ایکٹویسٹ شہلا رشید کا اپنے والد سے تنازع کیا ہے ؟

جواہر لال نہرو یونیورسٹی (جے این یو) کی طلبہ سیاست سے شہرت پانے والی شہلا رشید اور ان کے والد عبدالرشید شورا کے درمیان  تنازع انڈین میڈیا میں اس وقت موضوعِ بحث بنا ہوا ہے۔

یہ بحث اس وقت اچانک چھڑ گئی جب  شہلا رشید کے والد عبدالرشید شورا نے اپنے ایک ویڈیو میں بتایا کہ انہوں نے پولیس کے ڈائریکٹر جنرل کو درخواست دی ہے کہ وہ ان کی بیٹی شہلا رشید ‘ملک دشمن سرگرمیوں’ کی جانچ کرے۔ عبدالرشید کی یہ ویڈیو پیر کے روز منطرعام پر آئی تھی۔

عبدالرشید شورا نے شہلا پر یہ الزام بھی لگایا کہ 2017 میں جموں کشمیر پیپلز موومنٹ (جو سابق آئی اے ایس افسر اور 2010 بیچ کے ٹاپر) شاہ فیصل نے بنائی تھی ، جوائن کرنے کے لیے کشمیری سیاست دان انجیئنر رشید اور ظہور وتالی سے 3 کروڑ روپے بھی لیے۔

مزید پڑھیں: مقبوضہ کشمیر پر بھارت کیخلاف OIC اجلاس میں قرار داد منظور

شہلا رشید کے والد نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ انہیں اپنی بیٹیوں شہلا رشید ، عاصمہ رشید اور بیوی زبیدہ کی جانب سے جان کا خطرہ لاحق ہے۔

شہلا رشید نے اپنے ٹویٹر پر اس کا جواب دیتے ہوئے لکھا کہ ”آپ میں سے اکثر نے میرے والد کی میرے، میری بہن اور ماں سے متعلق سنگین الزامات پر مبنی ویڈیو دیکھ لی ہو گی، مختصر اور دو ٹوک بات یہ ہے کہ یہ شخص اپنی بیوی پر تشدد کرنے والا، ہذیان گو اور اخلاق باختہ شخص ہے۔ ہم نے اس کے خلاف بالآخر کارروائی کا فیصلہ کر لیا ہے، اس کا یہ تازہ اسٹنٹ اسی کا ردعمل ہے”

شہلا نے کہا ہے کہ ”یہ کوئی سیاسی معاملہ نہیں ہے، یہ معاملہ اس وقت سے چل رہا ہے جب سے میں نے شعور سنبھالا ہے، 2005 میں اسے محلہ کمیٹی نے گھر والوں پر تشدد سے منع کیا تھا۔ اس نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ اس کی تابعدار بیٹیاں اور بیوی کبھی اس کے خلاف آواز اٹھائیں گی، اب جبکہ معزز عدالت نے 17 نومبر 2020 کو اسے گھر میں داخل ہونے سے روک دیا ہے تو یہ  عدالتی کارروائی کو متاثر کرنے کے لیے اس طرح کے سستے حربے آزما رہا ہے۔”

مزید پڑھیں: محبوبہ مفتی کا بھارتی پرچم اپنے پاس رکھنے سے انکار

دوسری جانب جموں کشمیر پیپلز موومنٹ کے بانی شاہ فیصل نے اس معاملے کو گھریلو تنازع قرار دیتے ہوئے کوئی بھی رائے دینے سے گریز کیا ہے۔ خیال رہے کہ شاہ فیصل 5 اگست 2019 کے بعد جیل سے رہا ہونے پر سیاست کو خیر باد کہہ چکے تھے۔

آوٹ لُک انڈیا کے مطابق حکمراں جماعت بی جے پی کے کچھ لیڈر اس معاملے کو سیاسی رنگ دے رہے ہیں اور  شہلا رشید اور شاہ فیصل پر الزام عائد کر رہے ہیں کہ انہوں نے جموں کشمیر پیپلز موومنٹ کی صورت میں نئی حریت کانفرنس بنانے کے لیے پاکستان سے مالی مفادات لیے تھے اور وہ انڈین خفیہ ایجنسی این آئی اے سے اس کی تحقیقات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

سری نگرمیں پیدا ہونے والی  32 سالہ شہلا رشید انسانی حقوق کی سرگرم کارکن ہیں اور آج کل وہ جواہر لال یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کر رہی ہیں۔ وہ 2015-16 کے دورانیے میں جے این یو اسٹوڈنٹس یونین کی نائب صدر بھی رہ چکی ہیں۔ شہلا رشید انڈیا میں بائیں بازو کی طلبہ سیاست کا ایک نمایاں کردار ہیں۔ شہلا رشید، کنہیا کمار اور عمر خالد ماضی قریب میں ہوئے جے این یو کے طلبہ مظاہروں کے دوران منظر عام پر آئے تھے ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *