دانشور پروفیسر نوم چومسکی کی 92 ویں سالگرہ

تحریر: فرحان خان

نوم چومسکی امریکی ماہر لسانیات، فلسفی ، میڈیا نقاد ، سیاسی مصنف اور لیکچرر ہیں ۔ آپ کا مکمل نام اورام نوآم چومسکی ہے۔ آپ  میسا چوسٹس انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی میں شعبہ لسانیات میں پروفیسر ہیں اور اس ادارے میں لگ بھگ 50 سالوں سے کام کر رہے ہیں۔

نوم چومسکی کو امریکہ کی خارجہ پالیسی اور سرمایہ دارانہ نظام کے جارح ناقد کے طور پر جانا جاتا ہے۔ امریکا کی دیگر ممالک میں لڑی گئی جنگوں پر وہ زور دار تنقید کرتے ہیں ۔ نوم چومسکی 100 سے زائد کتابوں کے مصنف ہیں اور مختلف موقعوں پر دیے گئے ان لیکچرز بھی کتابی صورت میں شائع ہو چکے ہیں۔

ان کی شخصیت کا ایک حوالہ ان کا سیاسی ایکٹوزم بھی ہے۔ انہوں نے نائن الیون کے بعد امریکی خارجہ پالیسی پر بڑے زور دار انداز میں تنقید جاری رکھی بعد ازاں ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں بھی ان کا لہجہ ویسا ہی رہا بلکہ ایک موقع پر انہوں نے ٹرمپ کو بدترین کریمنل بھی کہہ دیا۔

مزید پڑھیں: امتحان برائے CSS کی کیلئے کن باتوں کو مدنظر رکھنا چاہیئے ؟

نوم چومسکی کو میڈیا کے طالب علم ان کے ”پروپیگنڈہ ماڈل” کے حوالے سے جانتے ہیں۔ اس حوالے سے  نوم چومسکی اور ایڈورز ایس ہیرمن کی 1988 میں شائع ہونے والی کتاب ” مینوفیکچرنگ دا کونسینٹ” کافی مشہور ہے جس میں انہوں نے اس نکتے سے بحث کی ہے کہ ریاستیں لوگوں کو خیالات پر کیسے ماس میڈیا کے ذریعے اثر انداز ہوتی ہیں۔

نوم چومسکی اپنی ذاتی زندگی کی تشہیر کے قائل نہیں ہیں۔ انہوں نے 1949 میں کیرول ڈورِس شاٹس سے شادی کی جن سے ان کے تین بچے ہیں۔ 2008 میں ان کی اہلیہ چل بسیں ۔ نوم چومسکی نے 2014 میں ولیریا وسرمین سے شادی کی ، دوسری شادی کے وقت نوم چومسکی کی عمر 86 برس جبکہ ان کی اہلیہ کی عمر 40 سال تھی۔

نوم چومسکی لسانیات ، سیاسیاست ، ماس میڈیا سمیت سوشل سائنسز کے متعدد شعبوں میں بے پناہ کام کیا ہے ، اس چھوٹی سی تعارفی تحریر میں ان کے کام کا احاطہ ممکن نہیں ۔ یہی حال ان کو ملنے والے درجنوں اعزازات کا ہے۔ بہت لوگ ان کے مخصوص بے باک قسم کے خیالات کی بنا پر انہیں امریکا کا ضمیر بھی قرار دیتے ہیں۔

مزید پڑھیں: ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز میں ملازمین کا احتجاج جاری

انہوں نے دنیا کے بہت سے ممالک کا سفر کیا اور اپنے ان تجربات کو اپنے سیاسی تبصروں کے ساتھ مختلف کتابوں اور لیچکرز میں سمویا ۔ وہ نومبر 2001 میں پاکستان کے شہر لاہور بھی آ چکے ہیں اور یہاں انہوں نے دانشوروں سے خطاب کیا تھا جس کا پڑھے لکھے حلقوں میں کافی چرچا ہوا تھا۔

ان کی ممتاز فلسطینی مصنف اور دانشور پروفیسر ایڈورز سعید اور ممتاز پاکستانی دانشور اقبال احمد سے بھی خوشگوار ملاقاتیں رہی ہیں۔ آپ  پیرانہ سالی کے باوجود آج بھی بلاناغہ اخبارات کا مطالعہ کرتے ہیں  اور حالات حاضرہ پر اپنے مخصوص لب و لہجے میں تبصرے بھی کرتے رہتے ہیں۔

دو دن قبل جب میں نے ڈان اخبار میں یہ خبر پڑھی کہ نوم چومسکی 7 دسمبر 2020 کو اپنی 92 ویں سالگرہ پر پاکستان کی حبیب یونیورسٹی میں ویڈیو لنک پر لیکچر دیں گے تو خوش احساس ہوا۔

حبیب یونیورسٹی کے آفیشل پیج پر 43 منٹس کو محیط یہ گفتگو آپ سن سکتے ہیں، حبیب یونیورسٹی نے اس بے بدل عالم کو ان کی سالگرہ پر ان کے شایانِ شان خراج تحسین پیش کیا ہے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *