ایک چراغ اور بجھا….

تحریر: مولانا ڈاکٹر قاسم محمود

ہمارے عزیز ممتاز فاضل و قابل عالم دین، ادیب و مصنف، بانی و مہتمم جامعہ تراث الاسلام  شیخ الحدیث مولانا ابن الحسن عباسی صاحب بھی آخر کار فانی دنیا سے منہ موڑ کر ابد کے سرمدی نگر کو روانہ ہو گئے۔

انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ان للہ ما اخذ و لہ ما اعطی و کل شئی عندہ باجل مسمی… 😰

مولانا مرحوم کی علمی، ادبی، تحریری اور دینی خدمات محتاج تعارف نہیں ہیں۔ دار العلوم کراچی کے قابل فاضل تھے اور اپنی لیاقت و قابلیت کے بل پر ایک عالم کو متاثر اور اپنا گرویدہ کیا۔

ان کے قلم میں اللہ نے بڑی تاثیر رکھی تھی۔ ان کی کئی کتابوں نے دینی حلقے میں شہرت دوام حاصل کی اور اہل علم و فضل سے داد تحسین حاصل کی۔ وہ اول آخر ایک مدرسے کے پڑھے ہوئے تھے اور پشتون زبان و ثقافت کا پس منظر رکھتے تھے۔

مزید پڑھیں: مولانا امیر الدین مہر بھی آخر سفر کو چل دیئے

مگر اس کے باوجود اپنی خدا داد صلاحیتوں سے اردو زبان و ادب میں وہ کمال پیدا کیا کہ بڑے بڑے صاحبان علم، یونیورسٹیوں کے اساتذہ اور اہل زبان ان کی تحریروں پر مسرت سے سر دھنتے تھے۔

بلاشبہ مولانا ابن الحسن عباسی نے اردو ادب کے دینی ادب کے گوشے میں اپنی جاندار تحریروں سے شاندار اضافہ کیا، جس کیلئے وہ ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔ ان کی عمر اتنی نہیں تھی۔ ہچاس سال بھی کم عمر انہوں نے پائی۔ مگر اس مختصر عمر میں بھی انہوں نے وہ کام کئے کہ دنیا انہیں کبھی فراموش نہیں کرے گی۔

ان کی اچانک وفات سے یقیناً علم و ادب کی بزم کی رونق متاثر ہو گئی ہے۔ میں دعا گو ہوں کہ اللہ تعالیٰ مولانا مرحوم کو اپنے جوار خاص میں جگہ عطا فرمائے اور ان کے جملہ اہل خاندان کو صبر جمیل عطاء کرے، آمین۔ تمام احباب سے مولانا مرحوم کیلئے دعائے مغفرت کی درخواست ہے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *