مسلم سائنسدان نے دیگر عالمی انعام سمیت نوبل انعام کو ٹھکرا دیا تھا ، علامہ مشرقی پر دلچسپ رپورٹ

آج کل نوبل پرائز کا ہوّا کھڑا کرکے کبھی ملالہ کے اور کبھی غدار وطن عبد السلام کے گیت گائے جاتے ہیں اور باور کرایا جاتا ہے کہ یہی وہ محسن ملک و ملت ہیں، جنہیں اتنے بڑے انعام کیلئے منتخب کیا گیا۔

آج الجزیرہ نے برصغیر کے پہلے مسلم سائنسدان علامہ عنایت اللہ مشرقیؒ پر ایک تفصیلی آرٹیکل شائع کیا ہے۔ جنہوں نے صرف 18 برس کی عمر میں پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے ریاضی اول پوزیشن (1906) میں پاس کیا تھا۔ یہ ریکارڈ آج تک قائم ہے۔ پھر کیمبرج یونیورسٹی سے (1912-13) میں بیک وقت چار ٹرائی پوز آنرز رینگلر اسکالر، بیچلر اسکالر، فاﺅنڈیشن اسکالر اور مکینیکل انجینئری میں اعلیٰ پوزیشن مع وظائف حاصل کر کے دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا۔

یونیورسٹی انتظامیہ کوبرملا اعتراف کرنا پڑا کہ آٹھ سو سالہ یورپی تاریخ میں ایسا ذہین طالب علم پیدا نہیں ہوا۔ یہ ریکارڈ بھی آج تک قائم ہے۔ مصر میں مسئلہ خلافت پر عالم اسلام کی عالم آراء ہستیوں کی کانفرنس کی صدارت کرنے کے ساتھ ساتھ جب ان ہستیوں سے پُر مغز خطاب (خطابِ مصر 1926) کیا تو ان ہستیوں اور جامعہ ازہر مصر سے متفقہ طورپر ”علامہ مشرقی“ یعنی ”مشرق کے عالم“ کا خطاب دے کر آپ کی علمی صلاحیتوں کا اعتراف کیا گیا۔

انہوں نے 1952ء میں دنیا کے بیس ہزار سائنسدانوں کو ”انسانی مسئلہ‘‘ کے عنوان سے خط لکھ کر دنیاوی ترقی کو بے جان مشینوں کے چنگل سے نکال کر کائنات کو مسخر کرنے، انسانی زندگی اور اس کی روح کو کنٹرول کرنے اور دیگر کروں میں زندگی کی موجودگی کے آثار کے راز از روئے قرآن افشاں کر دیئے۔ 1902ء میں انہیں نوبل انعام، 1919ء میں کابل کی سفارت، چار ہزار روپے ماہانہ وظیفہ اور سر کے خطاب کی پیشکش، 1936ء میں ہندوستان کی ریاست کی وزارت عظمیٰ اور انگریز کی جانب سے دیگر مراعات کی پیشکشیں ہوئیں۔

مگر انہوں نے یہ سب جوتے کی نوک پر رکھ کر اپنی خودداری ثابت کی۔ علامہ مشرقی جیسی عبقری شخصیت کی خدمات اور کارناموں کیلئے ایک مفصل کتاب چاہئے۔ مشہور برطانوی کیمیادان جیمز جینز کے ساتھ ان کا مناظرہ بہت مشہور ہے۔ جس کا تفصیلی ذکر علامہ نے ’’الاسلام یتحدی‘‘ نامی اپنی کتاب میں کیا ہے۔ 18 برس انگریز کی جیل میں رہے۔ 1948 میں جہاد کشمیر میں حصہ لے کر زخمی ہوئے۔27 اگست 1963 کو انتقال ہوا اور جنازے میں دس لاکھ افراد شریک ہوئے۔ اچھرہ میں تدفین ہوئی۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *