جناح اسپتال ڈاکٹر سیمی جمالی نے ہائی جیک کرلیا ،اسپتال کی 21 ایکٹراراضی پر850 افراد قابض

الرٹ نیوز : جناح اسپتال ڈاکٹر سیمیں جمالی نے ہائی جیک کرلیا ،گھروں کی الاٹمنٹ سے لیکر ڈاکٹروں کی ڈیوٹیاں سیمیں جمالی لگاتی ہے ،یم آر آئی ،سٹی اسکین سے لیکر بلڈ بینک تک کی مد میں ہزاروں روپے کی فیسیں وصول کی جاتی ہیں ،اسپتال کی 21 ایکٹر اراضی پر 850 افراد قابض ہیں ،3 عہدوں پر براجمان ڈاکٹر سیمی جمالی نے اسسٹنٹ پروفیسر کے خلاف محاذ قائم کرلیا ۔

صوبے کے سب سے بڑے سرکاری اسپتال جناح اسپتال کراچی میں ایک جانب مریضوں سے علاج کے پیسے وصول کیے جارہے ہیں ، انفیکشن ریٹ بڑھ رہا ہے ،غریب مریضوں کو آپریشن کے لئے لمبی لمبی تاریخیں دی جارہی ہیں ،غریبوں کے علاج مشکل سے مشکل تر اور امیروں کو پروٹوکول دیا جارہاہے ، نومولود بچے اغواء ہورہے ہیں ، موٹر سائیکلیں چوری ہورہی ہیں ، ملازمین اپنے کوارٹرز غیر قانونی طور پر فروخت کر رہے ہیں ، الاٹ کیے گئے مکان کرائے پر چڑھا ئے جارہے ہیں لیکن اسپتال کی عارضی ایگزیگٹیوڈائریکٹر ان تمام مسائل کو حل کرنے ، مریضوں کو صحت کی بہترین سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانے اور شعبہ حادثات کی حالت بہتر بنانے پر توجہ دینے کے بجائے ایک خاتون اسسٹنٹ پروفیسر اور اس کی تین معصوم بچیوں سے زبردستی فلیٹ خالی کرانے میں مصروف ہیں اور اپنے تمام تعلقات اسی ضمن میں استعمال کر رہی ہیں ۔

ڈاکٹر سیمی جمالی کے زیر عتاب رہنے والی ڈاکٹر ہرتمینہ خان

ڈاکٹر سیمیں جمالی ایک نہتی خاتون اسسٹنٹ پروفیسرڈاکٹر ہرتمینہ خان سے فلیٹ خالی کرانے کےلئے پولیس اور ڈپٹی کمشنر سے مدد طلب کر چکی ہیں ۔جس کی جناح اسپتال ڈاکٹرز ایسوسی ایشن نے شدید مذمت کی ہے اور ڈاکٹر سیمیں جمالی کو اس ظالمانہ اقدام سے باز رہنے کی ہدایت کی ہے ۔ایسوسی ایشن نے اپنے اعلامیےمیں کہا ہے کہ اسپتال کی 21 ایکٹر اراضی پر 45 سالوں سے 850 افراد غیر قانونی طور پرقابض ہیں ،جنہوں نے کوارٹرز میں پورشن بنا کر کرائے پر دیئے ہوئے ہیں کچھ ملازمین نے سرکاری کوارٹرزفروخت کر دیئےہیں لیکن آج تک ڈاکٹر سیمیں جمالی نے ان کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی تاہم اب ذاتی عناد ورنجش پر ایک مستندخاتون اسسٹنٹ پروفیسرڈاکٹر ہرتمینہ خان سے فلیٹ کرانے کے لئے پولیس و ایگزیگیٹیو مجسٹریٹ کو طلب کر لیا گیاجو قابل مذمت ہے ۔

ڈاکٹر سیمیں جمالی ایک ایسی خاتون اسسٹنٹ پروفیسر کو بے گھر کرنا چاہتی ہیں جواپنی تین معصوم بچیوں کے ہمراہ رہائش پذیر ہیں جو جناح اسپتال کے ای این ٹی ڈیپارٹمنٹ میں روزانہ درجنوں مریضوں کا معائنہ کرتی ہیں، جو ہفتہ میں درجنوں پیچیدہ آپریشن کرکے مریضوں کو بیماریوں سے نجات دلاتی ہیں اورجو پاکستان کی چندمعروف خاتون ای این ٹی ہیڈ اینڈ نیک سرجنز میں سے ایک ہیں ۔

اعلامیے میں مذید کہا گیا ہے کہ ڈاکٹر سیمیں جمالی تین معصوم بچیوں کی ماں کو بے گھر کر کے کیا ثابت کرناچاہتی ہیں ؟ڈاکٹر سیمیں جمالی کا موقف ہے کہ فلیٹ ڈاکٹر ہرتمینہ کے سابق شوہر ڈاکٹر کاشف کو الاٹ ہوا تھا تو اگرچہ فلیٹ ڈاکٹر کاشف کو ہی الاٹ ہوا تھا لیکن اب ڈاکٹر کاشف اپنے اہلخانہ کے ہمراہ عسکری فلیٹس میں رہائش پذیر ہیں انہیں فلیٹ کی ضرورت نہیں تاہم تین معصوم بچیوں کی ماں ڈاکٹر ہرتمینہ خان کو ضرورت ہے اور چونکہ جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی کے درجنوں پروفیسرز، ایسوسی ایٹ پروفیسر اور اسسٹنٹ پروفیسر جناح اسپتال کے فلیٹوں میں رہ رہے ہیں اس لئے ڈاکٹر ہرتمینہ خان بھی اس فلیٹ میں رہنے کی حقدار ہیں ۔

اعلامیہ میں مذید کہا گیا ہے کہ ڈاکٹر سیمیں جمالی کو حکومت سندھ نے عارضی طور پر ایگزیگیٹیو ڈائریکٹر کا چارج دیا تھا کہ جب تک مستقل ڈائریکٹر نہیں مل جاتا ڈاکٹر سیمیں تعینات رہیں گی لیکن اب سیاسی اثر رسوخ کے باعث وہ مستقل اس سیٹ پر قابض ہو گئی ہیں اور ملازمین پر مظالم ڈھا رہی ہیں ۔ اگر ڈاکٹر ہرتمینہ سے فلیٹ خالی کرایا گیا تو ڈاکٹر سیمیں جمالی سے بھی ایگزیگیٹیو ڈائریکٹر کی سیٹ کا قبضہ واپس لینے کے لئے عدالت سے رجوع کیا جائے گا۔ دوسری جانب یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ اسپتال میں پروفیسر، ایسوسی ایٹ پروفیسر، اسسٹنٹ پروفیسر، میڈیکل آفیسرز، اسٹاف نرسز، کلینیکل و نرسنگ انسٹرکٹرز، پیرامیڈیکل اسٹاف ، کلیریکل اسٹاف ، سیکیورٹی اسٹاف اور سینیٹری ورکزر سمیت دیگر عملے کی بارہ سو سے زائد نشستیں خالی ہیں ۔ اسپتال میں پہلے ہی ڈاکٹروں کی کمی ہے ایسے میں ایک ڈاکٹر کو بے گھر کرنے سے مریضوں کو بھی پریشانی کا سامنا کرنا پڑے گا ۔

جناح اسپتال کراچی کی ڈائریکٹر ڈاکٹر سیمی جمالی اسسٹنٹ پروفیسرڈاکٹر ہرتمینہ خان کو ذاتی انتقام کا نشانہ بنانے لگی ،درجنوں ڈاکٹرز کے گھروں کو چھوڑ کر صرف ایک فلیٹ خالی کرانے کی کوشش کرنے لگی ہیں ،بیک وقت تین عہدے رکھنے والی ڈاکٹر سیمی جمالی انتہائی بااثر خاتون سمجھی جاتی ہے جس کی وجہ سے ڈاکٹر ہرتمینہ خان کو خطرات لاحق ہیں ۔ جناح اسپتال کراچی کی انتظامیہ ای این ٹی کی اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر ہرتمینہ خان سے زبردستی فلیٹ خالی کرانے کی کوشش کرنے لگی ہے ،جناح اسپتال کے درجنوں فلیٹس میں جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی کے اساتذہ رہائش پذیر ہیں ،جن میں پروفیسر ڈاکٹر اقبال آفریدی، پروفیسر ڈاکٹر صغراں پروین ، پروفیسر ڈاکٹر لعل رحمان ، پروفیسر ڈاکٹر خالد شیر ، پروفیسر ڈاکٹر قربان شیخ ، پروفیسر ڈاکٹر شہزاد ، پروفیسر ڈاکٹر الائشہ چیمہ ، پروفیسر ڈاکٹر محمد عثمان ، پروفیسر ڈاکٹر مشعال خان ، پروفیسر ڈاکٹر حلیمہ ، ڈاکٹر منان جونیجو ، ڈاکٹر مسرور ، ڈاکٹر ذیشان ، ڈاکٹر چنی لعل سمیت تقریباً 90 فیصد فیکلٹی / ڈاکٹرز شامل ہیں جو یہ جناح اسپتال کے فلیٹس میں رہائش پذیر ہیں ۔

ذرئع کا کہنا ہے کہ جناح اسپتال کی ڈاکٹر سیمی جمالی سیاست و بیوروکریسی میں اعلی اثرورسوخ رکھتی ہے جس کی وجہ سے پولیس،اعلی انتظامیہ کے ذریعے مذکورہ ڈاکٹرکے خلاف انتقامی کارروائی کی جاررہی ہے ،جس کی وجہ سے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر ہرتمینہ خان سے ان کا فلیٹ خالی کرانا ذاتی رنجش کا نتیجہ لگتا ہے۔ خاتون پروفیسر اور اس کی تین معصوم بیٹیاں فلیٹس میں رہائش پذیر ہیں، جن کو خالی کرانے کے لئے دباؤ بڑھایا جانے لگا ہے ،ذرائع سے حاصل ہونے والی دستاویزات کے مطابق جناح اسپتال کی ڈائریکٹر سیمی جمالی نے ایس ایس پی ویسٹ پیر محمدشاہ ،ڈپٹی کمشنر ویسٹ سمیت دیگر متعلقین کو خطوط بھی لکھے ہیں جن میں صرف ایک ڈاکٹر ہرتمینہ خان سے ان کا فلیٹ خالی کے کرانے کے لئے مدد طلب کی ہے ۔تاہم مذکورہ افسران کی جانب سے سیمیں جمالی کے ذاتی کیس میں دلچسپی نہیں لی گئی ۔تاہم اس سلسلے میں اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر ہرتمیبہ خان ڈپریشن ، ذہنی اذیت اور مایوسی کا شکار ہے ۔

معلوم رہے کہ ڈاکٹر سیمی جمالی غیر قانونی طورپر اس وقت 3عہدوں پر کام کررہی ہیں،جن میں ڈائریکٹر ،ایگزیگٹیو ڈائریکٹر اور اچنارج ایمرجنسی شامل ہیں ،جب کہ وہ پی ایچ ڈی بھی اپنے من پسند اور غیر قانونی تعینات ہونے والی ڈاکٹر کوثر عامر کی سپرویژن میں کررہی ہیں ۔اس حوالے سے ڈاکٹر ہر تمینہ خان کا کہنا ہے کہ ‘‘مجھے کچھ ہوا تو اس کی ذمہ دار ڈاکٹر سیمیں جمالی ہوں گی ،ان کا مذید کہنا ہے کہ وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ نوٹس لیں اور مجھے اور میری تین بیٹیوں کو بے گھر ہونے سے بچائیں ۔

واضح رہے کہ جناح اسپتال کراچی میں مریضوں سے علاج کی مد میں پیسوں کی وصولی کے ساتھ باہرسے ادویات ودیگر طبی اشیاء منگوانے کا سلسلہ تاحال جاری ہے ۔ حکومت سندھ کی جانب سے اسپتال کے بجٹ میں خاطر خواہ اضافے اور محکمہ صحت سندھ کی بارہا مفت علاج کی ہدایات کے باوجود اسپتال انتظامیہ اس سلسلے میں سنجیدہ نظر نہیں آتی ۔ صوبے کے سب سے بڑے سرکاری اسپتال ، جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر میں ایم آر آئی کے 1500سے 3500 روپے ،سی ٹی اسکین کے 1000روپے ، پی سی آرٹیسٹ کے 2800روپے، بلڈ بیگ کے 750روپے،آنکھوں کے لینس کے 10 ہزار سے 25ہزارروپے ، آرتھوپیڈک سرجری راڈ کے10ہزار سے 25ہزار روپے ،نیوروسرجری میں اسپائنل کارڈ پلیٹ کے 70ہزار سے ایک لاکھ روپے،ہیپاٹائٹس ٹیسٹ کے500 روپے ، ٹائیفائیڈ ٹیسٹ کے 400، ایچ بی ون سی کے 600روپے سمیت مختلف سروسز کے نام پرمریضوں سے ہزاروں روپے لیے جاتے ہیں ۔ اسپتال کے مختلف شعبہ جات میں مریضوں سے باہر سے اشیاء منگوائی جاتی ریتی ہیں ۔ صرف شعبہ حادثات میںہی اکثر وبیشتر ٹانکے لگانے کےلئے مخصوص دھاگے وکرل، پرولین اور کیٹ گٹ سمیت ادویات ، انجیکشن ، کینولا، گاز ودیگر سامان باہر سے منگوایا جاتا ہے جو مریضوں کے لئے شدید پریشانی کا باعث بنتا ہے ۔

Show More

One Comment

  1. میں نے جب سے ہوش سنبھالا ہے اس خاتون کو اسی طرح دیکھا ہے ۔ ہمیشہ جناح اسپتال کا نام آتا ہے تو اس کے ساتھ ڈاکٹر سیمی جمالی کا نام بھی آتا ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close