چلے چلو کہ منزل ابھی دور ہے

تحریر : نظام الدین ندامانی

یہ دنیا تضادات کا مجموعہ ہے ۔ اس میں تضادات ہی نظر آتے ہیں ، لیکن تضادات کی ہی حکمت ہیکہ اس سے اشیاء پہچانی جاتی ہیں ۔ جیسا کہ مشھور عربی مقولہ ہے ’’یعرف الاشیاء باضدادھا‘‘ کہ چیزیں اپنے ضدوں سے ہی پہچانی جاتی ہیں۔  یھی فلسفہ کہ اگر بھوک نہ ہوتی تو شکم سیری کی قدر کوں کرتا ، جھل نہ ہوتا تو حصول علم کےلیے زانوئے تلمذ ہو کے سختیاں کون برداشت کرتا ۔

جب یہ دنیا تضادات سے بھری پڑی ہے تو اس میں رہنے والے اشرف المخلوقات حضرت انسان پر بھی ان تضادات کا اثر پڑھتا ہے کہ اس میں بسنے والے افراد مختلف الطبائع ہیں ۔ اب اس متضاد دنیا مین کوئی آدمی جب کسی منزل کوپانے کے لیے یا ذاتی، معاشرتی، علاقائی، قومی، ترقی کے لیے رخت سفر باندھتا ہے تو مجموعہ تضادات میں بسنے والے متفاوت الطبائع لوگ سامنے آتے ہیں ۔

بعض حلیم الطبع شیرین ہوتے ہیں، وہ لوگ اس جد و جہد میں شریک ہو جاتے ہیں یا داد کی تھپکی سے حوصلہ افزائی بڑھا کر آگے بڑھنے کے عزم کو مصمم کر دیتے ہیں ۔ یھی اچھی خصلت ہے کار خیر میں رفیق بنو  ۔ اگر یہ بھی نہیں کر سکتے کم از کم فریق بننے کے اچھا ہیکہ خاموش ہو کے بیٹھ جائو  ۔(خیر آج کے معاشرے میں ایسے لوگ کم پائے جاتے ہیں لیکن انکی قلت تعداد بھی معاشرہ کی اچھی کھیپ ہے کہ اس معاشرہ سلجھانے والے کے لیے ان کی خاموشی بیاں بھی آجکل کے دور میں اس کار خیر میں ایک شراکت ہے ۔

بعض لوگ ایسے ہیں کہ ان کی صرف منفی پھلو پہ ہی نظر ہوتی ہے۔ ننانوے خوبیوں والے کی ایک خامی پہ ہی ان کی نظر ہوتی ہے ۔ ایسے لوگ ترقی کی راہ پہ چلنے والے مسافر کے لیے حوصلہ شکن ، دنداں شکں ثابت ہوتے ہیں ۔ اس کے کام کے شروع ہوتے ہیں ہی ان لوگوں کے تنقیدی تیر، طنزیہ نشتر، خوبیوں پہ تجاھل عارفانہ کیطور پہ سوالوں کی بوچھاڑ ایسے لوگ نہ خود کچھ کرتے ہیں ، نہ کسی کو کچھ کرنے دیتے ہیں ، بعض لوگ درمیانی طبعیت کے ہوتے ہیں ۔ اعتدال انکے فطرت ثانیہ بن جاتا ہے یہ بھی دوسرے فریق سے اچھے ہیں ۔

مذید پڑھیں :سیاسی اور تاریخی جائزے

اب ترقی کے لیے کمربستہ شخص جو ہوتا ہے اس کو ان تمام طبیعتوں کا سامنا کرنا پڑھتا ہے ۔ لہذا اسے چاہئیے کہ ان تمام طبعیتوں لحاظ کرے ، مصلحین تو ترقی لے لیے مزید ایک سیڑہی فراہم کرتے ہیں ۔ معتدلین رکاوٹ نہیں بنتے ہیں ۔ ناقدین جو ہیں اصل یہ امتحان ہیں ۔ بعض لوگ یھاں ہار جاتے ہیں ۔ تنقیدی تیروں کی یلغار سے مجروح ہو کر رہ جاتے ہیں  ۔ بعض ان تیروں سے اوپر اڑاں دیتے ہیں ۔ کھیں یہ اس کو چھبتے بھی نہیں ۔ بعض ان تیروں سے مجروح ہو کر بیٹھ جاتے ہیں ۔

ایسے اجباب کی خدمت میں التماس ہے کہ ان ناقدین کے تنقیدی نشتروں کو دیکھ کے مجروح ہو کے حوصلہ مت ہارئیے بلکہ انکی بیحودہ و لغو بکواس کو ردی کی ٹوکری میں پھینک کے آگے بڑھئیے ۔ اگر یھاں آپ حوصلہ ہار کے بیٹھ جائیں گے تو آپ کا بیٹھنا درحقیقت اس ناقد سے تعاون ہو گا  ۔لہذا اس کی پروہ کئیے بغیر اپنے مقاصد کے حصول کے لئیے سفر جاری رکھئیے ۔ ضرور بضرور کامیابیاں آپ کے قدم کا بوسہ لین گی ۔ آپ کے عظیم مقاصد حاصل ہو جائیں گے ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *