بلدیہ کے 10 انضمام آفیسروں کو  12 دسمبر تک اپنے محکموں میں بھیجنے کا حکم

کراچی : محکمہ بلدیات سندھ نے صوبے کے مختلف بلدیاتی اداروں اور محکموں سے ڈیپوٹیشن کی بنیاد پر کے ایم سی میں آکر اپنی ملازمتیں ضم کرانے والے 6 گریڈ کے افسران اور 4 لوئر گریڈ کے ملازمین کو 12 دسمبر تک اپنے اصل محکموں میں رپورٹ کرنے کا حکم جاری۔

محکمہ بلدیات کے سیکشن آفیسر شفیق الرحمن نے ایڈمنسٹریٹر اور میٹروپولیٹن کمشنر کو مطلعہ کیا ہے کہ، عدالت عظمی ٰکے 2013ء اور 2015ء کے فیصلوں پر عمل کرتے ہوئے مذکورہ افسران کے بلدیہ عظمیٰ کراچی میں ڈیپوٹیشن اور انضمام کے احکامات واپس لیے جاچکے ہیں، اس لیے 12 دسمبر تک مذکورہ افراد کو اپنے اصل محکموں میں اصل گریڈ کے ساتھ کے ایم سی سے فارغ کر کے بھیج دیا جائے۔

مزید پڑھیں: سندھی ثقافت اور تہذیب دنیا کی قدیم ترین تہذیب اور ثقافت میں سے ایک ہے۔پی ٹی آئی

اس خط میں مذکورہ افسران کے نام اور اصل گریڈ بھی واضح کیے گئے ہیں جس کے مطابق گریڈ 17 کے کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ انجینئر نجیب احمد، سپرنٹنڈنٹ انجینئر انیس قائم خانی، ایگزیکٹو انجینئر طارق عزیز، شکیب احمد، گریڈ 17 کے شبیع الحسن ، گریڈ 14 کے ڈی ایم سی سینٹرل کے آفاق سعید، ڈی ایم سی سینٹرل کے گریڈ 5 کے نعمان ارشد، ضلع غربی مظہر علی شیخ، گریڈ 11 کے مشیر احمد اور محکمہ جنگلات کے گریڈ 17 کے مسعود عالم ہیں۔

خیال رہے کہ محکمہ بلدیات نے اس سے قبل بھی مذکورہ لیٹر جاری کیا تھا جس پر ایڈمنسٹریٹر کے ایم سی نے جواب دیا تھا کہ لوکل گورنمنٹ بورڈ کے احکامات پر کے ایم سی عمل درآمد کرنے کا پابند نہیں ہے۔

مزید پڑھیں: سپریم کورٹ کا وزیراعلیٰ سندھ کو توہین عدالت کا نوٹس

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ایک طرف تو بلدیہ عظمیٰ میں عدالت عظمیٰ کے حکم پر عمل درآمد نہیں کیا جا رہا تو دوسری طرف صوبائی حکومت کی ہدایت کو بھی کوئی اہمیت نہیں دی جاتی۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ مذکورہ تمام افراد اب خلاف قانون ترقیاں حاصل کرکے گریڈ 19 اور 20 میں پہنچ چکے۔ جس سے ایسا تاثر ملتا ہے کہ ان افسران کے خلاف نیب سمیت ملک کا کوئی بھی ادارہ کارروائی کرنے کا اختیار نہیں رکھتا

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *