ذکی احمد خان ایشیاء پیسفک ریجن میں پہلے فوکل پوائنٹ بن گئے

کراچی : ایمپلائرز فیڈریشن آف پاکستان (ای ایف پی) کے صدر اسماعیل ستار نے انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن (آئی ایل او) کے ایم این ای اعلامیے کو فروغ دینے کے لیے ای ایف پی کے نائب صدر ذکی احمد خان کو فوکل پوائنٹ مقرر کرنے اعلان کیا ہے۔

ایشیاء پیسفک ریجن میں یہ پہلا فوکل پوائنٹ ہوگا۔آئی ایل او کے سہ فریقی حلقہ انتخاب کے اجلاس میں ای ایف پی کو پاکستان میں نیشنل فوکل پوائنٹ مقرر کیا گیاتھا جبکہ پاکستان ورکرز فیڈریشن (پی ڈبلیو ایف) کے جنرل سکریٹری ظہور اعوان نے تجویز پیش کی تھی کہ پاکستان کے لیے ای ایف پی کو نیشنل فوکل پوائنٹ کے طور پر مقرر کیا جاسکتا ہے کیونکہ کثیر القومی اور قومی کاروباری اداروں اور ان کی سپلائی چین کے وسیع رابطوں کی وجہ سے اس منصوبے کو شروع کرنے کا ارادہ ہے۔

واضح رہے کہ ذکی احمد خان نے ایم این ای ڈی پروجیکٹ کے تحت سرگرمیوں کو باالخصوص اگست سے دسمبر 2020 تک تیسرے مرحلے میں کامیابی سے ہمکنار کیا ہے ۔ جس کے دوران سیالکوٹ اسپورٹس گڈز انڈسٹری کے 15 کاروباری اداروں سے تقریباً 370 منیجرز اور ورکرز کا انتخاب کیا گیا جنہیں پیداواری اور مسابقتی پیشہ ورانہ صلاحیت، حفاظت، صحت (اوش)، ایف پی آر ڈبلیوز اور ایم این ای ڈی اصولوں کو بہتر بنانے میں فیکٹری پر مبنی تربیت فراہم کی گئی ۔

مزید پڑھیں :میٹرک و انٹر بورڈ میں ISI کی کلیئرنس کے بغیر عجلت میں چیئرمین تعینات

اس کے علاوہ چائلڈ لیبر کے حوالے سے شعور بیدار کے لیے سمینار سمیت دیگر سرگرمیوں اور جبری مزدوری پر سہ فریقی سماجی ڈائیلاگ پلیٹ فارم، چائلڈ لیبر اسپورٹس سے متعلق سرگرمیوں پر قومی ٹاسک فورس کا قیام، ٹوکیو اولمپکس 2021 میں سیالکوٹ اسپورٹس گڈز انڈسٹری میں معاشرتی طور پر ذمہ دار مزدورانہ طرز عمل کو اجاگر کرنے اور آگاہی بڑھانے سے متعلق سمینارز کا انعقاد کیا گیا۔

ایم این ای ڈی پروجیکٹ میں ذکی احمد خان کی انتہائی مصروفیات کے پس منظر میں پاکستان میں ایم این ای اعلامیے کو فروغ دینے میں ای ایف پی کے فوکل پوائنٹ کے طور پر ان کا کردار بہت اہم ہے جس میں سرکاری وزارتوں، ایجنسیز، کثیر القومی کاروباری اداروں، آجروں اور ورکرز آرگنائزیشنز کے مابین ایم این ای اعلامیے کے بارے میں شعور بیدار کرنا، صلاحیتوں کو نکھارنے، مقامی زبانوں میں آن لائن معلومات اور ڈائیلاگ پلیٹ فارمز کی ترقی شامل ہے ، جہاں کاروبار و کمپنی یونین ڈائیلاگ کے لیے آئی ایل او ہیلپ ڈیسک کو ممکن بنایا اور فروغ دیا جا سکے ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *