امی مجھے گلے لگا لو

امی مجھے گلے لگالو

تحریر :لطیف الرحمن لطف

 

ادیب اور لکھاری کی سب سے بڑی ذمہ داری یہ ہوتی ہے کہ اپنے دور کے احوال مستقبل کے قاری کے لیے محفوظ کرے مستقبل کا انسان اپنے ماضی کو کتاب ہی کے ذریعے جان سکتا ہے آج اگر ہم گزرے ہوئے ادوار کے بارے میں کچھ جانتے ہیں تو یہ کتاب اور لکھاری ہی کی دین ہے تاریخ کے اوراق ہی ہمیں بتاتے ہیں کہ فلاں صدی میں کیا واقعہ پیش آیا تھا اور اس واقعے نے سماج پر کیا اثرات مرتب کیے تھے ادیب اگر اپنے وقت کے اہم واقعات کو آنے والی نسلوں تک پہنچانے کی کوشش نہیں کرے گا تو یہ اس کے فرض منصبی میں بڑی کوتاہی اور خیانت شمار ہوگی آنے والے لوگ پچھلوں سے بہت کچھ سیکھتے ہیں ان کی غلطیوں سے سبق حاصل کرتے ہیں اچھائیوں کو مشعل راہ بناتے ہیں ان سے سرزد ہونے والی کوتاہیوں سے پرہیز کرتے ہیں ان کے غلط فیصلوں کو دہرانے سے گریز اور درست فیصلوں کی پیروی کی کوشش کرتے ہیں ماضی کے تجربات کی روشنی میں اپنے حال اور مستقبل کی نقشہ گری کرتے ہیں اگر ادیب اپنے دور کے سیاسی حالات، سماجی معاملات، تمدنی رویوں ، قدرتی آفات و حوادث اور لوگوں کے مزاج وعادات کو سپرد قلم نہیں کرے گا تو اگلی نسلیں ان کے بارے میں کیسے آگاہی حاصل کریں گی ان کے اچھے اور برے تجربات سے کیسے سیکھنے کی کوشش کریں گی

2020 میں کرونا نامی وباء کی صورت میں دنیا پر ایک بڑی آفت نازل ہوئی جس نے پورے خطہ ارضی کو اپنی لپیٹ میں لیا تاحال عالم انسانیت اس کے اثرات سے نہیں نکل پائی ہے ہمیں تو معلوم ہے کہ یہ وباء کیسے پھوٹی کہاں سے پھوٹی کتنے انسانوں کو نگل گئی اس کے آنے کے بعد کس طرح ایک ہنستی بستی دنیا غم کی تصویر بن گئی کیسے دوڑتی بھاگتی زندگی ساکت و جامد ہوگئی انسانوں کے قہقہے کیسے آہ وفغاں میں بدل گئے کاروں سے اٹی سڑکیں کیسے سنسان ہوئیں زندگی کا شور کس طرح سکوت شناس ہوا مصروف کاروباری مراکز کو کس طرح تالے پڑ گئے صنعتی سرگرمیاں کس طرح ٹھپ ہو کر رہ گئیں ایک دوسرے پر جان چھڑکنے والے کیسے ایک دوسرے سے دور بھاگنے لگے مسجدیں اور عبادت گاہیں کتنے عرصے تک ویران رہیں کیسے شہروں میں الو بولنے لگے آفت کی گھڑی میں انسانی رویوں میں کیا تبدیلی آئی؟؟ ذخیرہ اندوزوں نےآفت زدہ انسانوں کو بخشا کہ نہیں؟ موقع پرستوں نے لوٹ مار کا بازار گرم کیا کہ نہیں؟؟ وغیرہ وغیرہ یہ ساری باتیں ہمیں بخوبی معلوم ہیں لیکن آج سے پچاس سو سال بعد کے انسانوں کو ان چیزوں کا بالکل بھی پتہ نہیں ہوگا جب تک أج کا ادیب اپنے الفاظ سےان حالات کی عکس بندی نہ کرے اور اپنے قلم سے ان واقعات کی منظر کشی نہ کرے

ممتاز شاعر و ادیب جناب نقش بند قمر نقوی بخاری صاحب نے کرونا اور اس کے بعد پیش آنے والی صورت حال کو ایک ناول کی صورت میں مسقبل کے قاری کے لیے محفوظ کر لیا ہے "امی مجھے گلے لگا لو” کے نام سے یہ ناول ریحان کتاب گھر اردو بازار کراچی نے شائع کیا ہے محترم ناول نگار خود تو گزشتہ چالیس سال سے امریکا میں مقیم ہیں لیکن ان کا دل اردو اور اردو والوں کے ساتھ دھڑکتا ہے انگریزوں کے دیس میں رہ کر اردو ادب کی آبیاری میں مصروف ہیں اب تک درجنوں ناول اور متعدد علمی و ادبی تخلیقات منصہ شہود پر لا چکے ہیں اللہ تعالیٰ ان کی عمر اور تخلیقی کاوشوں میں برکت نصیب فرمائے ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *