سندھ میں ڈیڑھ ہزار گھوسٹ اسکولوں کی فندنگ کا انکشاف ،

سندھ میں ڈیڑھ ہزار سے زائد گھوسٹ اسکولوں کو فنڈنگ کا انکشاف ہوا ہے ۔جب کہ وفاقی حکومت نے گزشتہ تقریباً 23 برس سے جاری 12 ہزار سے زائد کمیونٹی بیسک ایجوکیشن اسکولز کو بحال رکھنے یا بند کرنے کا معاملہ مذکورہ اسکولز کی آئندہ 6 ماہ کی کارکردگی سے مشروط کردیا ہے۔

مذکورہ اسکولوں میں سے بیشتر کا اب کوئی وجود نہیں ہے ،مذکورہ اسکولز کے سالانہ بجٹ اخراجات تقریباً 2 ارب روپے ہیں۔ اس ضمن میں باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ 1995 میں وفاقی حکومت نے شرح خواندگی میں بڑھانے کیلئے کمیونٹی بیسک ایجوکیشن اسکولز کا منصوبہ شروع کیا تھا ،جس کے تحت چھوٹے دیہات اور دیگر علاقے جہاں پر اسکولز نہیں تھے ،وہاں پر ایک کمرے کے اسکول قائم کئے گئے تھے۔ مذکورہ اسکول، اسکولز کیلئے کمرہ متعلقہ کمیونٹی کے افراد دیتے تھے اور ان اسکولز میں جو ٹیچرز بچوں کو پڑھاتے تھے ،انہیں اب تک تقریباً 8 ہزار روپے ماہانہ اعزازیے کی مد میں ملتے ہیں اور ہر اسکول کو یوٹیلٹی بلوں کی مد میں ایک، ایک ہزار روپے کے ساتھ بچوں کیلئے کتابیں فراہم کی جاتی ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ بدھ کے روز اسلام آباد میں وفاقی وزیر خزانہ عمر اسد کی زیر صدارت ایکنک کے اجلاس میں دیگر منصوبوں کے مذکورہ منصوبے کا بھی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں مذکورہ اسکول کو اب بند کرنے یا متعلقہ صوبوں کے حوالے کرنے پر بھی غور کیا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے اب کئی علاقے ایسے ہیں جہاں پر مذکورہ اسکولز کا کوئی وجود نہیں ہے۔

گزشتہ 23 برسوں کے دوران چاروں صوبوں کے چھوٹے بڑے شہروں کے ساتھ ہزاروں کی تعداد میں چھوٹے گاؤں دیہات میں سرکاری اسکول تعمیر کئے گئے ہیں ، جن میں سرکاری اساتذہ کو تعینات کیا گیا ، وہ اور بات ہے کہ ان میں سے ہزاروں کی تعداد میں اسکول بند بھی ہیں ، جن میں تدریس عمل نہیں ہوتا۔

اجلاس میں چاروں صوبوں کو کہا گیا کہ وہ متعلقہ صوبوں میں مذکورہ اسکولز کی کارکردگی کا خود بھی جائزہ لیں گے ، ان اسکولوز کی اب کوئی ضرورت ہے یا نہیں تاکہ . اس ضمن میں آنے والی رپورٹ کی روشنی میں آئندہ 6 کے بعد ان اسکولز کو بند کرنے یا بحال رکھتے ہوئے متعلقہ صوبوں کے سپرد کرنے کا فیصلہ کیا جائے۔

ذرائع نے بتایا کہ مذکورہ اسکولوں کیلئے وفاقی بجٹ سے سالانہ تقریباً 2 ارب روپے خرچ ہوتے ہیں۔ ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ ریکارڈ پر ملک بھر میں 12 ہزار سے زائد جو مذکورہ اسکولز ہیں ، ان سے سندھ میں ایسے اسکولوں کی تعداد تقریباً ایک ہزار 674 ہے ، لیکن بیشتر علاقوں میں اب مذکورہ اسکولز کا وجود نظر نہیں آتا ۔ ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ سندھ میں محکمہ تعلیم کے اسکولوں کے علاوہ کئی علاقوں میں سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن کی فنڈنگ سے مختلف کمیونٹی اور این جی اوز کے توسط سے جو اسکول چل رہے ہیں ان کی تعداد اس کے علاوہ ہے اور ایسے اسکولوں کو چلانے کیلئے سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن کیلئے حکومت سندھ سالانہ اربوں روپے کا جو بجٹ مختص کرتی ہے اس میں سے ان اسکولوں کو فنڈنگ کی جاتی ہے۔

ذرائع کے مطابق یہ بات بھی ریکارڈ پر آچکی ہے کہ خود سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن جن اسکولوں کیلئے فنڈنگ کرتی ہے ان میں سے کئی اسکولوں کا وجود نہیں ہوتا اور اس سلسلے میں کارروائی بھی کی جاتی ہے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *