اعتبار

اعتبار

وہ کہتا ہے اعتبار کرکے تو دیکھ
کیا بتاوں اسے ….
اعتبار لفظ سے ہی اعتبار اٹھ چکا میرا
بہت ٹھیس لگی دل پر
بہت دھوکے ملے
مگر………
اس اعتبار کے ٹوٹنے سے
بہت سے سبق ملے
اس سبق نے
بہت سے پردے فاش کئے
کہ پھر کسی پر کبھی اعتبار نہ کرنا
پھر کسی کا انتظار نہ کرنا

سمیرا بخاری ،کراچی

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *