کے قواعد1997کے قاعدہ244A کے حوالے سے تحریک پیش کریں گے ، پنجاب اسمبلی کی منظوری سے کمیٹی کی تین سفارشات کو پنجاب اسمبلی کے قواعد کا حصہ بنایا جائے گا ۔

دوسری طرف پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن نے تحریری طو رپر مطالبہ کیا ہے کہ سرکاری عہدے کو منافع بخش مقاصد سے روکنے کے مسودہ قانون میں ترامیم کی جائیں ، اپوزیشن نے پریوینٹیشن آف کنفلیکٹ آف انٹرسٹ بل ( سرکاری عہدے کو منافع بخش مقاصد سے روکنے کے مسودہ) میں اپنی ترامیم پنجاب اسمبلی میں جمع کرادی ہیں جنہیں پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں پیش کردیا جائے گا.

ان ترامیم میں کہاگیا ہے کہ کمیشن خفیہ طو رپر مشاورت وزیر اعلیٰ کے علاوہ اپوزیشن لیڈر کو بھی دے ،اپوزیشن نے اپنے ترمیمی مطالبہ میں کہا کہ شکایت کنندہ کی اگر شکایت جھوٹی ثابت ہوتو اس کے خلاف کارروائی کی جائے اور جھوٹی شکایت کرنے والے کو 50 ہزار روپے تک جرمانہ کیا جائے ،اپوزیشن نے مزید مطالبہ کرتے ہوئے کہاہے کہ اس قانون کے تحت قائم کردہ کمیشن نے جس شخص کو اس قانون کی خلاف ورزی کا مرتب قراردیا ہے اس کا عوامی سطح پر اعلان کیا جائے اور مجازاتھارٹی کو اس کی خلاف قانون اقدام کے بارے آگاہ کیا جائے ۔

مجوزہ ترامیم مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کی طرف سے مشترکہ طو رپر پنجاب اسمبلی سیکرٹریٹ میں جمع کرادی گئی ہیں ان ترامیم پر 40 سے زائد اراکین کے دستخط موجود ہیں،اسی طرح اپوزیشن نے دی پنجاب سکلز ڈویلپمنٹ اتھارٹی بل میں چیئر پرسن کے تقررکے لئے نئے مطالبات بھی کئے ہیں ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *