سول ڈیفنس کے 50 ہزار رضاکار خود دفاع مانگنے پر مجبور

50 ہزار سول ڈیفنس کے رضاکار مفت میں خوار مالی پریشانیاں الگ، زندگی بھی غیر محفوظ ہیں ، 1965 سے آج تک تربیت یافتہ رضاکار بلا معاوضہ سرکاری امور میں حکومت کا ساتھ دے رہے ہیں ۔

گلوبل ٹائمز میڈیا رپورٹ کے مطابق بھی حکومت کی چشم پوشی نے سول ڈیفنس کے 50 ہزار رضاکار نوجوانوں کے حوصلے پست کر دیے ۔ تقسیم ہند کی تحریک میں حصہ لینے والے مسلمان نوجوانوں نے 1956 میں عوامی خدمت کے تحت حکومتی اداروں کے ساتھ مل کر رضا کارانہ طور پر اپنی خدمات پیش کی تھیں ۔

سول ڈیفنس کے رضاکار حب الوطنی کے جذبے کے تحت قدرتی آفات اور زمینی حادثات میں اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں ۔عوامی خدمت کے نتیجے میں اداروں سول ڈیفینس کے ہزاروں رضاکار زخمی سینکڑوں اپائج ہو چکے ہیں ۔ اس وقت خیبر پختون خوا میں 50 ہزار رضاکار عوامی خدمت کے جذبے سے سرشار ہوکر محکمہ پولیس ،ریسکیو کے ساتھ قدرتی آفات سمیت حکومت کے دیگر معاملات میں بھی اپنا کردار ادا کر رہا ہے ۔ فورس کے ساتھ حکومت کی جانب سے مختلف اوقات میں وعدے بھی کیے گئے ہیں ،کہ ان کی تربیت کے اخراجات اور ان کو روزانہ کے حساب سے معاوضہ دیا جائے گا ،لیکن تاحال ان کو کسی بھی سرکاری معاوضہ سے محروم رکھا گیا ہے ۔

مذید پڑھیں :بے باک و نڈر پہلی صحافی “زیب النساء حمید اللہ ”

حکومت فوری طور پر ان کو محکمہ پولیس میں ضم کریں ۔ اگر حکومت ان کی قومی خدمات کا اعتراف کا صلہ نہیں دے سکتے ۔ تو ان سے مفت کی ڈیوٹی لینے کی زحمت بھی نہ کریں ۔کیونکہ اس وقت ملک کی صورتحال میں رضاکاروں کی مالی حالات کے ساتھ ساتھ ان کی زندگی غیر محفوظ ہیں ۔

اس حوالے سے چیف وارڈن سول ڈیفنس بنوں ملک نافدخان جھنڈوخیل کا کہنا ہے کہ سول ڈیفنس کے رضاکاروں کو ہم اپنی مدد آپ کے تحت تربیت دے رہے ہیں ۔اور ہم نے تمام یونین کونسل سطح پر ایک ٹیم بناکر قدرتی آفات سمیت احساس پروگرام ،پولیو مہم ،کرونا سے بچاؤ کے لیے احتیاطی تدابیر ،اور ذیلی انتظامیہ اور پولیس کے ساتھ ملکر عوامی خدمات پیش کر رہے ہیں ۔

جہاں بھی پولیس یا کسی بھی دوسرے ادارے کو افرادی قوت کی ضرورت ہوتی ہے ۔ہم انہیں پورا کر رہے ہیں ۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ سول ڈیفنس کے رضاکاروں کو آلات سے لیس بنائیں اور ان کی زندگی کو محفوظ بنانے کے ساتھ ساتھ ان کو اعزازیہ کی ادائیگی بھی یقینی بنائے تاکہ خدمت کا یہ جذبہ بھی برقرار رہے ۔اور ہمارے رضاکاروں کی مالی پریشانیاں بھی دور ہو جائے ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *