وزیراعظم ہاؤس کیسے یونیورسٹی بن سکتا ہے؟

pm house pakistan

تحریر: رعایت اللہ فاروقی


وزیر اعظم ہاؤس کو اس درجے کی یونیورسٹی تو نہیں بنایا جاسکا جس میں شہریوں کے بچے تعلیم حاصل کرسکیں۔ مگر اسے ایک اور درجے کی یونیورسٹی بنانے کا امکان پیدا ہوگیا ہے۔

کیوں نہ ایسا کر لیا جائے کہ سلیکٹڈ اعظم اس یونیورسٹی کے قیام کا اعلان کرکے وہاں خود پولیٹکل سائنس کے طالب علم کی حیثیت سے داخلہ لے لیں۔

وہ روز وہاں ڈیڑھ ڈیڑھ گھنٹے کے چار پیریڈ پڑھیں۔ ان کے پہلے پیریڈ کے لیکچرر راجہ پرویز اشرف، دوسرے پیریڈ کے لیکچرر سید یوسف رضا گیلانی ہوں۔ ان کا تیسرا پیریڈ پروفیسر میاں محمد نواز شریف کا ہو جو تین بار کامیاب وزارت عظمی چلانے کے سبب اس باب میں پروفیسر کا درجہ رکھتے ہیں۔

چونکہ سلیکٹڈ کی مذہبی اصطلاحات والی گراریاں بھی ٹھیک طرح سے کام نہیں کرتیں جس کے سبب نہ تو وہ خاتم النبیین کے الفاظ درست ادا کرسکتے ہیں اور نہ ہی یہ جانتے ہیں کہ رحونیت نہیں درست لفظ روحانیات ہے۔ لھذا مجوزہ یونیورسٹی میں ایک چوتھا پیریڈ نورانی قاعدے اور اسلامیات کا بھی ہونا ضروری ہوگا۔ یہ پیریڈ اگر حافظ حمداللہ لیں تو خان صاحب یہ کہہ کر دسروں پر رعب بھی جھاڑ سکیں گے کہ میں نے مذہبی تعلیم ایک غیر ملکی استاد سے حاصل کی ہے۔ حافظ حمد اللہ تاحال غیر ملکی جو ہیں۔

یونیورسٹی ہذا کے ہیڈ آف دی ڈیپارٹمنٹ آصف علی زرداری ہوں تو زیادہ بہتر ہوگا۔ وائس چانسلر کے طور پر مجھے جسٹس وجیہ الدین احمد سے بہتر کوئی شخصیت نظر نہیں آتی۔ رجسٹرار کے طور پر سراج لالہ کو رکھنا مناسب ہوگا جبکہ ناظم امتحانات تو بہر صورت مولانا فضل الرحمن ہی ہوں تاکہ پیپرز ایسے بنائیں کہ خان کا تیل نکال کر رکھدیں، میرا مطلب ہے کہ خانن کا ڈیزل۔

اس عظیم یونیورسٹی کا نام "نیشنل ریڈ زون یونیورسٹی آف پولیٹیکل سائنس” رکھا جائے جبکہ اس مین گیٹ کی لوح پر درج ہو "سلیکشن نہیں الیکشن کی تعلیم” کیا خیال ہے دوستوں کا ؟ کیا عمران خان اس درسگاہ میں مذکورہ ماہرینِ وزارت عظمی و سیاسیات سے حکومت چلانا سیکھ پائیں گے یا پھر بندہ نالائق کا نالائق ہی رہے گا ؟

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *