میڈیا کے تمریضی صیغوں کا زہریلا کردار

تحریر: علی ہلال

ترکی اور سعودی عرب کے درمیان اعلی سطحی رابطوں اور خلیج تنازع کے خاتمے کےلیے جاری کوششوں کی کامیابی کے اعلان کے ساتھ ہی ان اعلامی اداروں کے لب ولہجہ پر بھی تبدیلی کے اثرات منعکس ہورہے ہیں جو 2017 کے بعد مسلسل غلط بیانی میں مگن تھے ۔

گزشتہ تین سال سے ماضی میں موقر سمجھے والے چند عرب خبررساں اداروں نے انتہائی تکنیکی انداز سے غلط بیانی اور منفی پروپیگنڈے کا خوفناک سلسلہ جاری رکھا ہوا  تھا ۔ مختلف مواقع پر متعدد باخبر صحافی دوستوں کو بھی  غلط فہمی ہوئی ۔

التزام کے ساتھ عرب افیئرز پر نظر رکھنے والے جانتے ہیں کہ اسلامی ممالک کے درمیان تعلقات کی کشیدگی سب سے پہلے میڈیا پر چلنے والی افواہوں سے جنم لیتی ہے ۔ جو رفتہ رفتہ سوشل میڈیا کی پیچ پر کھیلتے ہوئے فیصلہ ساز اداروں اوراسٹڈیز مراکز تک پہنچ جاتی ہیں جہاں تمریض کے صیغوں کے ساتھ ( خیال رہے کہ تمریض کے صیغوں سے مراد خبر کے ذرائع کے کے نام کے بجائے لکھے جانے والے الفاظ ہوتے ہیں ۔ جیسے: بعض ذرائع نے کہا ۔ کہا گیا ۔ یہاں یہ بھی کہا جارہا ہے۔ بعض باخبر ذرائع نے بتایا ۔۔ کہا جارہا ہے کہ ۔۔ وغیرہ )

مزید پڑھیں: سعودی عرب کا ترک مصنوعات کے بائیکاٹ کا اعلان

طاقتور اسٹڈیز رپورٹوں میں داخل ہوکر وہاں سے ’’انٹرنیشنل مارکہ ‘‘ حکی ڈوز حاصل کرکے  صحت مند بن جاتی ہیں اور یوں اعلی ایوانوں تک پہنچنے کی صلاحیت سے مالا مال ہو کر اثر پذیری دکھا نے لگتی ہیں ۔

ترک سعودی معاملہ ،خلیج تنازع اور بعدازاں اسرائیل سے  عرب ممالک کے تعلقات ایسے موضوعات ہیں جن پر متنازع اعلامی ادارے کھل کر کھیلے ہیں ۔ آج عراق سے متعلق ایک رپورٹ نظر سے گزری ۔ رپورٹ نشر کرنے والے ادارے کو دیکھ کر خوشی ہوئی کہ خلیج تنازع حل ہونا کوئی مشکل نہیں رہا کیونکہ میڈیا کے ایسے ادارے ابھی اپنا لب ولہجہ بدلنے کی صلاحیت سے  تہی دست نہیں ہوئے ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *