مولانا ڈاکٹر عادل خان شہیدؒ کے تعزیتی ریفرنس میں ملک بھر کے علما شریک

کراچی : شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی نے کہا ہے کہ مولانا ڈاکٹر محمد عادل خان شہید تحفظ مدارس کے داعی تھے ، ان کi شہادت کا سانحہ پوری امت کے لئے نقصان ہے ، شہید  امریکا اور ملائشیا میں تمام آسائشوں کو ٹھکرا کرت تعلیمی ، ملی اور قومی خدمات  کے لئے پاکستان آئے تھے ۔

وفاق المدارس کے ناظم اعلیٰ مولانا محمد حنیف جالندھری نے کہا ہے کہ مولانا ڈاکٹر عادل خان کو ناموس صحابہ و اہلبیت ، اتحاد امت اوردینی اداروں کے تحفظ کی خدمت کر رہے تھے اور ان کو اسی وجہ سے شہید کر دیا گیا ۔

جمعیت علماء اسلام مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا ہے کہ آج ہم اسلام کے نام پر قائم ہونے والے ملک میں ناموس رسالت ﷺ اور ناموس صحابہ  کے تحفظ کے لئے جلسہ ، جلوس اور مظاہرے کر رہے ہیں ، یہ جلسے  تو ہندوستان میں ہونے چاہئے تھے ، مگر ریاستی اداروں کی جانب سے اپنی زمہ داری پوری نہ کرنے پر جب کوئی جرم سرزد ہوتا ہے اور مجرم وں کی گرفت نہیں ہوتی ہے تو ہمارے اکابر تحفظ ناموس رسالت ﷺ اور صحابہ کے تحفظ کی آگاہی کے لئے سامنے آتے ہیں تو ان کو شہید کر دیا جاتا ہے ،جب کہ دیگر علماء نے مولانا ڈاکٹر عادل خان کے قاتلوں کی عدم گرفتاری پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے ۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوار کو جامعہ فاروقیہ کراچی فیز 2 حب ریور  روڈ میں ’’مولانا ڈاکٹر عادل خان شہید‘‘ کی یاد میں  ہونے والے تعزیتی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اجتماع مولانا عبید اللہ خالد کی صدارت میں ہوا ۔

جب کہ مولانا منظور مینگل، مولانا قاضی نثار احمد، مولانا راشد محمود سومرو ، مولانا مفتی انس عادل خان ، مولانا عمیر عادل خان ،مولانا امداد اللہ ، مولانا زبیر حق نواز ، مولانا اورنگزیب فاروقی ، مفتی نعمان نعیم ، مولانا قاضی عبدالشید ، مفتی محمد ، مولانا مطیع اللہ ، مولانا قاضی محمود الحسن  اشرف ، مولانا تنویر الحق تھانوی، مفتی کفایت اللہ ،مولانا  احمد بنوری ، مرکزی جمعیت اہلحدیث مولانا افضل سردا ر ، جماعت اسلامی کے اسد اللہ بھٹو اور دیگر نے خطاب کیا ۔

جب کہ مولانا راحت علی ہاشمی ، مولانا یوسف افشانی، مولانا عبدالستار ، مولانا سلمان بنوری ، مولانا محمد انور  اور دیگر  نے  شرکت کی ۔ اجتماع میں شہر بھر سے بڑی تعداد میں لوگوں شریک تھے ۔ مفتی محمد تقی عثمانی نے کہا کہ شہادت سے 20 منٹ قبل مولانا ڈاکٹر عادل خان کو میں نے اپنے گھر سے رخصت کیا اور ایسا لگتا ہے کہ وہ میرے ہاتھوں سے نکل گئے ، مولانا ڈاکٹر عادل خان کی شہادت پر امت کا ہر فرد تعزیت کا مستحق ہے ۔

انہوں نے کہا کہ شہید کئی صلاحیتوں کے مالک تھے، انہوں نے مصروفیات کے باوجود "تاریخ اسلامی جمہوری پاکستان” کتاب لکھی، میں سمجھا کہ سرسری لکھی ہو گی مگر آپ نے اتنی جامعیت سے لکھی کہ حیران رہ گیا، اس سے زیادہ جامع کتاب نہیں دیکھی، اس کو پڑھ کر مکمل کیا ۔

ناظم اعلی وفاق المدارس مولانا محمد حنیف جالندھری نے کہا کہ مولانا ڈاکٹر عادل خان شہید نے  چار بڑے مشن میں کام کیا ۔ان کا پہلا مشن دینی   مدارس  کی آزادی و خود مختاری کا تحفظ تھا اور آخری دم تک اسی پر جد و جہد کرتے رہے ۔ دوسرا مشن  ناموس صحابہ و اہلبیت تھا اور اسی  مشن پر جان قربان کر دی ۔ تیسرا مشن  پاکستان سے محبت  تھا اور یہ حق”تاریخ اسلامی جمہوری پاکستان” کتاب لکھ کر حق ادا کر دیا۔ چوتھا مشن مدارس کی پہرہ داری تھی  اور اسکا حق ادا کر دیا ۔ انہوں نے اہل مدارس کو ہدایت کی ہے کہ اتحاد تنظیمات مدارس کی ہدایت کے بغیر  کوئی اور سرکاری  دستاویز تیار اور نہ رجسٹریشن کریں ۔

جمعیت علماء اسلام  سیکریٹری جنرل سینیٹر مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا کہ ہمارے اکابر نے ہر میدان میں قربانی دی ہے ۔ ڈاکٹر عادل خان کی شہادت پر ہم سے کو اپنے آپ سے تعزیت کرنی ہے اور ان کے مشن کو جاری رکھنے کا عزم کرنا ہے ۔ جس جرات و بہادری سے مولانا ڈاکٹر عادل خان شہید نے ناموس رسالت اور صحابہ و اہلبیت کے لئے کام کیا ہے یہ انہی کی شان تھی ۔ مقررین نے شیخ الحدیث مولانا ڈاکٹر عادل خان شہید کے قاتلوں اور توہین صحابہ کے مرتکب افراد کی عدم گرفتاری کی شدید مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ سب ثبوت ہونے کے باوجود مجرموں کی عدم گرفتاری سوالیہ نشان اور ریاست کے لئے چیلنج ہے ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *