سال کی پہلی شام تھی اور میں تنہا تھا

کلام : وجیہ ثانی
یکم جنوری ۲۰۲۱

سال کی پہلی شام تھی اور میں تنہا تھا
ویرانی ہر گام تھی ۔۔ اور میں تنہا تھا

 

دوست بنائے میں نے کتنے سارے دوست
کوشش یہ ناکام تھی اور میں تنہا تھا

ہوٹل کی ایک میز پہ سِگرٹ اور چائے
وہ بھی برائے نام تھی اور میں تنہا تھا

بھیڑ میں مجھ سے ملنے آئی ۔۔۔ تنہائی
وہ میرا انجام تھی ۔۔ اور میں تنہا تھا

بستر پر پہلو میں لیٹی ۔۔۔ خاموشی
مصروفِ آرام تھی اور میں تنہا تھا

ایک غزل نے رات گئے سرگوشی کی
دوست نہیں تھی کام تھی، اور میں تنہا تھا

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *