مالی بحران کے باعث KMC تنخواہیں ادا کرنے سے لاچار

کراچی : حکومت سندھ کے محکمہ بلدیات اور خزانہ کی عدم دلچسپی کی وجہ سے بلدیہ عظمیٰ کراچی کے مالی مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے ۔ ریٹائرڈ ملازمین کے ساتھ اب 13 ہزار افسران و ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی کیلیے مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے ۔

ذرائع نے بتایا ہے کہ کیا کراچی کے 3000 افسران کو گزشتہ دو ماہ سے تنخواہیں ادا نہیں کی جا رہی اور آپ خدشہ ہے کہ نئے سال کے پہلے ماہ جنوری میں بھی تنخواہیں نہیں مل سکیں گی ۔

بلدیہ کراچی کے ایک ذمے دار ترین افسر نے بتایا کہ ماہانہ 16 کروڑ روپے کمی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چونکہ وائٹ مالیاتی کمیشن کا گزشتہ کئی سال سے اعلان نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے بلدیہ عظمی کراچی کو صوبائی حکومت سے فراہم کی جانے والی گرانٹ میں اضافہ نہیں ہوا جبکہ آمدنی میں اضافہ کے لیے کوئی اقدامات نہیں کیے گئے۔

مزید پڑھیں: بلدیاتی ملازمین کی سکروٹنی و Online تنخواہ کیلئے کمیٹی قائم

جب کہ نئی بھرتیوں کی وجہ سے تنخواہوں میں اضافہ ہوا اور صورت حال یہ ہو گئی کہ اب تنخواہ دینے کے لئے بھی پیسے نہیں رہے۔

ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلی کو مالی حالات سے آگاہ کیا گیا ہے اور ان سے بطور قرض خصوصی گرانٹ بھی مانگی گئی ہے ۔ اگر حکومت نے فوری مالی مدد نہیں کی تو نئے سال سے 13 ہزار ملازمین کو تنخواہیں ادا نہیں کی جا سکیں گی ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *

Exit mobile version