وقف املاک ایکٹ 2020 کیا ہے ؟

اسلام آباد : وقف املاک ایکٹ 2020 کیا ہے ؟

وقف املاک ایکٹ 2020ء کی شکل میں پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ عجلت میں، بیرونی ایما پر ایسی قانون سازی کی گئی جو قرآن و سنت، شریعت اسلامیہ، آئین پاکستان اور بنیادی انسانی حقوق کے سرا سر منافی ہے۔ اس ایکٹ کے جو بھیانک اثرات و نتائج سامنے آئیں گے ۔ اس کا آج صحیح طرح اندازہ نہیں لگایا جاسکتا۔ اس ایکٹ کی وجہ سے تمام اسلامیان پاکستان بالخصوص دین کا درد رکھنے والوں میں تشویش و اضطراب کا پایا جانا ایک فطری عمل ہے۔ تمام مکاتب فکر کے وابستگان نے دین دشمنی پر مبنی اس ایکٹ کو ختم کروانے کے لیے تحریک تحفظ مساجد و مدارس اسلام آباد کے قیام کا فیصلہ کیا اس سلسلے میں سب حضرات نے شب و روز محنت کی، تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے حضرات کو معاملے کی سنگینی سے آگاہ کیا ۔

قومی سیاسی جماعتوں کے قائدین سے ملاقاتیں کیں، اتحاد تنظیمات مدارس کی قیادت سے رہنمائی لی اور بڑے منظم انداز سے وفاقی دارالحکومت میں بالخصوص اور دیگر تمام علاقوں میں بالعموم تحریک کو مرحلہ وار آگے بڑھایا۔ مساجد و مدارس کے تحفظ کی اس محنت کے سلسلے میں جہاں دیگر کئی اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں وہیں شعور و آگہی اور رائے سازی پر بھی کام ہو رہا ہے۔ یوں تو وقف ایکٹ پر بہت کچھ لکھا گیا لیکن زیر نظر کتابچہ میں مختصراً وقف املاک ایکٹ کی شرعی اور قانونی حیثیت کا جائزہ اور اس کے نتائج و اثرات کا خاکہ اور مختلف مکاتب فکر کی سرکردہ شخصیات کی آراء کا خلاصہ پیش کیا جا رہا ہے ۔

اس ایکٹ کا خلاصہ آسان انداز سے سمجھیے!ایکٹ میں کوئی بھی چیز وقف کرنے سے پہلے رجسٹریشن کی شرط عائد کر دی گئی ہے ……دوسرے لفظوں میں یہ کہا جاسکتاہے کہ آئندہ کے لیے وقف کا دروازہ بندکرنے کا پورا اہتمام کر لیا گیا ……آپ جانتے ہیں کہ برسوں سے دینی مدارس کی رجسٹریشن نہیں ہو پائی، رجسٹریشن کا عمل کتنا مشکل اور پیچیدہ بنادیاگیا ہے……اول تو تا حال رجسٹریشن کا کوئی نظام وضع نہیں کیا جا سکا لیکن اگر رجسٹریشن کا کوئی نظام بن بھی جاتاہے تو ہمارے دفاتر اور بیورو کریسی کے روایتی نظام کے تحت وقف کرنے سے پہلے کے مراحل جنہیں رجسٹریشن کے سادہ اور خوشنما لفظ سے تعبیر کیا گیا وہ کبھی بھی پورے نہیں ہوپائیں گے اور رجسٹریشن کا دریا عبور کرنا ہی ممکن نہیں ہوگاچہ جائیکہ کہ وقف کی نوبت آئے ۔

مذید پڑھیں :سوپ کی آڑ میں دھندہ

یوں پہلے تو ہر کوئی وقف کرنے سے پہلے رجسٹریشن کے بکھیڑوں میں پڑنے سے کترائے گا لیکن اگر کسی نے ہمت کرہی لی تو اسے رجسٹریشن کی بھول بھلیوں میں اتنا تھکایا جائے گا کہ وہ رجسٹریشن کا بھاری پتھر چوم کر ہی لوٹ جائے گا اور کوئی چیز بھی وقف کرنے کا حوصلہ نہیں کرپائے گا یوں اس بل میں وقف سے پہلے رجسٹریشن کی شرط لگا کر وقف کے عمل پر ایک ایسا تالا ڈال دیا گیا ہے جس کے ذریعے وقف کا دروازہ ہی بند ہوجائے گا ۔ ناظم اعلی کا تقرر…سرکارکی طرف سے مقرر کردہ ناظم اعلی جملہ اوقاف کے سیاہ و سفید کا مالک ہوجائے گا اور صرف اوقاف ہی نہیں بلکہ متعلقہ جملہ امور اس کے زیر تصرف وزیرِ اختیار آجائیں گے اور وہ ایک کارپوریٹ ادارہ کے طور پر ان اوقاف کا جو حشر کرنا چاہے اس کو کلی اختیارات ہوں گے۔

ایکٹ کا پیرا نمبر 8 وقف املاک زیر اختیا ر لینا

(1) باوجود اس کے کہ کوئی بھی شئے اس کے یاکسی دیگر فی الوقتی نافذالعمل قانون یا اس میں شامل یا کسی رسم ورواج یا کسی عدالت یا دیگر اتھارٹی کی کسی ڈگری،فیصلہ یاحکم یا کسی عدالت میں زیر سماعت کسی کاروائی میں اس کے برعکس کچھ درج ہوکے منافی نہ ہو۔ ناظم اعلی بذریعہ اعلامیہ کسی وقف املاک کا قبضہ،اس کا انتظام وانصرام،کنڑول اور دیکھ بھال اپنے زیراختیار لے سکتاہے،بشرطیکہ ناظم اعلی جائیداد وقف کرنے والے شخص کی زندگی کے دوران ایسے شخص یا اشخاص کی مرضی کے بغیر ایسی وقف جائیداد کا انتظام وانصرام،دیکھ بھال اور کنڑول نہیں سنبھالے گا۔

وضاحت

اس دفعہ کے مقاصد کے لیے ”کنڑول اور انتظام“ میں وقف جائیداد کی مذہبی، روحانی، ثقافتی اور دیگر خدمات اور تقریبات (رسومات) کی ادائیگی اور انتظام پر کنڑول شامل ہو گا ۔

مذید پڑھیں :مفتی کفایت اللہ پر چھاپے میں بھائی بہنوئی اور 2 بیٹے گرفتار

(2) کوئی شخص ناظم اعلی سے پیشگی اجازت اور اس کی دی گئی ہدایات کی مطابقت کے بغیر ذیلی دفعہ (۱) میں حوالہ دی گئی خدمات یا تقریبات سرانجام نہیں دے گا۔(۳) ناظم اعلی ذیلی دفعہ (۶) یا ایسی انتظامیہ جس پر قبضہ لیاگیا ہے یا دفعہ (۷) کے تحت سنبھالا گیا ہے اپنے پاس اندراج شدہ تمام املاک کو ایسے طریق میں مرکزی ریکارڈ کو ایسے طریق پر تیار کرے گا اور بنائے گا جیسا کہ صراحت کیا گیا ہو یا سرکاری جریدے میں مشتہر کیاگیا ہوکو سنبھالے گا۔(۴)ہرمالی سال کے اختتام پر ناظم اعلی ذیلی دفعہ (۶) یا ایسی انتظامیہ جس پر قبضہ لیا گیا ہو یا دفعہ (۷) کے تحت سنبھالاگیا ہو،اندراج شدہ تمام املاک کی رپورٹ تیارکرے گا اور وفاقی حکومت کو جمع کروائے گا۔“

اس عبارت کو بار بار پڑھ کر اندازہ کیجیے کہ یہ محض ایک ایکٹ نہیں بلکہ جس طرح ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں ملیں اور کارخانے قومیائے گئے اور سب کا ستیاناس کر دیا گیا ۔ اسی طرح تمام مساجد ومدارس اور رفاہی وفلاحی اداروں کو قومیانے اور سرکاری تحویل میں لینے کی منصوبہ بندی اور تیاری کی جارہی ہے اور اللہ نہ کرے……اللہ نہ کرے …… ان اداروں کا بھی وہی حشر ہونے کا خدشہ ہے جو بھٹو دور میں ملوں اور کارخانوں کے ساتھ ہوا ۔

قید اور جرمانے کی سزا

دفعہ ۱۲ کے تحت کسی مطلوب جواب دہی میں مرضی سے قاصر رہے تواسے قید کی سزا دی جائے گی جو ایک سال سے کم نہ ہو گی مگر پانچ سال تک ہو سکتی ہے اور جرمانہ ادا کرنے کا پابند ہو گا جو کہ وقف املاک سے حاصل کردہ افادیت سے کم نہ ہو گا مگر املاک سے حاصل شدہ آمدن کی رقم کے تین گناتک ہو سکتا ہے ۔

مذید پڑھیں :خالد محمود سومرو شہیدؒ قتل کیس کی سماعت پھر 16 جنوری تک ملتوی

(۳) کوئی شخص جو دفعہ ۷ کے احکامات کے مطابق جواب دہی کے لیے نیت سے قاصر رہے یا ارادتاً کوئی معلومات چھپائے یا ناظم اعلی کو نامکمل یا غلط معلومات فراہم کرے جیسا کہ ایکٹ کے تحت مطلوب ہو تو ایسی رقم ادا کرنے کا متقاضی ہو گا . جس کا تخمینہ متعلقہ ضلعی کلیکٹر یا ناظم اعلی کی جانب سے وقف املاک کے امور تنقیح طلب کے عرصے یا پانچ سال قیدیا دونوں کے لیے،کوئی دیگر باضابطہ مجاز اتھارٹی لگائے گی“۔ جرمانے اور سز امیں صرف اسی پر اکتفاء نہیں کیا گیا بلکہ اڑھائی کروڑ کی خطیر رقم بطور جرمانہ عائد کرنے کی تلوار بھی لٹکائی گئی ہے ۔ چنانچہ ایکٹ میں درج ہے کہ ”کوئی شخص اس ایکٹ کے احکامات کی مطابقت میں یا کسی دیگر وجوہات کے لیے تعمیل کرنے میں ناکام رہے تو سزا کا مستوجب ہو گا جس کی رقم پچیس ملین تک ہو گی“ ۔

دیگر مسائل

اس ایکٹ کے پیرا نمبر ۲۴ میں درج ہے کہ ناظم اعلی اوقاف کا حکم اور فیصلہ کسی دیوانی،ریونیوعدالت یا کسی دیگر اتھارٹی کو زیر سماعت نہیں ہوگا“یہ چیز آئین کے آرٹیکل 199کے خلاف ہے۔اس ایکٹ میں اوقاف کی رقم کی نیلامی اور فروخت کا پورا نظام ذکر کیا گیا حتی کہ فصلیں تک ضبط کرنے اور عمارتیں منہدم کرنے کی بات کی گئی جب کہ شرعی طور پر وقف چیز کی خرید وفروخت یا نیلامی جائز نہیں اسی طرح شرعی طور پر وقف چیز جن مقاصد کے لیے وقف کی جائے انہیں پیش نظر رکھنا ضروری ہے ۔ جب کہ اس ایکٹ کے ذریعے وقف کی رقم کو اسکول، سڑکیں وغیرہ بنانے اور دیگر مقاصد کے استعمال کرنے کا دروازہ کھولنے کی کوشش کی گئی ہے۔

آئین کے آرٹیکل 19 میں جو فریڈم آف سپیچ کی ضمانت دی گئی اس ایکٹ کے ذریعے وہ بھی سلب کر لی جائے گی اور حکومت کی طرف سے سیاسی تقاریرکا بہانہ بنا کر کسی قسم کے وعظ پر پابندی عائد کر دی جائے گی اور من مانی اور لکھی لکھائی تقاریر کروائی جائیں گی۔اس ایکٹ کے ذریعے صرف وقف غیر منقولہ اشیاء ہی نہیں بلکہ چندہ بکسوں میں ڈالے جانے والے چندے تک بھی سرکار کی رسائی ہو گی اور اسے بھی وقف تصور کیا جائے گا ۔ چناچہ بل میں اگرچہ مزاروں کا نام لکھا گیا مدارس و مساجد کا تذکرہ تو نہیں کیا گیا لیکن عملی طورپر کل کلاں سب کو ایک لاٹھی سے ہی ہانکا جائے گا ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *