100 سال سے زائد عمر پانے کے بعد مولانا حمداللہ المعروف ڈاگئی بابا انتقال کر گئے

پشاور : 100 سال سے زائد عمر پانے کے بعد مولانا حمداللہ المعروف ڈاگئی بابا انتقال کر گئے ، ڈاگئی بابا کی وفات بہت بڑا سانحہ ہے،ان کی علمی خدمات تاریخ کا روشن باب ھے،علمی و دینی حلقوں میں ان کا خلاء پر نہیں ھو سکتا۔

عالم اسلام کے ممتاز بزر گ عالم دین اور جے یو آئی ف کے سر پرست اعلیٰ شیخ القر آن والحدیث حضرت مولانا حمداللہ جان 105 سال کی عمر میں ہفتہ کی شام پشاور کے نجی اسپتال میں انتقال کر گئے۔ مرحوم کی نماز جنازہ آج اتوار کی سہ پہر دو بجے موضع ڈاگئی ضلع صوابی میں ادا کی جائے گی۔مرحوم جے یو آئی کے مرکزی رہنما ایگزیکٹو ڈائریکٹر ایکسپریس گروپ اشفاق اللہ خان، فضل اللہ (مرحوم)، ڈاکٹر انعام اللہ اور جامعہ مظہر العلوم ڈاگئی کے پیش امام مولانا لطف اللہ کے والد محترم جب کہ جی ایم سر کو لیشن ایکسپریس نیوز عمر فاروق ارشد کلیم، مظہر کلیم، بلال کلیم، ہلال اور اسد کے دادا تھے ۔

حضرت مولانا حمد اللہ جان باباجی کافی عرصے سے علیل تھے اور پشاور کے ایک نجی ہسپتال میں زیر علاج تھے۔وہ جے یو آئی کے پلیٹ فارم سے نہ صرف پاکستان بلکہ امت مسلمہ میں دین اسلام کی سر بلندی اور نظام شریعت کے نفاذ کے لئے عملی کر دار ادا کیا۔پاکستان اور افغانستان کے علاوہ کئی اسلامی ممالک میں ان کے ہزاروں کی تعداد میں شاگرد موجود ہیں۔باباجی جہاد افغانستان سے قبل افغانستان میں بھی دورہ حدیث کا درس دیتے تھے۔ وہ شیخ الہند کے شاگر د تھے جامعہ فاروقیہ کراچی میں بھی تدریس کے فرائض انجام دے چکے ہیں ۔

مذید پڑھیں :محمد علی جناح یونیورسٹی اور نیشنل سینٹر ان بگ ڈیٹا میں تعاون کو فروغ دینے کیلئے کام کیا جائے گا

جے یو آئی کے پلیٹ فارم سے صوابی کے حلقہ سے دو بار قومی اسمبلی کا الیکشن بھی لڑ چکے تھے لیکن وہ معمولی ووٹوں سے ہار چکے تھے۔وہ بلاشبہ پاکستان میں اسلامی علوم کی کہکشاں تھے، تفسیر، حدیث، فقہ، اصول فقہ، منطق، فلسفہ، مناظرہ، علم کلام، نحو و صرف، شعر و ادب یعنی علوم آلیہ اور عالیہ، دونوں میں کمال مہارت رکھتے تھے وہ تصوف کے چاروں سلسلوں میں مجاز اور فن عملیات کے بھی امام تھے۔ 1914 ان کی سن پیدائش تھی۔ حضرت مولانا حمد اللہ جان بابا جی، اپنے زمانے کے مشہور مشائخ کے شاگرد اور اونچی نسبتوں کے امین تھے ۔

انہوں نے اپنے والد علامہ عبدالحکیم اور اپنے چچا مولاناصدیق صاحب سے ابتدائی تعلیم حاصل کی، یہ دونوں بزرگ حضرت شیخ الہند کے شاگرد اور حضرت علامہ انور شاہ کشمیری کے ہم درس تھے، فنون کی کتابیں انہوں نے مولانا حبیب اللہ سے پڑھیں، مولانا حبیب اللہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ، دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک کے سابق شیخ الحدیث و صدر مفتی، مفتی فرید صاحب کے والد ماجد تھے، بابا جی نے دارلعلوم دیوبند میں کچھ عرصہ پڑھا لیکن طالب علمی کے آخری تین سال مظاہر علوم سہارن پور میں گزارے اور سن ہجری 1366 (1947) میں وہیں سے انہوں نے دورہ حدیث کیا، صحیح بخاری شریف جلد اول، شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا رحمۃ اللہ علیہ، جلد ثانی، حضرت مولانا عبداللطیف صاحب، ترمذی شریف ولی کامل مولانا عبد الرحمن کامل پوری اور سنن نسائی مولانا اسعد اللہ صاحب سے پڑھی یہ سب مشایخ حدیث اپنے دور کے مانے ہوئے اہل اللہ تھے ۔

اس وقت ان ہی نفوس قدسیہ سے مظاہر علوم سہارن پور کا گلشن حدیث آباد تھا۔مولانا حمداللہ جان باباجی نے پون صدی تک اپنے علاقہ ” ڈاگئی” مردان میں اسلامی علوم کی تدریسی اور تصنیفی خدمات انجام دیں، شعبان رمضان میں ان کے چالیس روزہ دورہ تفسیر سے بھی ہزاروں علماء نے فیض اٹھایا افغانستان میں 1997 میں امارت اسلامیہ قائمہوئی، تو اسلامی ریاست کی دعوت پر مولانا حمداللہ جان صاحب کابل تشریف لے گئے اور چند سال امارت اسلامیہ کے دارالعلوم فاروقیہ میں شیخ الحدیث اور شیخ التفسیر کے منصب پر تدریسی خدمات انجام دیتے رہے، یہاں ہزاروں علماء نے آپ سے شرف تلمذ حاصل کیا۔

مذید پڑھیں :مزار کے گرد طواف کرنے پر سجادہ نشین سمیت 5 مُرید گرفتار

2011 کے آخر میں، میں مردان گیا، تو ان کی خدمت میں بھی حاضری دی، طویل نشست رہی، آخر میں ان سے سند حدیث کی اجازت طلب کی، انہوں نے شفقت فرماتے ہوئے، صحاح ستہ اور دیگر کتب حدیث کے ساتھ ساتھ چند وظائف کی بھی اجازت دی وہ بڑی خوبصورت دینی اور علمی شخصیت تھے۔

ان کے انتقال کی خبر دنیا بھر کے دینی حلقوں میں پھیل گٸی،مولانا مرحوم کے سانحہ پہ وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے صدر مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر،ناٸب صدور مولانا انوارالحق حقانی، مفتی محمد رفیع عثمانی، ناظم اعلی مولانا محمد حنیف جالندھری، صوباٸی نظماء مولانا امداداللہ یوسف زٸی، قاضی عبدالرشید، مولانا حسین احمد، مفتی صلاح الدین ایوبی، مولانا قاری عبدالرشید، مولانا زبیر احمد صدیقی، مولانا اصلاح الدین حقانی، مفتی مطیع اللہ،مرکزی ناظم دفتر مولانا عبدالمجید،مولانا سیف اللہ نوید،مولانا عبدالمتین،چوھدری محمد ریاض،اسلام علی شاہ، مفتی محمد طیب، اراکین عاملہ مولانا ڈاکٹر محمد عادل خان، مفتی محمد نعیم، معاون صدر وفاق مولانا ڈاکٹر سعید اسکندر، میڈیا کوارڈینیٹرز مولانا عبدالقدوس محمدی، مولانا طلحہ رحمانی، مولانا سراج الحسن سمیت منتظمین و مسٶلین وفاق مولانا عبدالرزاق، مولانا قاری حق نواز، مولانا قاری زبیر احمد، مفتی اکرام الرحمن، مولانا عبیدالرحمن چترالی، مولانا محمد ابراھیم سکر گاھی، مولانا منظور احمد نے مولانا حمداللہ کے انتقال کو بڑا سانحہ قرار دیتے ھوٸے ان کی دینی ملی و ملکی روشن خدمات کو سراھاتے ھوٸے ملک بھر کے دینی اداروں میں انکے لٸے دعاٶں کے اھتمام کی اپیل بھی کی ہے .

قائدین نے وفاق نے کہاکہ ان کا خلاء پر نہیں ھوسکتا،ان کی روشن علمی ودینی خدمات کو ھمیشہ یاد رکھا جاٸے گا،میڈیا کوارڈینیٹر مولانا طلحہ رحمانی کے مطابق ان کی نماز جنازہ کل دوپہر(بروز اتوار) دو بجے بعد نماز ظہر خیبر پختون خواہ کے ضلع صوابی میں ان کے آباٸی علاقہ ڈاگٸی میں اداکی جاٸے گی،جس میں شرکت کے لٸے وفاق المدارس کی قیادت سمیت مذھبی و سیاسی شخصیات اور علماء و طلبہ کی بھی بہت بڑی تعداد شریک ھو گی ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *