کینسر امتحان ثابت ہوا.

والدہ کو لاحق کینسر امتحان ثابت ہوا

منقول : محمد ادریس علوی ایڈووکیٹ

‏آج سے چند سال پہلے قدرت نے میرا اور میرے اہل خانہ کا اک بہت کڑا امتحان لیا۔

اک ایسی چیز جس کا نام سنتے ہی انسان حواس کھو بیٹھتا ہے کینسر۔۔

میری والدہ کو کینسر ہوا۔

میں گھر کا بڑا بیٹا ہوں اور آپ لوگ اچھے سے سمجھ سکتے ہیں کے مجھ پر کیا گذر رہی ہوگی سب سے پہلے تو میں نے وہی ‏کیا جو اس وقت تقریبا پاکستان میں رہنے والا ہر شخص کرتا۔ میں ساری رپورٹس سمیت والدہ کو لیکر شوکت خانم میموریل ہسپتال لاہور گیا۔ جہاں ڈاکٹر رضوان نامی ڈاکٹر صاحب سے ٹائم ملا ہوا تھا۔ خیر قصہ مختصر ڈاکٹر صاحب نے چیک اپ کیا اور ساری رپورٹس دیکھیں۔ اس کے بعد انہوں نے میری والدہ کو ‏باہر انتظار کرنے کا کہا اور مجھے اپنے کلینک میں بلا کر بتایا کے کینسر سارے جسم میں پھیل چکا ہے اور اس کی سٹیج 4 ہے۔ جس پر میں نے ڈاکٹر رضوان کو کہا کے جناب اب اسکا علاج شروع کب تک ہوگا۔ تو انہوں نے میری طرف دیکھا اور پوچھا آپ ان کے بیٹے ہیں؟ میں نے کہا جی۔ تو وہ بولے‏کیا آپکی شادی ہو چکی ہے؟ ۔

میں نے نفی مین سر ہلایا تو انہوں نے کہا ” آپکی والدہ کے پاس 1 سے ڈیڑھ ماہ کا وقت ہے اور شوکت خانم ہسپتال سٹیج 4 کے مریض کو ٹریٹ نہیں کرتا آپ انکو گھر لیجائیں اور خوشیاں دیں۔ شادی کریں آپکی والدہ خوش ہوں گی۔ میری آنکھوں میں آنسو تھے میں نے منت والی آواز ‏میں ڈاکٹر صاحب سے کہا ۔

” سر آپ ان کا علاج شروع کریں جو بھی خرچہ ہوگا ہم وہ اٹھائیں گے ایسی بات مت کریں” لیکن ڈاکٹر نے صاف کہا ۔ یہ پالیسی نہیں ہے شوکت خانم کی اس لیئے آپ انکو لے جائیں ۔ میں نے آنکھوں سے آنسو صاف کیئے باہر گیا تو والدہ انتظار کر رہی تھیں مجھے دیکھتے ہی بولیں ‏مبین کیا کہا ڈاکٹر نے ۔ میں نے کہا کچھ نہیں وہ ابھی رپورٹس پر تھوڑا ٹائم لگائیں گے اور آپکے چند ٹیسٹس ہوں گے اور پھر ہی بتائیں گے ۔

خیر میں نے والدہ کو گاڑئ میں بٹھایا اور اپنے والد کے اک دوست (جو کے مجھے سگوں سے بھی عزیز ہیں ) کو کال کی اور ساری سیچوئیشن بتائی انہوں ‏نے مجھے گھر واپس جانے کا کہا اور میں چلا گیا۔ شام کو مجھے ان کی کال آئی اور انہوں نے کہا تم کل ساری رپورٹس لیکر پنجاب یونیورسٹی نیو کیمپس کے سامنے اور شیخ زاید ہسپتال کے بالکل ساتھ والی بلڈنگ جسکا نام ” INMOL” ہے چلے جاو۔ اور وہاں جا کر رپورٹس دکھاو ۔

میں جو کہ سمجھتا تھا کہ ‏پاکستان میں کینسر کا شوکت خانم کے علاوہ کوئی ہسپتال نہیں اگلے دن صبح انمول چلا گیا جہاں میری ملاقات ڈاکٹر نصرالسلام سے ہوئی جنہوں نے ساری رپورٹس دیکھیں اور مجھے ڈاکٹر عائشہ اور ڈاکٹر مصباح کے پاس ریفر کیا۔

جب میں ان سب ڈاکٹرز سے ملا تو انہوں نے مجھے بتایا کے حالت واقعی ‏الارمنگ ہے مگر “آپ لوگ دعا کیجیئے ہم دوا کریں گے باقی اللہ کی جو رضا ہوئی وہی ہو گا ” ان کی اس بات نے جیسے میرے دل کو سکون سا دے دیا تھا۔

اگلے روز میں والدہ کو لیکر وہاں گیا اور ڈاکٹرز نے اپنی کونسلنگ کے دوران والدہ کو یہ بات بتائی کے انکو یہ مرض ہے مگر اس طریقے سے بتائی کہ ‏میری والدہ زرا نہیں گھبرائیں اور اس امید پر کلینک سے نکلیں کے انشاللہ سب ٹھیک ہو جائے گا۔

قصہ مختصر الحمداللہ وہاں علاج شروع ہوا اور علاج مکمل ہوا۔

اللہ نے میری والدہ کو صحت دی زندگی دی اور وہ آج بھی میرے سر ہر موجود ہیں الحمداللہ۔

یہ سب لکھنے کا مقصد اپنی کہانی سنانا نہیں ‏تھا اس تھریڈ کا اک مقصد تھا جو اب شروع کرنے لگا ہوں جب مجھ پر یہ وقت آیا تو مجھے شوکت خانم کے علاوہ کسی ہسپتال کا معلوم نہیں تھا حالانکہ پاکستان میں شوکت خانم ہسپتال بن نے سے پہلے بھی کئی کینسر ہسپتال کام کر رہے تھے۔

اللہ نا کرے کے کسی پر ایسا وقت آئے مگر پھر بھی آپکو یا ‏پیاروں کو کبھی اس قسم کے حالات کو فیس کرنا پڑے تو میں اک لسٹ بنا دیتا ہوں جس میں پاکستان کے تقریبا سب ہسپتالوں کے نام اور ڈیٹیلز موجود ہوں گی۔
1) INMOL (Institute of Nuclear Medicine and Oncology) Lahore
2) CENUM (Centre for Nuclear Medicine) Lahore
3)GINUM Gujranwala
4)SKMH ( شوکت خانم ) Lahore
5)BINO Bahawlapur
6)MINAR Multan
7)PINUM Faisalabad
8)NCCI Karachi
9)Ziauddin Cancer Hospital KHI
10)The Cancer Foundation Hospital KHI
11)Bait Ul Sukon Cancer Hospital KHI
12) Agha Khan KHI
13)AEMC (Atomic Energy Medical Centre) KHI
14)KIRAN Khi
15) LINAR Larkana
16) NIMRA Jamesheoro
17) NORIN Nawabshah
18) Northwest Hopsital Peshawar
19)BINOR Bannu
20) INOR AMC Abbotabad
21) IRNUM Peshawar
22) SINOR Saidu Sharif Sawat
23) D.I.Khan Institute of Nuclear Medicine D.I.K
24) NORI (PIMS) Isb
25) Shifa International Isb
26) Quiad E Azam International Hospital Isb
27) Gilgit Institute of Nuclear Medicine and Oncology Gilgit
28) CENAR Quetta.

‏ان میں سے اکثر ہسپتال 80 کی دہائی سے کام کر رہے ہیں سپیشلی وہ جو PAEC پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے انڈر آتے ہیں پر ماں کے نام پر سیاست کرنیوالے نے بس اک پراپیگینڈا کیا کہ

” ماں کا علاج پاکستان میں کینسر ہسپتال نا ہونے کی وجہ سے نہیں کروا سکا ”
اللہ آپکو اور آپکے پیاروں کو اپنے حفظ و امان میں رکھے آمین۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *