سندھ میں NAB سے پلی بارگین کرنے والے 93 افسران کی فہرست عدالت میں پیش

کراچی : حکومت سندھ نے اپنے 93 افسران و ملازمین سمیت ان کی تفصیلات بھی سندھ ہائیکورٹ میں جمع کروا دی ہیں  جنہوں نے قومی احتساب بیورو (نیب) کے ساتھ رضا کارانہ واپسی یا التجا کا سودا کرنے کا انتخاب کیا ہے ۔

سیکرٹری خزانہ سید حسن نقوی بھی شامل ہیں ، جو محکمہ تعلیم کے سربراہ بھی ہیں ۔ سید حسن نقوی نے نیب کو 12 ملین روپے سے زیادہ کی رقم واپس کر دی ہے ۔ دائیں بینک آؤٹ فال ڈرین ( آر بی او ڈی) میں مبینہ طور پر بدعنوانی کا ارتکاب کرنے والے گریڈ 20 کے افسر سہیل بچانی نے بھی اس سودے بازی کا انتخاب کیا ہے ۔

محکمہ آب پاشی کے گریڈ 19 کے افسران چیف انجینئر سکھر سید سردار علی شاہ اور پروجیکٹ ڈائریکٹر بائیں بینک آؤٹ فال ڈرین (ایل بی او ڈی) ظہور احمد میمن نے بھی رضا کارانہ طور پر رقم واپس کر دی ہے ۔

مزید پڑھیں: مولانا فضل الرحمن NAB کو جوابات نہیں بلکہ سوالات کریں گے : ترجمان

ان افسران میں غلام مجتبی دھامرا ، حبیب الرحمٰن شیخ ، سید زاہد حسین شاہ ، سابق ڈپٹی کمشنر ٹنڈو الہ یار سید مہدی شاہ ، سیکرٹری لیاری ڈویلپمنٹ اتھارٹی (ایل ڈی اے) شاہنواز خان ، ڈپٹی سیکرٹری لیبر اینڈ ہیومن ریسورس سلیم بلوچ نے بھی درخواستِ سودا (پلی بارگین ) کا انتخاب کیا ہے ۔

گریڈ 18 کے افسران میں غلام محمود کوریجو ، محمد محبوب ، احسان علی جمالی ، آصف رحیم ، بشیر علی جمانی ، حیدر علی خواجہ ، غلام اکبر علی لاشاری ، حوض بخش ، اور عبدالوحید شامل ہیں اور گریڈ 17 کے افسران میں امان اللہ قریشی ، اختر حسین تالپور ،  عبد الجبار عباسی ، عبدالستار کھوسو اور شہید بینظیر آباد کے چھ افسران نے بھی درخواست سودا (پلی بارگین ) کا انتخاب کیا ہے ۔

سندھ ہائی کورٹ نے 2 دسمبر 2020 کو صوبائی حکومت کو رضاکارانہ طور پر واپسی یا پلی بارگین کرنے والے ملازمین کی تفصیلات پیش کرنے کا حکم دیا تھا ۔ ایس ایچ سی کے احکامات کے بعد چیف سکریٹری سید ممتاز علی شاہ نے ان افسران اور نچلے درجے کے ملازمین کا ریکارڈ طلب کیا تھا ۔ جنہوں نے نیب سے رضاکارانہ طور پر واپسی یا التجا کا معاہدہ کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے خلاف محکمانہ کارروائی کی تفصیلات اور ان کی حاضر سروس خدمات کی تفصیلات بھی طلب کی تھیں۔

مزید پڑھیں: جامعہ اردو کے NAB زدہ افسر بشیر بھگیو کو رجسٹرار بنانے کی تیاری

عدالت میں پیش کرنے کے لئے سید ممتاز علی شاہ نے آئی جی پی ، سکریٹری محتسب اور چیف منسٹر ہاؤس اور گورنر ہاؤس کے پرنسپل سیکرٹریوں سمیت تمام محکمہ کے سربراہوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ ایسے ملازمین کی تفصیلات جمع کریں جو رضاکارانہ طور پر واپسی یا التوا کا معاملہ نیب کے پاس جمع کروائیں ۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 500 کے قریب ملازمین نے یا تو VR کا انتخاب کیا ہے یا نیب سے پلی بارگین کا معاملہ کیا ہے اور ان میں سے بہت سے افراد سندھ سول سروس میں اہم عہدوں پر فائز ہیں ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *