FIA نے حوالہ ہنڈی کی تحقیقات کے بعد آصف زرداری اور اومنی گروپ کے خلاف نئے مقدمات قائم کرنے کی تیاری کرلی

ایف آئی اے میں حوالہ ہنڈی کی کارروائیوں کی تحقیقات میں سابق صدر آصف علی زرداری ،اومنی گروپ سمیت دیگر کے خلاف نئے مقدمات قائم کرنے کی تیاری شروع کردی ،وفاقی حکوت کی نئی حکمت عملی میں ایک کروڑ سے زائد رقم غیر قانونی طریقے سے منتقل کرنے والے افرادمقدمات کی زد میں آئیں گے .

حوالہ ہنڈی کی حالیہ کارروائیوں میں گرفتار اہم ملزم شکیل جعفرانی سے تحقیقات میں ایف آئی اے میں زرداری گروپ ،اومنی گروپ سمیت دیگرکے خلاف 70نئی انکوائریاں شروع کردیں ،نئی انکوائریوںکی زد میں انور مجیدکی اہلیہ اور ان کی دو بہو بھی آگئیں۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے حوالہ ہنڈی کے خلاف کارروائیوں میں نئی ایس او پی تشکیل دی ہے جس کے مطابق حوالہ ہنڈی کے کاروباد میں ملوث افراد کے خلاف تحقیقات میں ایک کروڑ سے زائد کا زرمبادلہ غیر قانونی طریقے سے منتقل کرنے والے اور جس کی رقم منتقل کی گئی ہے دونوں ایک ہی مقدمے میں نامزد ہوں گے اور دونوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی جب کہ اس سے قبل اگر کسی کے خلاف حوالہ ہنڈی کا مقدمہ درج ہوتا تھا تو حوالہ ہنڈی میں ملوث شخص کے خلاف کارروائی کی جاتی تھی جب کہ جس کی رقم تھی اس کے خلاف زیادہ تر کارروائی سے گریز کیا جاتا تھا ۔

ذرائع نے بتایا کہ ایف آئی اے اسٹیٹ بینک سرکل نے گزشتہ ماہ ایک کارروائی میں شکیل جعفرانی نامی شخص کو حوالہ ہنڈی کے الزام میں مقدمہ نمبر11/2018میں گرفتار کیاتھا تاہم ملزم عدالتی ریمانڈ مکمل ہوتے ہی جیل جانے کے بعد عدالت سے ضمانت پر رہا ہوگیا تاہم ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل کی ٹیم نے ملزم کو مقدمہ الزام نمبر16/18میں دوبارہ گرفتار کرلیا ۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ جعلی اور بے نامی بینک اکاوئنٹس کی تحقیقات میں قائم جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم کی رپورٹ میں ملزم شکیل جعفرانی کا بھی مکمل زکر ہے جس پر الزام ہے کہ ملزم سابق صدر آصف علی زرداری کے فرنٹ مین یونس قدوائی اور اس کے بھائی عبدالجبار قدوائی کے لئے طویل عرصے سے کام کرتا رہا ہے اور ملزم نے یونس قدوائی کے لئے عثمان ایکسچینج کمپنی لاہور کے بشارت محمود کے ذریعے خطیر رقم کینیڈا منتقل کی ہے جب کہ اومنی گروپ سے منسلک جعلی کمپنی عمیر ایسوسیٹ جو کام کراون ایل اایل سی دبئی سے جڑی تھی اس کے لئے96 کروڑ سے زائد رقم غیر قانونی طریقے سے منتقل کی ۔

ذرائع کا کہنا ہے یہ رقم عبدالجبار قدوائی حاصل کرتا تھا اور بیرون ملک مفرور محمد عمیر کے بھائی سعد سمیر عرف سنی محمد اشرف اور عامر کے ذریعے شکیل جعفرانی تک منتقل کرتا رہا ہے جس کا زکر شکیل جعفرانی سے ملنے والی لیپ ٹاپ ،یو ایس بی ،موبائل فون کے واٹس اپ اور ای میل سے حاصل کیا گیا ہے ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ کام کراون ایل ایل سی دبئی کی دستاویزات اومنی گروپ کے سربراہ انور مجید کی رہائش گاہ پر چھاپے کے دوران جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم کو حاصل ہوئی تھی جس کو حوالہ ہنڈی کے لئے ہی استعمال کیا گیا ہے اس کمپنی کے بیفیشریز میں نازلی مجید 17فیصد ،مہانل مجید 16فیصداور نور نمر مجید بھی16فیصد کی شراکت دار ہے ۔

ایف آئی اے ذرائع کا کہنا ہے کہ شکیل جعفرانی سے تحقیقات کے نتیجے میں ایف آئی اے میں 70نئی انکوائریوں پر تحقیقات شروع کردی ہیں ان کمپنیوں میں زرداری گروپ ،اومنی گروپ سے منسلک ایسی بے نامی کمپنیوں کی رقوم بھی غیر قانونی طریقے سے منتقل کی گئیں ان کمپنیوں کے مالکان اور ڈائریکٹرز میں شامل تمام افراد کے خلاف مقدمات کااندراج ہوگا ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *