نان ٹیکنیکل افسر کو ٹیکنیکل و اضافی چارج دینے کے خلاف سماعت، جواب طلب ، نوٹسز جاری

کراچی: ( اسٹاف رپورٹر۔ یاور شاھ ) سندھ ہائی کورٹ کراچی میں نان ٹیکنیکل افسر کو ٹیکنیکل و اضافی چارج دینے کے خلاف دائر کیس کی سماعت میں  جواب طلبی کا نوٹسز جاری۔

تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز سندھ ہائی کورٹ کراچی میں موجودہ ایڈیشنل چیف سیکرٹری سندھ نان ٹیکنیکل افسر شمس الدین سومرو کو محکمہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی میں ڈائریکٹر جنرل کا ٹیکنیکل و اضافی چارج دینے کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی۔

درخواست گزار نے موقف اختیار کیا کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے نئے ڈائریکٹر جنرل شمس الدین سومرو نان ٹیکنیکل اور دوسرے محکمے کے افسر ہیں، ان کی ڈائریکٹر جنرل SBCA کے عہدے پر تعیناتی غیرآئینی و غیرقانونی ہے اور سپریم کورٹ آف پاکستان کے احکامات کی مکمل طور پر خلاف ورزی ہے۔

مزید پڑھیں: سپریم کورٹ کا وزیراعلیٰ سندھ کو توہین عدالت کا نوٹس

سماعت کے موقع پر درخواست گزار نے عدالت کو مزید بتایا کہ نان ٹیکنیکل افسر شمس الدین سومرو اس وقت ایڈیشنل چیف سیکرٹری سندھ کے عہدے پر فائز ہیں اور صوبائی محتسب اعلیٰ سیکرٹریٹ میں کام کررہے ہیں اور ان کا دور تک وزارت بلدیات سے بھی کوئی تعلق نہیں ہے

انہیں غیرآئینی طور پر وزرات بلدیات سندھ کے ماتحت چلنے والے محکمہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی میں بطور ڈائریکٹر جنرل کا اضافی چارج دے دیا گیا ہے جو کہ آئین پاکستان سے متصادم اور سپریم کورٹ کے احکامات کی خلاف ورزی ہے۔

ڈائریکٹر جنرل سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے نان ٹیکنیکل ڈائریکٹر جنرل شمس الدین سومرو کی تقریری و اضافی چارج کے خلاف دائر آئینی درخواست کی سماعت جسٹس ندیم اختر کی سربراہی میں جسٹس عدنان کریم پر مشتمل دو رکنی ڈویژن بنچ میں ہوئی۔

مزید پڑھیں: سپریم کورٹ کی ’جنگ‘ کا نام لیے بغیر اخبار پر تنقید

دوران سماعت درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی کہ نان ٹیکنیکل افسر موجودہ ایڈیشنل چیف سیکرٹری سندھ شمس الدین سومرو کو فوری طور پر ڈائریکٹر جنرل سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے عہدے سے برطرف کیا جائے اور سپریم کورٹ آف پاکستان کے احکامات کی خلاف ورزی کرنے پر غیرٹیکنیکل افسر شمس الدین سومرو اور سندھ حکومت کے اعلیٰ حکام کے خلاف قانونی کاروائی عمل میں جائے۔

عدالت نے آئندہ سماعت پر تمام مدعلیان سے جواب طلب کرتے ہوئے نوٹسز جاری کردیئے، کیس کی آئندہ سماعت جنوری کے پہلے ہفتے میں ہوگی

یاد رہے مزکورہ کیس میں حکومت سندھ بزریعہ چیف سیکرٹری سندھ، سیکرٹری سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن اینڈ کوآرڈینیشن ڈپارٹمنٹ سندھ، شمس الدین سومرو ایڈیشنل چیف سیکرٹری صوبائی محتسب اعلیٰ سیکرٹریٹ سندھ و غیر ٹیکنیکل ڈائریکٹر جنرلSBCA اور الطاف حسین سیکشن آفیسر سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن اینڈ کوآرڈینیشن ڈپارٹمنٹ سندھ کو مدعلیان بنایا گیا ہے۔

مزید پڑھیں: سپریم کورٹ، سندھ حکومت نے کراچی اسٹریٹ لائٹس کی بندش کا نوٹس لے لیا

کیس کا فیصلہ تو خیر عدالت نے ہی کرنا لیکن زرائع کے مطابق نان ٹیکنیکل افسر شمس الدین سومرو کو ڈائریکٹر جنرل سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کا اضافی چارج دینے کے باعث محکمہSBCA میں موجود عہدے کے منتظر اہل و قابل افسران میں سخت بے چینی و اصطراب پایا جارہا ہے جوکہ فطری عمل ہے کیونکہ کسی بھی محکمے میں موجود افسران عہدہ حاصل کرنے کےلیے سالوں محنت کرتے ہیں اور میرٹ پر عہدہ ملنے کے منتظر ہوتے ہیں

ان کی جگہ محکمے کے باہر سے نان ٹیکنیکل افسر کو لاکر تعینات کرنا یا اضافی چارج دینا محکمے میں موجود عہدے کے اہل اور قابل افسران کی حق تلفی اور انتہائی زیادتی ہے۔ حکومتی حکام کو اس سلسلے میں آئین پاکستان اور سپریم کورٹ آف پاکستان کے احکامات کے مطابق عملدرآمد کرنے کی اشد ضرورت ہے تاکہ کسی افسر یا ملازم کی حق تلفی نا ہو۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *