سندھ پولیس اپنی ہی لیڈی سب انسپکٹر کو انصاف دینے میں ناکام

کراچی : سندھ پولیس اپنے ہی سابق افسر کی اہلیہ کو انصاف دینے میں ناکام ہو گئی ہے ۔ 

ایس ایچ او تھانہ بریگیڈ سب انسپکٹر سعید ٹوکا اور انچارج لا جسٹک سیل کے پی او آفس سمیت انسپکٹر چوہدری سلیم مجھے رشوت اور جنسی تعلقات کے لیئے ہراسمنٹ کر رہے ہیں ، جب کہ ان سے پہلے لیڈی انسپکٹر شرافت خان اور ڈی ایس پی لاجسٹک شہلا غنی بھی میرے خلاف سازشیں کرتی رہی ہیں ۔

کیونکہ جہاں میں رہتی ہوں یہ جگہ مجھے سابقہ افسران نے ہائی کورٹ کے حکم پر رہنے کے لیئے دی تھی لیکن جب میں نے پانچ لاکھ روپے سے زائد روپے لگا کر اس جگہ کو رہائش کے قابل بنایا تو اس کے بعد میرے سابق شوہر کے بھائی جعلی کانسٹیبل فیصل رشید نے بریگیڈ لائن کے منشی امتیاز چٹا کے ساتھ ملکر اس گھر کو دو لاکھ میں بیچ دیا ۔

اب مجھ سے میرا گھر زبردستی خالی کروانے کے لیئے بریگیڈ تھانہ کی مومن مسجد کے قاری کو استعمال کر کے کوارٹر گرا دیا گیا ہے ۔ جس کے لیئے میں نے پٹیشن نمبر 1360 /2017 دائر کی تھی ۔ لیکن افسوس کہ انسپیکٹر شرافت خان نے میرے خلاف جعلی رپورٹس لگا کر فیملی کوارٹر خالی کروانے کے لئے ڈی آئی جی ایڈمن آفس سے نوٹس جاری کروا دیا تھا ۔

مزید پڑھیں :  معروف صحافی اور کالم نگار عبدالقادر حسن انتقال کر گئے

جس کا جواب میں نے دیا کہ مجھے جو فلیٹ الاٹ کیا گیا ہے وہاں تمام لوگ پرائیویٹ رہتے ہیں اور فلیٹ کی حالت انتہائی خستہ حال ہے اور اس فلیٹ کے تنازع پر میں ڈی ایس پی صاحبان اور انکی فیملیز شہید ہو چکی ہے ،جب کہ فلیٹ سے متصل غیر قانونی لوگوں کی رہائش ہے ۔ جو آئے دن افسران کو پریشان کرتے ہیں ، لہذاہ مجھے میری موجودہ فیملی کوارٹر میں رہنے دیا جائے ۔ اس کے باوجود کہ انسپکٹر شرافت اب ایس ایچ او ٹیپو سلطان لگ گئی ہیں اور ایس ایچ او بریگیڈ سب انسپکٹر سعید ٹوکا اور انسپکٹر سلیم کو مجبور کر رہی ہیں کہ لیڈی سب انسپکٹر روبینہ شاہین بلوچ تھانہ بریگیڈ لائنز ایریا ایسٹ کراچی سے بے دخل کر کے کرایہ کے مکان پر شفٹ کیا جائے ۔

آئی جی سندھ کو درخواست ہے کہ میرا قصور بتایا جائے کہ مجھے اور میرے معصوم بچے کو قتل کرنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں ۔ لیکن ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوتی ہے ۔ انسپکٹر شرافت کس کے کہنے پر مجھے ہراسمنٹ کر رہی ہے اور انسپکٹر شرافت کے کہنے پر کانسٹیبل ہارون، سعید، نوید اعوان اور رضوان کے ساتھ ملکر میرے سابقہ شوہر کے بھائی فیصل اعوان دیگر جرائم پیشہ افراد غلام، اور کالا بشیر اور ان کے بیٹے مجھے ہر وقت تنگ کرتے ہیں اور ہراسمنٹ کرتے ہیں ۔

مزید پڑھیں : باربارنام لینے کے باوجود اویس نورانی تقریر کیلئے کیوں نہیں آئے

جب کہ ڈی آئ جی صاحبان مجھے نوکری پر بھی نہیں لیتے اور کہتے ہیں کہ پہلے کوارٹر خالی کر کے انسپکٹر شرافت کے حوالے کر دو اور جو میرا پیسہ لگا ہے وہ ضائع ہو گیا ہے ۔ اس سے پہلے بھی انسپیکٹر شرافت کی بدمعاشی سے ڈر کر کئ لیڈی افسران شہر اور صوبہ چھوڑ کر چلی گئی ہیں اور کئ لیڈی افسران نے خود کشی کر لی تھی ۔ لیڈی انسپکٹر شرافت کے خلاف احتجاج بھی کیا لیکن مجھے سسپینڈ اور ڈسمس کر دیا گیا ۔ برائے کرم میری مدد کریں اور آئی جی سندھ مجھے میرے کوارٹر میں رہنے دیں ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *