مولانا محمد خان شیرانی آخر کیا چاہتے ہیں ؟

بلوچستان : جمعیت علمائے اسلام بلوچستان میں دھڑے بندی کا سبب بننے والے اور اہل تشیعوں کے لئے نرم گوشہ رکھنے والے مولانا خان محمد شیرانی بلآخر علمائے کرام کی دنیا کی سب سے بڑی جماعت سے الگ ہونے کے قریب ہو چکے ہیں جہاں ان کے ساتھ بمشکل ایک سو عالم بھی کھڑے نہیں ہونگے ۔

اہلسنت و الجماعت اور جمعیت علمائے اسلام میں کشدیگی کا باعث بننے والے مولانا خان محمد شیرانی بلوچستان میں ہونے کی وجہ سے ایران کے حق میں نرم گوشہ رکھتے رہے ہیں اور بظاہر وہ اسٹبشلمنٹ پر تنقید کرتے رہے ہیں مگر وہ اتنا ہی اسٹبلشمنٹ کے بھی قریب سمجھے جاتے ہیں ۔

مولانا خان محمد شیرانی بلوچستان میں منفرد پالیسیوں کی وجہ سے جمعیت علمائے اسلام میں نظریاتی گروپ کا سبب بنے تھے اور ان کی وجہ سے مولانا عصمت اللہ نے اپنا نظریاتی گروپ بنا لیا تھا تاہم علمائے کرام کی کوششوں سے اب نظریاتی گروپ مولانا شیرانی کے جانے کے بعد واپس جمعیت علمائے اسلام میں ضم ہونے کے امکانات بڑھ گئے ہیں ۔

مذید پڑھیں : گوبر عِفت بچانے کا ذریعہ کیسے بنا ؟

مولانا خان محمد شیرانی نے ریٹائرڈ جنرنیلوں کی طرح اسرائیل کو تسلیم کرنے کا عجیب فلسفہ پیش کیا ہے کہ ’’اسرائیل کو تسلیم کرنا بین الاقوامی مسئلہ ہے میں اس حق میں ہوں کہ اسرائیل کو تسلیم کیا جائے ‘‘ ۔ مولانا شیرانی کے اس بیان اسرائیل سمیت عالمی سطح پر پذیرائی ملی ہے اور قادیانیوں نے بھی اس کو ربوہ ٹائم میں جلی حروف میں جگہ دی ہے ۔

تاہم پاکستان میں تجربہ نگار اور خود جمعیت علمائے اسلام کے نظریاتی کارکنان و علمائے کرام  مولانا خان محمد شیرانی کے اس اقدام کو سخت تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں ۔ عالمی امور پر خصوصا خلیجی ممالک پر گہری نظر رکھنے والے تجربہ نگار علی ہلال نے لکھا ہے کہ ’’خاتمہ بالایمان ایک نعمت خداوندی ہے ۔ بد بخت ہوتے ہیں وہ لوگ جو زندگی بھر دینی مدارس اور مذہبی تنظیموں سے وابستہ رہنے کے سبب بہت سی دنیاوی لذتوں سے محروم رہ جاتے ہیں ۔ لڑکپن اور جوانی عیش وطرب سے محروم رہ کر گزارتے ہیں ۔بڑھاپے میں جب منہ میں دانت رہے نہ پیٹ میں آنت۔ ڈاڑھی سفید ہو اور جسم پر ضعف و نحافت طاری ہو، ایسے میں فکر ونظر کے نام پر دل و دماغ میں اپنے ماضی سے تمرد انگڑائیاں لینے لگے تو اسے بڑھاپے کے کھسکے پن اور جوانی کی محرومیوں کے انتقام کے سوا کچھ نہیں کہا جا سکتا ۔

بلوچستان کے ایک صاحب (خان محمود شیرانی) بھی ایسے ہی ہیں ۔ سوشل میڈیا پر جن کا آج کل چرچا ہے ۔ کسی شخص کی بڑی کوتاہ بینی اس سے زیادہ کیا ہو گی جو ایک عرصے تک قُم و مشہد کے فلسفہ کو پاکستان کی اکثریت پر لاگو کرنے کے مشن پر گامزن رہے اور ناکامی کے بعد قبلہ تبدیل کرنے کا اعلان کر بیٹھے ۔ میرا تجزیہ یہ ہے کچھ قوتیں اکوڑہ خٹک (مولانا سمیع الحقؒ گروپ ) کی کمی پوری کرنے کے لیے نئے امیدوار کے لیئے ضلع شیرانی کے اس باباجی کو میدان میں اتارنے کا تہیہ کر چکی ہیں ‘‘۔

مذید پڑھیں :3 فطری مگر اٹل قوانین

اسی طرح جمعیت علمائے اسلام سندھ کے ترجمان سمیع سواتی نے شعرہ سے ابتدا کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’

باغباں نے آگ دی جب آشیانے کو مرے
جن پہ تکیہ تھا وہی پتے ہوا دینے لگے

اسرائیل جیسی یہودی ریاست کا بائیکاٹ جمعیت علماء اسلام کیساتھ امت مسلمہ کا غیر متزلزل موقف تھا ہے اور رہے گا ۔مگر آپ کی وجہ سے آج لگے ہاتھوں اسرائیلی گماشتوں یہودی و مرزائی میڈیا کو تخریب کا خوب سامان فراہم ہوا ، اور ان کی ناپاک انگلیاں جمعیت علماء اسلام کا مقدس نام لکھنے کی جسارت کرنے لگی ہیں ۔

اپنے تیور تو سنبھالو کوئی یہ نہ کہہ دے
دل بدلتے ہیں تو چہرے بھی بدل جاتے ہیں

مزید پڑھیں :جو مولانا فضل الرحمن کے ساتھ نہیں وہ کہیں کا نہیں : مفتی تاج الدین ربانی

اس کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا پر اسٹبلشمنٹ کے سخت مخالف سمجھے جانے والے کالم نگار رعایت اللہ فاروقی نے لکھا ہے کہ ’’ مولانا محمد خان شیرانی کو کسی کمرے میں بیس پچیس افراد کے عظیم الشان اجتماع سے لاؤڈ سپیکر پر خطاب کرتے دیکھا ۔ اس سے تو اچھا تھا کہ پی ٹی آئی کے علماء و مشائخ ونگ کے سربراہ بن جاتے ۔ گلے میں اسٹیبلیشمنٹ کا سہ رنگی پٹا بھی ڈل جاتا اور لاؤڈ سپیکر کے استعمال کے لئے نچیے ہی سہی مناسب ہجوم تو دستیاب ہو جاتا ۔ چلیں کوئی بات نہیں، اس بہانے ان کی یہ خوش فہمی بھی دور ہو جائے گی کہ بلوچستان میں جے یو آئی کا زور اور ووٹر مولانا فضل الرحمن کا نہیں بلکہ شیرانی کا ہے ۔ سیاسی تاریخ کے صفحات پر ایسی خوش فہمیوں کے ہاتھوں رسوا ہونے والوں کی کمی نہیں ۔

مولانا شیرانی سیاست میں کن کا کھیل کھلتے آئے ہیں ؟۔  اس حوالے آنے والے دنوں میں ایک مفصل کالم لکھ کر حقائق سے پردہ اٹھانے کی کوشش کروں گا ۔ انشاءاللہ ۔ بقول جنرل ضیاء "غیب کی کچھ باتیں ہم بھی جانتے ہیں "۔

سینیئر صحافی و تجریہ نگار مجبیب الرحمن شامی کا کہنا ہے کہ ’’خان محمد شیرانی عہدوں کے ہمیشہ سے اسیر رہے ہیں ، انہوں نے عہدہ نہ ملنے پر پہلے بھی ایسا ہی کیا تھا اب بھی کوئی نئی بات نہین ہے ، نہ ہی ان کے جانے سے جمعیت علمائے اسلام کو کوئی فرق پڑے گا ، اگر وہ دو چند مذید لوگ بھی جمعیت سے لے جانے میں کامیاب ہوتے ہیں تب بھی جمعیت علمائے اسلام کو بلوچستان میں فرق نہیں پڑے گا ۔ وہ حالیہ پی ڈی ایم میں کوئی بھی اثر نہیں ڈال سکیں گے اور نہ ہی ان کے بیانات سے اسرائیل کو تسلیم کرنے کے بیان سے کوئی راہ ہموار ہو سکے گی ۔

مزید پڑھیں :دامن چرخ سے ایک اور ستارہ ٹوٹا

ادھر الرٹ نیوز کے ذرائع کا دعوی ہے کہ مولانا محمد خان شیرانی اصل میں اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین شپ کے لئے ایک بار متمنی تھے تاہم اب انہیں تیسری بار چیئرمین منتخب کرنا مشکل تھا ، جس کے لئے وہ پاکستان تحریک انصاف کے حق میں بھی بولنے لگے ہیں ، جبکہ اس کے بعد وہ حافظ حسین احمد کے ساتھ ساتھ سینیٹ کے ٹکٹ کے لئے بھی کوشاں تھے تاہم دونوں رہنمائوں کو سینیٹ کے ٹکٹ نہیں دیئے گئے جس کی وجہ سے دونوں رہنما کھل کر سامنے آئے ہیں ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *