ڈاؤ یونیورسٹی کی جانب سے انوکھے آن لائن امتحانات کا انعقاد

ڈاؤ یونیورسٹی

کراچی : ڈاﺅ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز(ڈی یو ایچ ایس )نے انوکھے آن لائن امتحان لینے کا تما م جامعات کے رکارڈ توڑ دیئے ۔

امیدواروں کو نا سلیبس پڑھایا گیا ، نہ آن لائن کلاسز کا انعقاد ہوا، نہ فزیکلی کلاسز لی گیئں ۔ ڈاﺅ کے ناظم امتحان کے اس انوکھے طریقہ سے نہ امتحانی مرکز مقرر کیا گیا، نہ پیپرز ایکسٹرنل کے ہاتھوں بھیجے گئے اور نا ہی انویجیلیٹرز کی ضرورت پڑی ۔ امیدوار دنیا کے کسی بھی جگہ رہ کر انٹرنیٹ ، کتابوں اورمضمون کے ماہرین سے مشورہ لیکر سوالات کے جوابات حل کر سکتے ہیں۔

50 ایم سی کیو ایس کو حل کرنے کے لیے 90 منٹ کا وقت بھی مقرر کر دیا۔ شعبہ نرسنگ کے پوسٹ آر – این بی ایس سی این کے 16 سالہ ایکوئیلینس (گریجوئیٹ ) کے لیے گئے ۔ تین لازمی (کمپلسری ) سبجیکٹس میں سے مطالعہ پاکستان اور اسلامیات اور اخلاقیات کے پیپرز میں امیدواروں نے انٹرنیٹ ، کتابوں اور مضمون کے ماہرین کی مدد سے پرچہ حل کیا ۔

ڈاﺅ یونورسٹی کے وائس چانسلر پرفیسر ڈاکٹر محمد سعید قریشی بھی اس انوکھے امتحان لینے سے لاعلم نکلے ، وی سی کا کہنا ہے کہ مجھے ناظم امتحان کے اس طریقے کے امتحان لینے کے متعلق بریف نہیں کیا ۔ استاتذہ کا کہنا تھا کہ اگر امتحان لینے کا یہ طریقہ تھا تو یونیورسٹی کو 70 امیدواروں کو رضاکارانہ ہی لازمی سبجیکٹس میں پاس کر دیتے ۔ استاتذہ کا کہنا ہے کہ کرونا کی آڑ میں یونیورسٹی انتظامیہ کی نا اہلی سامنے آئی ہے ۔

پاکستان نرسنگ کونسل ( پی این سی ) کے تسلیم شدہ انسٹی ٹیوٹ سے نرسنگ کے دو سالہ ڈگری پروگرام پوسٹ آر او – این بی ایس سی این کو ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی ) نے سولہ سال ایجوکشن ( گریجوئیٹ ) کو تسلیم کرنے سے انکار کیا تھا ۔ مذکوہ پروگرام کو ایچ ای سی نے 14 سالہ پروگرام قرار دیا تھا ۔

جس کے بعد پی این سی اور ایچ ای سی کی حکام بیٹھ کر اس بات پر متفق ہوئے جو طلبہ دوسا لہ پوسٹ آر این بی ایس سی نرسنگ ڈگری پروگرام کو 16سال ایکوئیلینس کروانے کےخواہش مند ہیں ، اسے تین کمپلسری (لازمی ) سبجیکٹس میں امتحان دینا ہو گا ۔ لازمی سبجیکٹز میں اسلامیات یا اخلاقیات (غیر مسلم کے لیے ) مطالعہ پاکستان اور انگریزی کے مضمون شامل ہیں ۔

اس ضمن میں پاکستان نرسنگ کونسل(پی این سی ) کے تسلیم شدہ انسٹی ٹیوٹ کی درخواست پر منسلک جامعات نے دو سا لہ پوسٹ آر این بی ایس سی نرسنگ ڈگری پروگرام کو 16سال ایکوئیلینس کے تین سبجیکٹس لینے کے رضامند ہو گئے ۔

مزید پڑھیں:میٹرک بورڈ، نہم جماعت کے امتحانی فارم جمع کرانے کی تاریخ میں توسیع

ڈاﺅ یونیورسٹی نے اپنی جانب سے تین لازمی سبجیکٹس لینے میں اپنی نا اہلی دکھا دی ۔ کروناوائرس سے متعلق ایس او پیز پر عملدرآمد کرتے ہوئے امتحان لینے کا انوکھا طریقہ دریافت کر لیا ۔ تین لازمی سبجیکٹ کے امتحا ن لینے لے لیے امیدواروں کو نا سلیبس پڑھایا گیا ، نہ آن لائن کلاسز کا انعقاد ہوا، نہ فزیکلی کلاسز لی گیئں ۔ڈاﺅ کے ناظم امتحان کے اس انوکھے طریقہ سے نہ امتحانی مرکز مقرر کیا گیا، نہ پیپرز ایکسٹرنل کے ہاتھوں بھیجے گئے اور نا ہی انویجیلیٹرز کی ضرورت پڑی ۔ امیدوار دنیا کے کسی بھی جگہ رہ کر انٹرنیٹ ، کتابوں اورمضمون کے ماہرین سے مشورہ لیکر سوالات کے جوابات حل کر سکتے ہیں ۔

50 ایم سی کیو ایس کو حل کرنے کے لیے 90 منٹ کا وقت بھی مقرر کر دیا ۔ منگل اور بدھ کو کو شعبہ نرسنگ کے پوسٹ آر- این بی ایس سی این کے 16سالا ایکوئیلینس کے لیے گئے تین لازمی (کمپلسری ) سبجیکٹس میں سے مطالعہ پاکستان اور اسلامیات اور اخلاقیات کے پہلے پیپرز امیدواروں نے انٹرنیٹ ، کتابوں اور مضمون کے ماہرین کی مدد سے پرچہ حل کیا۔

ڈاﺅ یونورسٹی کے وائس چانسلر پرفیسر ڈاکٹر محمد سعید قریشی بھی اس انوکھے امتحان لینے سے لاعلم نکلے، وی سی کا کہنا ہے کہ مجھے ناظم امتحان کے اس طریقے کے امتحان لینے سے متعلق بریف نہیں کیا۔ ڈاﺅ کے استاتذہ کا کہنا تھا کہ اگر امتحان لینے کا یہ طریقہ تھا تو یونیورسٹی کو 70 امیدواروں کو رضاکارانہ ہی لازمی سبجیکٹس میں پاس کر دیتے ۔ استاتذہ کا کہنا ہے کہ کرونا کی آڑ میں یونیورسٹی انتظامیہ کی نا اہلی سامنے آئی ہے۔

امیدوار کا کہنا ہے کہ ڈاﺅ یونیورسٹی کے شعبہ امتحان کی جانب سے ای میل پر لنک بھیجا گیا، اسی لنک میں ہر امیدوار کی آئی ڈی ایڈریس اور پاسورڈ دیا گیا۔ دیے گئے آئی ڈی سے امدوار کہیں بھی بیٹھ کر امتحان دے سکتا ہے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *