چشم پوشیوں کے انداز کیا کیا !!!

تحریر : علی ہلال

گئے وقتوں میں ایک دینی مدرسے میں ایک استاد تھے ، جنہیں طلبہ کی غلطیوں پر چشم پوشی کے حوالے سے منفرد شہرت حاصل تھی ۔ ان کا انداز نہایت دلچسپ تھا ۔ کسی طالب علم کو نماز میں کوتاہی یا انتظامی امور کی خلاف ورزی اور غفلت کا ارتکاب کرتے دیکھنے کے بعد درسگاہ میں بیٹھتے ہی فرماتے کہ :

"بھائی کسی مسلمان کی غلطی پر پردہ ڈالنا اچھی عادت ہے” لہذا وہ نام اور شناخت ظاہر کئے بغیر بتانا ضروری سمجھتے ہے کہ کل ایک طالب علم کو انہوں نے فلاں غلطی کا ارتکاب کرتے دیکھا مگر اسے سزا نہیں دی البتہ ساتھی آئندہ کے لیئے احتیاط کریں ۔ تقریر جاری رکھتے ہوئے وہ پھر بتاتے کہ وہ طالب علم اتنی عمر کا تھا ۔

تھوڑی سی مزید وضاحت کرتے ہوئے کہتے کہ وہ ابھی بھی اسی درسگاہ میں بیٹھ کر مجھے سن رہا ہے ۔ غصے میں شدت آتے آتے وہ مزید اضافہ کرتے کہ اس طرح کے حلیہ کے حامل اور فلاں رنگ کی ٹوپی پہننے والا وہ لڑکا اپنا قبلہ درست کرے وگرنہ انجام اچھا نہیں ہو گا ۔

مزید پڑھیں: پاکستان بموابلہ اسرائیل کا آغاز

پھر اصلاحی تقریر میں کچھ مزید شدت  لاتے ہوئے بتاتے کہ  بھائی اس قدر ڈھیٹ کو تو کبھی دیکھا ہی نہیں کہ سامنے بیٹھ کر دیکھ رہا ہے اور ٹھس سے مس بھی نہیں ہو رہا ۔

اور آخر میں بتاتے کہ ارے ۔۔۔۔۔ تجھے شرم تک نہیں آئی ایسا کرتے ہوئے اور اٹھ کر اس پر تھپڑوں کی بارش کرتے جس کے ساتھ چشم پوشی کے اس نرالے انداز کے مظاہرے پر درسگاہ میں تمام طلبہ کے قہقہے گونجنے لگ جاتے اور اس بے چارے کے پسینے چھوٹنے لگتے ۔

( نوٹ : اس کا تعلق عبرانی جریدے کی اس رپورٹ سے بلکل بھی نہیں ہے ۔ جس کے مطابق ایشیا کے ایک اسلامی ملک کے سربراہ کے مشیر خاص کی سربراہی میں ایک وفد نے تل ابیب کا خفیہ دورہ کیا ہے ۔ )

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *