اسرائیل تسلیم کرنے کا مسئلہ اور شیرانی بیانیہ : پانچویں قسط

تحریر : بشیر احمد قریشی

شیرانی بیانیہ پیش کرنے کے بعد سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اسرائیل کو تسلیم کرنے میں پاکستان کا مفاد کیا ہے ؟۔ یا محض بین الاقوامی ایجنڈا سمجھ کر اسرائیل تسلیم کر لینا عقلمندی ہے ؟ ۔ اسلامی مسئلہ پچھلے اقساط ذکر ہو چکا ہے اور مسلمانوں کے عقیدے کے مطابق یہ اٹل ہے کہ بیٹ المقدس مسلمانوں کا قبلہ اول اور بنی کے فرمان کے مطابق مقدس علاقوں میں شامل ہے ۔

آنے والے اقساط میں سیاسی حوالے سے اور پاک اسرائیل خارجی تعلقات اور تسلیم کرنے کے مسئلے پر بحث ہو گی ۔ اس سے قبل ہمیں پاکستان سے کم و پیش ایک سال عمر میں چھوٹا اسرائیل کے قضیے کو سمجھنے کی ضرورت ہے ۔ اسرائیل کے لفظی معنی کشتی کے ہے اور یہودیوں کے کتاب مقدس The Holy Sepulchre میں اسرائیل کا مطب خدا سے کشتی کرنے والا بتایا گیا ہے ۔

عیسائیوں کے تحریف شدہ بائبل میں اسرائیل کا مطلب ” جو خدا سے زور آزمائی کرے ” لیا گیا ہے ۔ جس کے انگریزی الفاظ یوں ہیں ۔ He Who Striveth With God ۔ بائبل کی کتاب ہوسیع کے باب میں حضرت یعقوب علیہ السلام کے بارے میں لکھا ہے کہ اس نے اپنی جوانی میں خدا سے کشتی لڑا پھر فرشتے سے بھی کشتی کی اور غالب رہا ۔

جبکہ یہودی روایات میں ہے کہ ہمارے مورث اعلیٰ حضرت یعقوب سے خدا نے رات بھر کشتی لڑی جو صبح تک جاری رہی ، اللہ پھر بھی اسے پچھاڑ نہ سکا ۔ جب صبح ہوگئی تو اللہ نے ان سے کہا اب مجھے جانے دے تو انہوں نے جواب دیا میں تجھے اس وقت تک جانے نہیں دونگا جب تک تو مجھے برکت Blessings نہ دے ۔ اللہ نے کہا تمھارا نام کیا ہے انہوں نے کہا یعقوب اللہ نے فرمایا آئندہ تیرا نام اسرائیل ہو گا کیونکہ تو نے خدا اور آدمیوں کے ساتھ زور آزمائی کی اور ان پر غالب آ گیا۔

مذید پڑھیں :سیاسی اور تاریخی جائزے

تاریخی اعتبار سے اسرائیل حضرت یعقوب علیہ السلام کا لقب ہے ۔ انہیں یہ لقب ایک پراسرار دشمن کے ساتھ کشتی لڑنے کے بعد ملا ۔اسی لئے حضرت یعقوب کو اسرائیل بھی کہا جاتا ہے ۔ تاریخ کے مطابق یہودی بہت بعد کی پیداوار ہے ۔ یہودیوں میں کوئی نبی بھی نہیں اترا بنی اسرائیل کے انبیاء میں بھی کوئی یہودی نہ تھا اور نہ اس زمانے میں یہودیت پیدا ہوئی تھی ۔ یہودیت ایک خاندان سے منسوب ہے اور حضرت یعقوب کے چوتھے بیٹے یہوداہ کے نسل سے ہے ۔

حضرت سلیمان علیہ السلام کی وفات کے بعد جب ان کی سلطنت کے دو ٹکڑے ہو گئے تو ایک ٹکڑے پر یہ خاندان قابض ہو گیا اور ان کی ریاست یہودیہ کے نام سے مشہور ہوئی۔ دوسرے ٹکڑے پر بنی اسرائیل کا دوسرا قبیلہ قابض ہو گیا اور ان کی ریاست سامریہ کہلانے لگی بعد ازاں اسیریا اور سامریہ میں تصادم ہوا اور اسیریا غالب آیا اور بعد میں اسیریا نے اسرائیل کے دیگر قبائیل کو بھی ملیامیٹ کر دیا ۔

اس تصادم کے بعد صرف یہوداہ اور بن یابین کی نسل بنی اسرائیل میں باقی رہی چونکہ یہوداہ قبیلہ غالب تھا جس کی وجہ سے یہودی معروف رہے ۔ یہوداہ قبیلے کے اندر کاہنوں ، ربیوں اور احبار نے اپنے اپنے خیالات اور رجحانات کے مطابق رسوم اور عقائد مل کر یہودیت کہلانے لگا ۔ چونکہ یہودیوں میں سب کے سب اسرائیلی نہ تھے بلکہ مختلف عقائد کے افراد نے یہودیت اختیار کی تھی اسی لئے قرآن نے بھی یہودیوں کو الگ کر کے ” الزین ھادوا ” ( یعنی اے لوگوں جو صرف یہودی بن کر رہ گئے ) ذکر کیا ہے ۔

مذید پڑھیں :کراچی میں مظلوموں کی حمایت کے دھرنے 2 روز سے جاری

بائبل کے مطابق خدا وند نے حضرت اسحاق اور حضرت یعقوب کی اولاد کو اسرائیل دینے کا وعدہ کیا تھا جو ارض موعودہ کہلاتا ہے اور عبرانی زبان میں ارتز یسرائیل کہا جاتا ہے ۔ یہودی عیسائی فکر و فلسفہ میں اسے ارض اسرائیل کا جملہ استعمال کیا جانے لگا یعنی اسرائیلیوں کا وطن ۔ افسوس اس بات پر ہے کہ اسی ارض اسرائیل کا فلسفہ مولانا شیرانی صاحب نے بھی اپنے بیانیہ میں پیش کر دیا ہے۔

ارتزیسر ائیل ( ارض اسرائیل ) کا محل وقوع کے حوالے سے تناکا یعنی عبرانی بائبل جسے عیسائی عہد نامہ قدیم The Old Testament کہتے ہیں میں ارض اسرائیل کے حدود کے بارے میں متعدد بیانات ملتے ہیں ۔ ان بیانات کے مطابق ارض اسرائیل مصر کے دریا سے دریا فرات علاقے پر محیط ہے ۔یعنی موجودہ غربی کنارہ ، غزہ کی پٹی شام اور لبنان شامل ہیں ۔ ان علاقوں کے علاوہ جزیرہ نمائے سینائی کو بھی ارض اسرائیل میں شامل کیا جاتا ہے ۔ یہودیوں کا عقیدہ کے مطابق مصر سے بنی اسرائیل کی ملک بدری اسی راستے سے ہوئی تھی ۔

جاری ہے ۔ ۔ ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *