قائد عوام یونیورسٹی نوابشاہ کے وائس چانسلر نے من پسند افسران کو سلیکشن بورڈ میں شامل کردیا

وابشاہ: قائدِ عوام یونیورسٹی آف انجینیئرنگ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (کوئیسٹ) میں موجودہ نگران وائس چانسلر سلیم رضا سموں کی زیرِ سرپرستی سنگین مالی بدعنوانیوں اور بے قاعدگیوں کا انکشاف ہوا ہے۔

طاقت کے نشے میں مست نگران وائس چانسلر نے گورنر کی جانب سے تفویض کردہ اختیارات سے تجاوز کیا، یہاں اس امَر کی نشاندہی ضروری ہے کہ نگران وائس چانسلر کے یونیورسٹی کے آئین کے مطابق اختیارات محدود ہوتے ہیں۔ سلیم رضا سموں نے اپنے قانونی اختیارات سے سے تجاوز کرتے ہوئے گورنر اور سپریم کورٹ کے احکامات کی دھجیاں اڑا دیں۔

گورنر سندھ کی جانب سے جاری کردہ احکامات کے مطابق ایک نگران وائس چانسلر کوئی بڑا فیصلہ کرنے کا مجاز نہیں نا ہی وہ بورڈ میمبرز کو سیلیکٹ کرسکتا ہے، نا کوئی پروموشن کرسکتا ہے ناہی کسی قسم کی بھرتی کرنے کامجاز ہے اور ناہی ہائر ایجوکیشن کمیشن کی بنائی ہوئی پالیسیوں میں تبدیلی کرسکتا ہے مگر سلیم رضا سموں نے گورنر اور عدالتی احکامات کو پسِ پشت ڈال کر یہ سب کچھ کیا۔

یونیورسٹی کے سینیئر اساتذہ نے ڈاکٹر آصف میمن اور اسسٹنٹ پروفیسر مختیار کوری کی سربراہی میں پریس کانفرنس کے دوران وائس چانسلر پر الزام عائد کیا کہ ایک لمبے عرصے سے ایک عارضی وائس چانسلر تعینات کیا گیا ہے جس نے تمام قوانین کو بالائے طاق رکھ کر 20 سے 25 لوگوں کو غیر قانونی طریقے سے سیلیکشن بورڈ میں ڈالا ہے جو کہ عدالت اور چانسلر (یعنی گورنر) کے احکامات اور ایچ ای سی قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔

ڈاکٹر آصف نے کہا کہ اسکے علاوہ ٹرانسفرز اور پوسٹنگز بھی کی جارہی ہیں جنکی ایچ ای سی قوانین کے مطابق ایک ایکٹنگ وائس چانسلر کو اجازت نہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ عارضی طور ہر تعینات کردہ وائس چانسلر صرف روزمرہ کے معاملات دیکھنے کا مجاز ہے مگر طاقت کے نشے میں مست سلیم رضا سموں کو ان کی آئینی حدود کا اندازہ ہی نہیں۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ انہوں نے اپنے اس دور میں ایک کنٹرولر ایگزامینیشن کو بھی تبدیل کیا۔

ڈاکٹر آصف کا کہنا تھا کہ وائس چانسلر کے اس رویے کی وجہ سے ایچ ای سی نے یونیورسٹی کو فنڈز کی ترسیل بھی روک دی ہے۔

دوسری جانب انہوں نے پاکستان پیپلز پارٹی کی صوبائی قیادت اور چانسلر سے نگران وائس چانسلر سلیم رضا سموں کو تبدیل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

واضح رہے کے سلیم رضا سموں کافی عرصہ پرو وائس چانسلر کے عہدے پر اپنے فرائض انجام دیتے رہے ہیں مگر اس دوران بھی ان پر چند طلبہ تنظیموں کی مدد سے ایڈمیشن میں سیٹوں کی خریدو فروخت کا الزام لگایا جاتا رہا ہے مگر تاحال کوئی کاروائی نہیں ہوسکی۔

رپورٹ: منظور علی بھگیو

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *