ماں کا دودھ بچوں کا بنیادی حق ہے ۔ ڈاکٹر خالد

رپورٹ : جیند شاہ سوری

کچھ روز قبل باجور ٹائمز کراچی کے نمائندہ جنید شاہ سوری نے چھاتی کے دودھ نہ پلانے سے متعلق کراچی کے مقامی ڈاکٹر خالد سے ملاقات کی اور اس اہم مسئلے پر آپ معزز قارئین کے لیے انٹرویو ترتیب دیا ۔ یہ انٹرویو قارئین پڑھنے کے ساتھ ساتھ مندرجہ ذیل ویڈیو میں ملاحظہ بھی کرسکتے ہیں ۔

جنید شاہ سوری : ڈاکٹر صاحب “بریسٹ فیڈ” یعنی چھاتی کا دودھ کے بارے میں بتائیں ، اس سے نومولود بچے پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں؟

ڈاکٹر خالد: سب سے پہلے بریسٹ فیڈ تمام بچوں کا ایک بنیادی حق ہے۔ہمارے ہاں یہ ٹرینڈ بن گیا ہے کہ مائیں بچوں کو اب چھاتی کا دودھ نہیں پلاتی جس کی وجہ سے بچے مختلف بیماریوں میں مبتلا ہوجاتے ہیں ، خاص کر سینے کے انفیکشن میں۔ اس کی اہم وجہ یہ ہے کہ مائیں چھاتی کا دودھ نہیں پلاتی۔

جنید شاہ سوری : چھاتی کا دودھ نہ پلانے سے بچوں میں کونسی بیماریاں جنم لیتی ہیں؟

ڈاکٹر خالد : اس میں چھاتی کا انفیکشن ، ڈائیریاں سمیت کئی بیماریاں بچے پر لاحق ہوسکتی ہیں ۔

جنید شاہ سوری : جو مائیں بچوں کو چھاتی کا دودھ پلاتی ہیں ان کے بارے میں بتائیں؟

ڈاکٹر خالد : جو مائیں بچوں کو مسلسل چھاتی کا دودھ پلاتی ہیں وہ بچے بہترین طریقے سے نشونما پاتے ہیں۔ چھاتی کا دودھ نہ صرف بچوں کیلیے ضروری ہے بلکہ ان ماوں کے لیے بھی انتہائی ضروری ہے۔سب سے اہم بات یہ بھی ہے کہ وہ مائیں بریسٹ کینسر اور شوگرکے شکار ہونے سے بھی بج جاتی ہیں۔

جنید شاہ سوری : ان ماوں کو کیا پیغام دیں گے جو چھاتی کا دودھ نہیں پلاتی؟

ڈاکٹر خالد : لہذا ہم تمام ماوں کو یہ پیغام پہنچانا چاہتے ہیں کہ وہ مستقل طور پر اپنے بچوں کو چھاتی کا دودھ پلائیں خاص کر جب کوئی نومولود بچہ جنم لینے کے بعد اس کی پہلی غذا ماں کا دود ہونی چاہیے۔

جنید شاہ سوری : بچوں کو کتنی عمر تک چھاتی کا دودھ پلانا چاہیئے؟

ڈاکٹر خالد : تقریبا 6 ماہ تک ماں کا دودھ پلانا چاہیئے۔ شروع کے دنوں میں 3 سے 4 گھنٹے دودھ پلانا چاہیے۔ جبکہ دودھ پلانے کا دورانیہ 10 سے15 منٹ تک ہونا چاہیے۔یہ بچوں کا بنیادی حق ہے۔

جنید شاہ سوری : کیا چھاتی کا دودھ بچوں کا بنیادی حق ہے؟

ڈاکٹر خالد : جی باالکل یہ بچوں کا بنیادی حق ہے۔ ماوں کو اس بات کا خاص خیال رکھنا چاہیے اور اس پر عمل کرنا چاہیے۔

جنید شاہ سوری : بریسٹ کینسر کیا ہے؟

ڈاکٹر خالد : بریسٹ کینسر ایک ایسا کینسر ہے جو سینے کے ٹیشو میں جنم لیتا ہے اور اس کے اثرات کچھ اس طرح ہوتے ہیں کہ بریسٹ کے سائز میں تبدیلی آجاتی ہے۔ اس کی وجوہات اب تک معلوم نہیں ہوسکی لیکن رسک فیکٹر ضرور ہے۔ ورزش نہ ہونے کے باعث اور چھاتی کا دودھ نہ پلانے سے رسک بڑھ سکتا ہے۔

جنید شاہ سوری : ڈبے کے دودھ کے نقصانات اور اسے پلانا کب ضروری ہے؟

ڈاکٹر خالد : ڈیری ملک جسے ہم انفینٹ فارمولہ کہتے ہیں۔ یہ اس حالات میں دیتے ہیں جب ماں کا دودھ بالکل نہیں آرہاہو۔لیکن ماں کے دودھ کا کوئی نعم البدل نہیں۔

جنید شاہ سوری : ان ماوں کے لیے کیا پیغام دیں گے جن کا دودھ نہیں ہوتا ہے؟

ڈاکٹر خالد : مائیں اپنا خیال ضرور رکھیں با الخصوص “پریگنینسی” کے دوران۔ اچھی ڈائیٹ لیں ۔ دودھ پیئیں ، پانی کا استعمال زیادہ کریں، وٹامن سپلیمنٹ کا استعمال کریں ، تازہ پھل ، ہری بھری سبزیاں کھائیں ، الکوحل سے بچیں ، مثالہ جات چیزوں سے پرہیز کریں ۔ چونکہ اسی دوران بچہ ماں کے پیٹ میں نشونماں حاصل کر رہا ہوتا ہے ۔ ماں اگر ٹینشن میں رہے گی بچے کی نشونماں پر اثر مرتب ہوگا ۔

Show More

2 Comments

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close