نمونیا کب اور کیوں ہوتا ہے ، اس کی علامات و وجوہات کیا ہیں ؟

نمونیا ایک ایسی بیماری ہے جس میں انفیکشن کے باعث پھیپھڑوں میں ورم آ جاتا ہے اور یہ انفیکشن بہت شدید ہوتی ہے۔ اگر بیماری پھیپھڑوں کے کسی ایک حصہ یا لوب کو متاثر کرے تو اسے لوبار نمونیا کہا جاتا ہے۔ اگر بیماری پورے پھیپھڑے میں پھیل جائے اور پاس کی جھلیوں اور سانس کو متاثر کرے تو اسے برانکو نمونیا کہا جاتا ہے۔

نمونیا ایک خطرناک بیماری ہے کیونکہ: انفیکشن کے پورے جسم پر شدید اثرات ہوتے ہیں۔ انسانی زندگی کا انحصار پھیپھڑوں کے درست کام کرنے پر ہے اور نمونیا پھیپھڑوں کو اس طرح متاثر کرتا ہے کہ وہ ٹھیک کام نہیں کرتے۔ مثال کے طور پر خوراک کی نالی یا معدے کی بیماری کی صورت میں مریض کھائے پئے بغیر کچھ عرصہ گزار سکتا ہے اور یوں متاثرہ عضو کو آرام مل جاتا ہے لیکن پھیپھڑوں کا کام کسی صورت میں رکنے والا نہیں۔ انہیں آرام نہیں مل سکتا۔ وہ صبح شام اپنا کام کرتے رہتے ہیں۔ اس لیے جب کوئی بیماری انہیں شدت سے متاثر کرتی ہے تو مریض کی موت جلدی واقع ہونے کے امکانات بہت بڑھ جاتے ہیں۔

اینٹی بائیوٹک ادویات کی ایجاد سے پہلے نمونیا انسان کو مارنے والی بیماریوں میں سرفہرست تھا۔ اس دور میں یہ ہوتا تھا کہ اگر جسمانی نظام مدافعت نے خودبخود بیماری پر قابو پا لیا تو مریض بچ جاتا تھا اور اگر بیماری حاوی ہو جاتی تو مریض کی موت واقع ہوجاتی تھی۔ آج صورت حال بہت مختلف ہے۔ ایسی ادویات دستیاب ہیں جن کے بروقت استعمال سے نمونیا کو بالکل ختم کیا جا سکتا ہے اگرچہ نمونیا آج بھی انتہائی خطرناک بیماری ہے۔ نمونیا کے مریض کو ادویات کے ساتھ ساتھ جسمانی قوت مدافعت بہتر بنانے کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ نمونیا کے جراثیم اور وائرس بہت پھیلے ہوئے ہوتے ہیں اور تقریباً ہر شخص ان کی زد میں ہوتا ہے۔ ہر شخص اس لیے نمونیا کا شکار نہیں ہوتا کیونکہ اس کے جسم میں قوت مدافعت اچھی ہوتی ہے۔ اگر کسی وجہ سے کوئی شخص کمزور ہو جائے، یا اس میں قوت مدافعت کم ہو جائے تو اس پر نمونیا کا حملہ ہو جاتا ہے۔ نمونیا عام نزلے سے شروع ہو سکتا ہے۔ کثرت بادہ نوشی سے بھی نمونیا کا حملہ ہو سکتا ہے۔ غذا کی کمی کا شکار کمزور افراد اور بچے بھی نمونیا کا جلد شکار ہو جاتے ہیں ۔ اسی طرح شدید درجہ حرارت یعنی سخت گرمی یا سخت سردی بھی نمونیا کے حملے میں معاونت کرتی ہے ۔

نمونیا کی درج ذیل اقسام ہیں۔ نیوموکاکل نمونیا: نیوموکاکس ایک جرثومہ کا نام ہے جو اس نمونیا کی بیماری کو پیدا کر سکتا ہے ، نیوموکاکس کے حملے کی صورت میں یہ علامات پیدا ہوتی ہیں : مریض اچانک بیمار ہو جاتا ہے۔ اسے شدید سردی لگتی ہے اور وہ کپکپانے لگتا ہے۔ تیز بخار میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ بخار ایک سو پانچ درجے تک بھی پہنچ سکتا ہے۔ مریض کو کھانسی ہوتی ہے اور بلغم میں خون کی آمیزش ہوتی ہے۔ مریض کی سانس لینے کی رفتار بڑھ جاتی ہے اور 40 فی منٹ تک جا سکتی ہے۔ اگر علاج نہ کیا جائے تو نمونیا کی یہ بیماری اپنا عمل دو ہفتوں میں مکمل کرتی ہے اور 30 فیصد افراد موت کا شکار ہو جاتے ہیں۔

کیا کرنا چاہیے:

ڈاکٹر کی خدمات حاصل کرنے میں تاخیر نہ کریں اور اگر ممکن ہو تو مریض کو ہسپتال میں داخل کرا دیں۔ مریض کے خون اور بلغم کا لیبارٹری میں معائنہ کرایا جانا چاہیے۔ پنسلین اور اس سے ملتی جلتی ادویات اس قسم کے نمونیا میں خاصی مؤثر ہوتی ہیں۔ مریض کی جان بچانے کے لیے بعض اوقات آکسیجن دینا ضروری ہو جاتا ہے۔ مریض کو کافی مقدار میں پانی اور مشروب کی ضرورت ہوتی ہے۔ مریض کھانے پینے کے قابل ہو جائے تو اس کی غذا میں کافی مقدار میں حیاتین یا وٹامن موجود ہونے چاہئیں اور اس میں کافی مقدار میں حرارے موجود ہونے چاہئیں۔ دوسرے جراثیم سے ہونے والا نمونیا: نیوموکاکس کے علاوہ بعض بیکٹیریا (جراثیم) نمونیا کا باعث بن سکتے ہیں۔ ان میں سٹریپٹوکاکس، سٹیفلو کاکس وغیرہ شامل ہیں۔ یہ جراثیم زیادہ تر برانکو نمونیا پیدا کرتے ہیں۔ یہ عام طور پر دوسری بیماریوں کی پیچیدگیوں کے طور پر پیدا ہوتا ہے۔ جیسے وائرل انفیکشن، انفلوئنزا۔ اس نمونیا کی پیچیدگیاں تقریباً وہی ہیں جو نیو موکاکل نمونیا میں پیدا ہوتی ہیں۔

مکسڈ نمونیا:

اس قسم کے نمونیا میں ان گنت یا متعدد جراثیم پھیپھڑوں پر حملہ آور ہو جاتے ہیں۔ اس حملے کی وجہ جسمانی قوت مدافعت میں کمی اور کمزوری کو قرار دیا جا سکتا ہے ۔ ایسے افراد جو مختلف کمزور کرنے والی بیماریوں مثلاً خسرہ، برانکائی ٹس، انفلوئنزا، ایمفائی زیما، دل کے امراض، گردے کے امراض، سرطان یا شدید چوٹ کا شکار ہوں، وہ اس قسم کے نمونیا کا شکار آسانی سے ہو سکتے ہیں۔ یہ نمونیا عام طور پر زیادہ عمر کے افراد پر حملہ کرتا ہے۔ اس نمونیا کی علامات آہستہ آہستہ ظاہر ہوتی ہیں۔ پہلے سے موجود بیماری کی علامات اسے دبا دیتی ہیں۔ مریض کو بخار ہوتا ہے، کھانسی آتی ہے اور سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے۔ کھانسی کے ساتھ بلغم خارج ہوتا ہے۔

پرائمری اے ٹیپیکل نمونیا:

بظاہر صحت مند نوجوان افراد کو یہ تکلیف ہو جاتی ہے اور عام طور پر اسے انفلوئنزا وغیرہ کا حملہ سمجھا جاتا ہے۔ تکلیف عام نزلہ زکام کی طرح شروع ہوتی ہے۔ دوسروں کو آسانی سے لگ جاتی ہے۔ شدید اور خشک کھانسی ہوتی ہے۔ بخار ہو جاتا ہے۔ گلا بیٹھ جاتا ہے اور سر درد ہوتا ہے۔ پٹھوں اور جوڑوں میں درد ہوتا ہے۔ مریض نقاہت اور کمزوری محسوس کرتا ہے۔ یہ قسم کم خطرناک ہے۔

وائرس نمونیا:

نمونیا کی یہ قسم وائرس کے حملے سے پیدا ہوتی ہے اور وائرس کی متعدد اقسام اس نمونیے کی وجہ بنتی ہیں۔ اس کی علامات اے ٹیپیکل نمونیا سے ملتی جلتی ہیں لیکن تکلیف میں یہ علامات زیادہ ہوتی ہیں۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *