مولانا گل نصیب خان کو فی الفور رہا کیا جائے . قاری محمد عثمان

جمعیۃ علماءاسلام کے صوبائی نائب امیر قاری محمد عثمان، ضلعی امیر مولانا عمرصادق نے کہا کہ مولانا نصیب مینگل اور مولانا سیف اللہ کو فی الفور بازیاب کرایا جائے. بصورت دیگر جمعیۃ علماء اسلام راست اقدام پر مجبور ہوگی. دینی ادارے،چادر چاردیواری کا تقدس پامال کرنے والے قانون شکن ہیں. علماء کرام اور دینی ادارےملکی آئین وقانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اشاعت دین میں مصروف ہیں. کسی بھی دینی ادارے کے خلاف اقدام ناقابل برداشت ہے.

مولانا نصیب مینگل JUIکے سرگرم رہنماء ،جامعہ منبع العلوم کے بانی ومہتمم جبکہ بلو چستان کے پسماندہ علاقوں میں غریب عوام کو پانی کی فراہمی کے ساتھ ہسپتالوں اور سینکڑوں مکاتب و مدارس کے سرپرست ہیں.انکا لاپتہ ہونا لمحہ فکریہ ہے. ان خیالات کا اظہار انہوں نے کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا

انہوں نے کہاکہ مولانا نصیب مینگل کی زندگی کھلی کتاب ہے.انہوں نے اپنی زندگی اشاعت دین اورخدمت خلق کیلئے وقف کر رکھی ہے.وہ جامعہ منبع العلوم منگھوپیر کے بانی ہونے کے علاوہ بلوچستان کے پسماندہ علاقوں کے عوام کیلئے ایک مسیحا ہیں. مولانا نصیب مینگل نے سینکڑوں مقامات پر ٹیوب ویل لگا کر پانی کا انتظام کروایا ہے جبکہ صحت کیلئے ہسپتالوں سمیت سینکڑوں مدارس ومکاتب کے سرپرست ہیں.

14دسمبر جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب رات ڈیڑھ بجے درجنوں گاڑیوں میں مسلح افراد نے مدرسہ کا محاصرہ کرکے مولانا نصیب مینگل اور جامعہ کے ناظم مولانا سیف اللہ کو چادر چار دیواری کا تقدس پامال کرتے ہوئے کسی دشمن ملک کے جنگجو کی طرح گھسیٹتے ہوئے اپنے ساتھ لے گئے جو کہ اب تک لاپتہ ہیں. مسلسل متعلقہ انتظامیہ سے رابطہ کرنے کے باجود قائمقام آئی جی تک پولیس اہلکار کسی قسم کی معلومات دینے کوتیار نہیں، بلکہ اس غیر قانونی گرفتاری سے لاعلمی کا اظہار کیا جارہا ہے. جبکہ مولانا نصیب مینگل اور مولانا سیف اللہ کی بازیابی کیلئے انکے خاندان کی طرف سے سندھ ہائی کورٹ میں پٹیشن بھی دائر کردی گئی ہے .

مولانا نصیب مینگل کا لاپتہ ہونا لمحہ فکریہ ہے. ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مولانا نصیب مینگل اور سیف اللہ کو فی الفور بازیاب کرایا جائے .بصورت دیگر جمعیت علماء اسلام احتجاج کااپنا جمہوری حق استعمال کرتے ہوئے قومی اسمبلی،سینٹ،بلوچستان اسمبلی,KPKاسمبلی سمیت سندھ اسمبلی میں احتجاج کا دائرہ کار وسیع کرنے پر مجبور ہوگی.اگر مولانا نصیب مینگل اور سیف اللہ کو فی الفور بازیاب نہ کرایا گیا تو جمعیۃ علماء اسلام اپنے آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کریگی.اس موقع پر جمعیۃ علماء اسلام ضلع غر بی کے جنرل سیکریٹری سید اکبر شاہ ہاشمی ڈاکٹر نصیرالدین سواتی حاجی محمد طاہر انصاری حافظ محمد نعیم سلیم انجنیئر قاری سلیمان بلوچ ودیگررہنما بھی موجود تھے.

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *