مولانا شیرانی کی تفسیری مہارت

تحریر : رعایت اللہ فاروقی

گئے دنوں کی بات ہے ۔ مولانا شیرانی پر قرآن مجید کی ایک آیت کا نیا ترجمہ وارد ہوا۔ انہیں جب کچھ نیا سوجھتا ہے تو وہ اسلام آباد یا کراچی کا رخ کرتے ہیں تاکہ اپنی تازہ علمیت کی دھاک بٹھا سکیں۔ اس دن بھی وہ کراچی پہنچے اور بنوری ٹاؤن کے بالمقابل ایک کتب خانے میں جلوہ فروز ہوکر شیخ الحدیث مولانا محمد انور بدخشانی صاحب کو اپنے دربار میں طلب فرما لیا ۔

بدخشانی صاحب پیش ہوئے تو مولانا شیرانی نے پوچھا: "آپ قرآن مجید کی آیت، وَمِن شَرِّ غَاسِقٍ إِذَا وَقَبَ کا کیا ترجمہ کرتے ہیں ؟” ۔

انہیں شاید اندازہ نہ تھا کہ حضرت بدخشانی ان کے وادی شیران کے ان مریدوں میں سے نہیں جو مولانا شیرانی کے ہر ارشاد پر الطاف حسین کی  راطہ کمیٹی کی طرح واہ واہ کے ڈونگرے برساتے ہیں۔ مولانا بدخشانی نے فرمایا: "میں اس کا یہی ترجمہ کرتا ہوں کہ اور شب کی تاریکی کے شر سے جب وہ چھا جائے” ۔

مزید پڑھیں: علامہ شیرانی’قائد جمعیت اور اسرائیل و فلسطین کا قضیہ

یہ سن کر مولانا شیرانی پر اعتماد لہجے میں بولے: "نہیں مولانا یہ ترجمہ غلط ہے”

بدخشانی صاحب نے پوچھا: "اگر یہ غلط ہے تو درست ترجمہ آپ ہی فرما دیجئے” ۔

شیرانی صاحب پوری تاریخ تفسیر کو رد کرتے ہوئے گویا ہوئے: "اس آیت کا ترجمہ یہ ہے کہ آلہ تناسل کے شر سے جب وہ داخل ہو جائے” ۔

مولانا بدخشانی کی ہنسی چھوٹ گئی۔ ہنسی سنبھالتے ہوئے فرمایا: "اچھا ؟ تو پھر آپ قرآن مجید کی آیت اَقِمِ الصَّلَاةَ لِـدُلُوْكِ الشَّمْسِ اِلٰى غَسَقِ اللَّيْلِ کا کیا ترجمہ فرمائیں گے؟” ۔

یہ سنتے ہی شیرانی صاحب کے ہوش پراں ہوگئے کیونکہ اس آیت کا ترجمہ ہے "نماز قائم کرو سورج کے ڈھلنے سے رات کے اندھیرے تک” اور یہاں "غسق” کو شیرانی صاحب کیا پوری وادی شیران بھی مل کر آلہ تناسل کا نام نہیں دے سکتی۔ چنانچہ اپنی خفت مٹانے کے لئے بولے: "میں اپنی طرف سے نہیں کہہ رہا تھا، تفسیر میں ہے”

مزید پڑھیں: شیرانی صاحب کی بے وقت اذان

مولانا بدخشانی صاحب کے پوچھنے پر انہوں نے تفسیر کا نام بتایا تو بدخشانی صاحب بولے: "وہ تو شیعوں کی تفسیر ہے”  یوں شیرانی صاحب ایک خفت سے دوسری خفت تک اترتے چلے گئے۔ سو ایسا آدمی اگر سورہ مائدہ کی آیت نمبر 21 میں "کتب” کا ترجمہ پلاٹ کی الاٹمنٹ کرتا ہے تو حیران نہیں ہونا چاہئے۔ یہ ترجمہ بھی انہوں نے کسی ایرانی "مجتہد” سے ہی پایا ہو گا ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *