ملکی استحکام کیلئے رویوں کی اصلاح ضروری ہے

تحریر : مولانا ڈاکٹر قاسم محمود

ملک میں موسم کا درجہ حرارت جیسے جیسے گرتا جا رہا ہے، سیاست کا پارہ ہے کہ بلند تر ہوتا جا رہا ہے۔ اپوزیشن اور حکومت کی محاذ آرائی جو سوا دو سال سے بلا تعطل جاری ہے، وہ اب نئی شکل اختیار کرتی جا رہی ہے۔ مگر اس سارے منظر نامے کا افسوسناک پہلو یہ ہے کہ برداشت، تحمل، وضعداری، شرافت، تہذیب جو کبھی ہماری سیاست کا حصہ تھی۔

آج اس کے سارے حجاب اٹھتے چلے جا رہے ہیں۔ ایک دوسرے کی مخالفت، مخالف کو نیچا دکھانے اور اپنا پوائنٹ اسکور کرنے میں کسی اصول اور قاعدے ضابطے کو قریب بھی نہیں پھٹکنے دیا جا رہا۔ ایک ایسی زہریلی فضا پروان چڑھ گئی ہے کہ اپنا شملہ بلند کرنے کیلئے مخالف کی کردار کُشی کی ہر جائز و جائز صورت جائز بلکہ لازم ٹھہرا لی گئی ہے۔

سیاسی کارکنوں کے رویوں اور ایک دوسرے کے ساتھ برتاؤ کو دیکھ کر نہیں لگتا کہ ہم ایک قوم کا حصہ ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سب ایک دوسرے کے پکے دشمن ہیں۔ مخالفت میں ہر حد سے گزرنے کی ایک نہایت ناگوار مثال گزشتہ دن سامنے آئی جب ملک کی دو بڑی پارٹیوں کے کارکنوں نے ایک دوسرے کی خواتین رہنماؤں کو ٹوئٹر پر باقاعدہ ٹرینڈ چلا کر پوری دنیا کے سامنے بد ترین گالیاں دیں اور کئی دن ایک دوسرے کے منہ پہ کالک ملنے کا یہ بد بودار سلسلہ جاری رہا۔

مزید پڑھیں: کیا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سیاستدان تھے؟

یہ در اصل ایک دوسرے کو گندا نہیں کر رہے تھے، بلکہ دونوں پارٹیوں کے نا سمجھ کارکنان نے پوری پاکستانی قوم کے منہ پر گند مَلا اور دنیا کے سامنے وطن عزیز پاکستان کی عزت کو پامال کر کے رکھ دیا۔ آخر کس کو کیا ملا؟

آپ نے دوسرے کی خواتین کو گالیاں دیں تو اس نے آپ کی خواتین کو اس سے بڑھ کر برے لفظوں میں یاد کیا۔ نتیجتاً دونوں طرف کی محترم خواتین انتہائی بے ہودہ اور شرمناک صورتحال سے دو چار ہو کر رہ گئیں۔ سوچنے کی بات ہے کہ ساری لڑائیاں مرد لڑ رہے ہیں، مگر یہ مرد اس قدر ”غیرت مند” ہیں کہ گالیوں کیلئے خواتین کو آگے کر دیتے ہیں۔ کیا یہ ہماری شرافت ہے؟ کیا یہ ہماری تہذیب ہے؟

میں کسی خاص جماعت کی بات نہیں کر رہا۔ ملک کی تمام سیاسی و مذہبی جماعتیں میرے لئے قابل احترام ہیں۔ سب کے کارکنان اور رہنما عزت و قدر کے لائق ہیں۔ اگر آپ کے نزدیک آپ کے مخالف کی دو کوڑی کی بھی عزت نہیں ہے، تو خدارا یہ سوچئے کہ اس کی نہ سہی، آپ کی تو ہے، آپ تو کم از کم اپنی نظروں میں عزت دار ہیں، اب یہ سوچئے کہ دوسروں کو دشنام و الزام دینے کے جواب میں کوئی آپ کو بھی اسی پیمانے میں تول کر لوٹا دے تو آپ کی کیا عزت رہ جائے گی؟

مزید پڑھیں: کیا سیاست کھیل تماشا ہے ؟

ہم سب کو سمجھنا چاہیے کہ اختلاف رائے انسانی زندگی کا لازمہ ہے۔ انسان ہے تو اختلاف بھی ہوگا، مگر میرے عزیز ہم وطنو….🙏🏻 اختلاف کیلئے ضروری نہیں کہ آپ بد تہذیبی کی ہر حد پار کرنا بھی ضروری سمجھیں۔ سیاست ترجیحات کے اختلاف کا میدان ہے۔ یقین رکھیں کہ ملک میں جتنی بھی سیاسی جماعتیں موجود ہیں، ان میں سے کوئی بھی ملک کی تباہی کی خواہش نہیں رکھتی، ہر ایک ملک کی بہتری چاہتا ہے، مگر ملک کی بہتری کیلئے کونسی راہ اور پالیسی زیادہ بہتر ہے، بس اسی بات میں سب میں اختلاف ہے، یعنی یہ اختلاف بھی تعمیری ہے، مگر سیاسی کارکنوں نے اس تعمیری اختلاف کو بھی منفی شکل دے کر عجیب صورتحال پیدا کر دی ہے۔

ایسا مت کیجئے۔ آپ کی جماعت کی پالیسی اچھی ہے تو اتنی گنجائش رکھیں کہ مخالف جماعت میں بھی اچھائی کا امکان قبول کریں۔ اس سے اچھا ماحول پیدا ہوگا اور ملک میں سیاسی استحکام بڑھے گا جو ملک کی تعمیر و ترقی کیلئے بنیاد کی حیثیت رکھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اچھے رویوں کے ساتھ اپنے معاملات آگے بڑھانے کی توفیق دے، آمین۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *