اسلامی نظریاتی کونسل کوغیر فعال کردیا گیا

نظریاتی کونسل

موجودہ حکومت اسلام کے آئینی اداروں کو مکمل طور پر ختم اور غیر فعال کررہی ہے۔

وفاقی شرعی عدالت اور سودکے خاتمہ کی کمیٹی کو بھی غیر فعال کرکے اسلامی قوانین کو ختم کرنے کی راہ ہموار کی جارہی ہے ۔
موجودہ حکومت کے غیراسلامی و غیرآئینی اقدامات کے حوالہ سے تحقیق کے نتیجے میں کئ اہم امور سامنے آئے جنکا حاصل یہ ہے کہ جان بوجھ کر اسلامی و آئینی اداروں کو ختم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے تازہ صورتحال کے مطابق بارہ ارکان کی مدت ختم ہوئے ڈیڑھ ماہ گذر جانے کے باوجود نئے ارکان کا تقرر نہیں کیا گیا ۔ جس سے پتہ چلتاہے کہ موجودہ حکومت اسلامی اقدار اور آئین کے مطابق اسلامائزیشن کو ختم کرنے کی کوشش کررہی ہے ۔ ریاست مدینہ کا صرف نام استعمال کیا جاتا ہے جبکہ عملا صورتحال یہ ہے کہ اسلامی قوانین اور آئین کے مطابق بنے ہوئے اداروں کو بھی مکمل طور پر غیرفعال کردیا گیا ہے ۔

بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ سب کچھ ایک منصوبے کے تحت کیا جارہا ہے اور وہ یہ کہ ملک سے آہستہ آہستہ اسلامی احکام اور دینی اثرات والے اداروں کو یا تو ختم کردیا جائے یا انکو غیر فعال کردیا جائے اور مذھب کو صرف نام کیلئے استعمال کیا جائے اس طرح مولانا فضل الرحمن کا بیانیہ مذھبی طبقات کو اب درست لگنے لگا ہے جنکا پہلے دن سے اصرار تھا کہ یہ موجودہ حکومت مذھب پسند اکثریتی طبقات کو صرف دھوکہ دینے کیلئے مذھب اور ریاست مدینہ کا نام استعمال کررہی ہے ورنہ حقیقت میں چن چن کر مذھبی آئینی اداروں کو جان بوجھ کر ختم یا غیر موثر بنایا جارہا ہے اس سلسلے میں ذرائع کا کہنا ہے کہ حال ہی میں جن آئینی اور سرکاری دینی اداروں کو ختم یا غیر فعال اور غیر موثر کیا گیا انکی تفصیل درج ذیل ہے

(۱) سب سے پہلے اسمبلی میں ایک کمیٹی بنائ گئ جس کے بارے میں کہا گیا کہ یہ معیشت کو سود سے پاک کرنے کیلئے بنائ گئ اور اس کمیٹی کا سربراہ بھی مفتی تقی عثمانی کو مقرر کردیا گیا مگر مفتی صاحب سے جب پوچھا گیا تو انہوں نے بتایا کہ انہیں اسکا علم ہی نہیں ہے اس غیر سودی معیشت کیلئے کمیٹی 4ستمبر2020کوبنائ گئ تھی ۔ آج تقریباً چار مہینے ہوگئے پھر اسکی آواز دوبارہ نہیں سنی گئ ۔

دوسرے نمبر پر وفاقی شرعی عدالت کو غیر فعال رکھا گیا ہے اسمیں آٹھ ججز کی سیٹیں ہوتی ہیں یعنی وفاقی شرعی عدالت کے کل آٹھ جج ہونا ضروری ہیں جن میں تین “عالم جج “ ہوناقانوناضروری ہیں مگر اس وقت تینوں عالم ججزکی سیٹس خالی ہیں اور اسکی وجہ سے کئ مقدمات زیر التوا ہیں
جس پرمختلف حلقوں کی طرف سے مسلسل اعتراضات بھی کئے گئے جیسا ڈاکٹر محمد مشتاق ڈائریکٹر شرعیہ اکیڈمی انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آبادنےبھی اپنے کئ لیکچرز میں اسپر حکومت کو متوجہ کیا ہے ۔

تیسرے نمبر پر اسلامی نظریاتی کونسل کی صورتحال یہ ہے کہ 7نومبر 20 20کو اسلامی نظریاتی کونسل کےبارہ ارکان فارغ ہوچکے ہیں جن میں خود کونسل کے چئیرمین بھی شامل ہیں مگر آج ڈیڑھ مہینے سے زیادہ کا عرصہ گذر گیا ہے نئے ارکان کا تقرر نہیں کیا گیا

ذرائع کے مطابق حکومت اگر ان آئینی اسلامی عدالتوں اوراداروں کو ختم کرنے کا اعلان کرے تو اچھا خاصہ شور اور نیااحتجاجی سلسلہ شروع ہونے کا امکان ہے اور اپوزیشن کو احتجاج کا نیا جواز مل سکتا ہے بالخصوص مولانا فضل الرحمن کے علاوہ معتدل مذھبی طبقات کا بھی اسپر خاصا احتجاج سامنے آسکتا ہے لہذا ذرائع کے مطابق حکومت نے خاموشی کے ساتھ باقاعدہ ایک منصوبے کے تحت اسلامی آئینی اداروں کو غیر موثر اور غیر فعال کردینے کا فیصلہ کیاہے اور اسی منصوبے کے تحت “سودکے خاتمہ کی کمیٹی “ وفاقی شرعی عدالت اور اسلامی نظریاتی کونسل کو مکمل طور پر غیر فعال کردیا گیا ہے نیز اس سلسلے میں وفاقی وزیر فواد چوہدری کا اسلامی نظریاتی کونسل کو ختم کردینے کا بیان بھی ریکارڈ ہر ہے ۔بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ اس طرح پاکستان کے دینی قوانین کو ختم کردینے کا آہستہ آہستہ راستہ ہموار کیا جارہا ہے ۔ اگر مولانا فضل الرحمن کے علاوہ عام مذھبی طبقات اور معتدل مذھبی جماعتیں مدارس اور ادارے و دینی شخصیات نے اسپر فوری اور سخت آواز نہ اٹھائ تو یہ سازش کامیاب ہوسکتی ہے

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *