ضدی لوگ

عمران خان، دشرتھ مانجھی، آرنلڈ شوازینگر۔

تحریر: اظہر حسین بھٹی۔

”صرف ضدی لوگ ہی دُنیا میں تاریخ رقم کرتے ہیں“۔

یہ دنیا اگر آسائشوں کی آماجگاہ ہے تو اِنہی چند ضدی لوگوں کی وجہ سے ہی بنی ہے۔
نجانے یہ کون لوگ ہوتے ہیں جو دنیا سے سے الگ تھلگ سوچتے ہیں؟
کچھ عجیب سا جو ناممکن ہو ،جو مشکل ترین ہو جو سُن کے بھی لگے کہ نہیں ایسا تو ہو نہیں سکتا۔

انسان نے اگر چاند تسخیر کیا یا خلاء پہ ڈیرے ڈالے تو صرف اور صرف کچھ پاگلوں اور ضدی لوگوں کی بدولت ہی یہ ممکن ہو پایا۔

یہ کون لوگ ہوتے ہیں جنہیں دنیا کی مخالفت،لوگوں کی تنقید اُن کا مذاق اور ہر طرح کی رکاوٹیں بھی نہیں روک پاتیں۔؟
جو بس لگے رہتے ہیں جو ہمت نہیں ہارتے جنہیں بس اپنا ہدف حاصل کرنا ہوتا ہے چاہے وہ دَس ہزار کوششوں کے بعد ایک بلب کی صورت میں ہی حاصل کیوں نہ ہو۔

عمران خان۔
جو پہلے میچ میں ہی اپنی باؤلنگ اور بیٹنگ سے متاثر نہ کر سکا۔لوگوں نے خُوب تنقید کا نشانہ بھی بنایا مگر اُس نے بھی ٹھان لی کہ دنیا کا بہترین کرکٹ پلئیر بن کے دکھائے گا اور تاریخ نے دیکھا بھی کہ عمران خان دنیا کا بہترین آل راؤنڈر بن کے اُبھرا۔

پھر دوسری ضد پکڑی کہ ورلڈ کپ جیتنا ہے۔ کوئی چانسز نظر بھی نہیں آ رہے تھے مگر شاید جذبے سچے اور یقین پختہ ہوں تو کائنات بھی ساتھ دینے لگ جاتی ہے اور وقت نے کر دکھایا کہ عمران خان نے 1992 میں ورلڈ کپ جیتا۔

پھرتیسری ضد پکڑی کہ فری کینسر ہسپتال بنانا ہے ،لوگوں نے خوب مذاق بنایا کہ کسی عجیب اور پاگلوں والی باتیں کرتا ہے
ایسا ممکن ہی نہیں ہے ، جہاں دنیا میں اس کا علاج ہی ممکن نہیں ہے اور اگر ہے تو اتنا مہنگا اور یہ عمران خان وہاں فری ہسپتال بنانے کی باتیں کر رہا ہے۔
عمران خان نے لوگوں کی باتوں کو سنا نہیں یا شاید اُس کی ضد اور جنونیت کے شور میں ہی کہیں یہ ساری آوازیں دب گئیں تھیں۔
اور اس نے کر دکھایا اور لاہور میں شوکت خانم کے نام سے فری کینسر ہسپتال کھڑا کر دیا جہاں لوگوں کا اب مفت علاج ہوتا ہے

ہسپتال بنانے سے فارغ ہونے کے بعد عمران خان نے سیاست میں آنے کا فیصلہ کر لیا
اب کی بار تو اپنوں نے بھی ساتھ چھوڑ دیا ، لوگ کہتے تھے کہ سیاست تو عمران خان کر ہی نہیں سکتا
مگر وہ عمران خان تھا ،اپنی ضد کا پکا اور پیچھے نہ ہٹنے والا ،پہلی سیٹ ہارا مگر ہمت نہ ہاری اور لگا رہا اور مسلسل 22 سال کی انتھک محنت کے بعد آخر کار عمران خان پاکستان کا وزیر اعظم بن گیا

آپ عمران خان سے لاکھ اختلاف کر سکتے ہیں مگر آپ کو اس کے جذبے اس کی محنت لگن اور اپنے ہدف کو پا لینے والی ضد کو سراہنا پڑے گا

اسکی ذاتی زندگی کو ہٹ کیا گیا
کسی نے زانی کہا تو کسی نے نشئی ….کوئی چرسی کہتا تھا تو کوئی جواری ….مگر عمران خان اپنے عزم اور پختہ ارادوں سے کبھی باز نہ آیا اور ہر وہ چیز حاصل کی جس کا اس نے خواب دیکھا ۔

دشرتھ مانجھی

دشرتھ مانجھی ہندوستان کی ایک نچلی ذات موشار ذات میں پیدا ہوا اور پھاگنی نامی عورت سے اس نے شادی کی تھی

اس کے گاؤں اور شہر وزیر گنج کے بیچ ایک پہاڑ پڑتا تھا جس کی وجہ سے اگر انھیں کوئی کام ہوتا تھا تو ان کو پہاڑ کا چکر کاٹ کے شہر جانا پڑتا تھا

دشرتھ مانجھی اپنی بیوی کے ساتھ اچھی زندگی بسر کر رہا تھا کہ ایک دن اس کی بیوی ایک حادثے کا شکار ہو
گئی اور چارپائی کی ہی ہو کہ رہ گئی تھی۔

مانجھی کی یہی کوشش ہوتی تھی کہ روزانہ وہ ہسپتال لے جا کے بیوی کا چک اپ کروایا کرے لیکن ہسپتال تک جانے کے لیے یا تو پہاڑ کے اوپر سے ہو کر جانا پڑتا تھا یا پھر پہاڑ کا چکر لگا کر جانا پڑتا تھا دونوں صورتوں میں بہت وقت لگتا تھا اور راستہ نہ ہونے کی وجہ سے مانجھی کی بیوی ایک دن اس دار فانی سے کوچ کر گئی ۔

اس واقعہ نے مانجھی کو اندر تک ہلا ڈالا تھا ، جنجھوڑ کے رکھ دیا تھا اُسے۔
وہ اپنے بیوی سے بہت پیار کرتا تھا اور اس کی جدائی نے مانجھی کو جیتے جی مار ڈالا تھا ۔

اور تبھی اس کے اندر ابلتے لاوے نے ایک ضد پکڑ لی اور وہ ضد تھی اس پہاڑ کو توڑنے کی ،اسے کاٹ کے اس کے بیچو بیچ راستہ بنانے کی تا کے کوئی اور مانجھی اپنی پھاگنی سے دور نہ ہو سکے

اس نے ہتھوڑا چھینی پکڑا اور ہو گیا شروع….لوگوں نے مذاق بنایا خوب ہنسے اس پہ مگر مانجھی کے اندر کے بھڑکتے شعلے اتنی جلدی کہاں ٹھنڈے ہونے والے تھے ۔

اس کو ضدی پاگل اور پہاڑی آدمی کہا جانے لگا۔

مگر وہ ضدی تھا اور ایسے ضدی لوگوں کو اپنی ضد پورے کیے بنا سکوں بھی کہاں ملتا ہے ؟

وہ ڈٹا رہا لگا رہا اور 22 سال کی مشقت کے بعد اس نے نہ ممکن کو ممکن کر دکھایا

اس کی ضد کے آگے اونچے لمبے وشال پہاڑ نے بھی گھٹنے ٹیک دیےتھے اور مانجھی کی ضد نے بتایا کہ اگر آپ کے ارادوں میں کچھ پا لینے کی طاقت ہے تو آپ پہاڑ کا سینہ بھی چیر کے رکھ سکتے ہیں۔

آرنلڈ شوازینگر۔

اس نے کہا کہ مجھے ورلڈ چیمپئن بننا ہے …لوگوں نے کہا کہ لوکل ریسلر بن جا….مگر اس نے کہا کہ نہیں جب میں نے کہہ دیا کہ مجھے ورلڈ چیمپئن بننا ہے تو مطلب مجھے ورلڈ چیمپئن ہی بننا ہے۔

اور تاریخ اس بات کی چیخ چیخ کے گواہی دے رہی ہے کہ آرنلڈ ورلڈ چیمپئن بنا۔

پھر اس نے کہا کہ مجھے ہالی وڈ ایکٹر بننا ہے تب بھی لوگوں نے مذاق بنایا اور سمجھایا بھی کہ تمہیں تو ٹھیک طرح سے انگلش بھی نہیں آتی تو تم کیسے ہالی وڈ ایکٹر بن سکتے ہو مگر وقت نے پلٹا کھایا اور آرنلڈ نے یہ ثابت کیا کہ دنیا میں کچھ بھی نا ممکن نہیں ہے اور ہالی وڈ فلم ٹرمینیٹر کے بعد آرنلڈ ہالی وڈ کا بہترین اور جانا مانا ایکٹر بن گیا۔

یہ سنگ میل بھی عبور کرنے کے بعد آرنلڈ نے ایک نئی ضد پکڑ لی تھی اور وہ تھی گورنر بننے کی …ہمیشہ کی طرح اس بار بھی آرنلڈ نے لوگوں کی تنقید کا سامنا کیا اور سب نے یہی کہا کہ نہیں تم نہیں بن سکتے …مگر ہاں تم کونسلر بن سکتے ہو مگر آرنلڈ نے جب گورنر بننے کی ٹھان لی تھی تو وہ کونسلر تک کیسے اکتفا کرتا اور اس نے اس بار بھی اپنی جدوجہد اور پختہ عزائم سے یہ سمندر بھی پار کیا اور گورنر بن کے دکھایا۔

آپ تاریخ کے اوراق پلٹ پلٹ کر دیکھیں تو آپ کو پتہ چلے گا کہ ضدی لوگ ہی اِس دنیا کی کایا پلٹ پائے ہیں۔
عام انسانوں کی بس کی بات ہی نہیں ہے یہ۔

تو کوئی ضد بنا لو ایسی ضد کہ جسے جب تک پا نہیں لیں گے سکون سے نہیں بیٹھیں گے۔
دنیا مذاق بناتی ہے تو بنائے ، لوگ طنز کے تیر چلاتے ہیں تو چلائیں مگر آپ پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

کوئی آفت یا طوفان آپ کو آپ کے خواب آپ کے ہدف سے دور نہ کر سکے ایسی ضد بنالو۔
ایسی جنونیت کہ سوائے ہدف کے آپ کو اور کچھ بھی نظر نہ آئے۔ ایسا پاگل پن کہ اُٹھتے بیٹھتے سوتے جاگتے آپ کو ہدف اور صرف اپنے ہدف کا ہی خیال رہے۔

یقین کریں کہ آپ کامیاب ہو گئے تو لوگوں کے مشورے اور اُن کی بے تکی نصیحتیں نہیں سننا پڑیں گی۔

تو بس خُوب محنت اور لگن سے اپنے ہدف کی طرف بڑھتے رہیں۔ آپ کوشش کرنا نہ چھوڑیں اور اللہ آپ کی محنت کو رائیگاں نہیں جانے دے گا ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *