سندھ حکومت نے مزدور کی تنخواہ 16200 مقرر کر دی

سندھ کابینہ اجلاس ،مزدور کی کم سے کم تنخواہ16ہزار 200روپے مقرر،مالی معاملات کی منظوری کیلئے کابینہ کی سب کمیٹی قائم ۔

سندھ کابینہ نے مزدور کی کم سے کم تنخواہ 16ہزار 200روپے مقررکردی۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت سندھ کابینہ کا اجلاس سندھ سیکریٹریٹ میں منعقد ہوا۔ کابینہ نے زیادہ ہنر مند مزدور (ہائی اسکلڈ) کی کم سے کم تنخواہ 21083 روپے سے 22569تک کرنے کی منظوری دی۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ اسکلڈ مزدور کی تنخواہ 18589 روپے سے 19836روپے تک ہے۔ سیمی اسکلڈ مزدور کی تنخواہ 16596 روپے سے 17345 روپے تک ہے جبکہ مزدور کی کم سے کم تنخواہ 16200 روپے ہے۔ جبکہ سندھ کابینہ نے مالی معاملات کی منظوری کیلئے کابینہ کی سب کمیٹی قائم کرنیکی منظوری دیدی ،یہ کمیٹی حکومت کے اخراجات کی منظوری دیگی،سب کمیٹی سعید غنی ، ناصر شاہ اور امتیاز شیخ پر مشتمل ہو گی ۔

اجلاس میں صوبائی کابینہ کے مالی اخرجات، سندھ ری پروڈکٹیو ہیلتھ کیئر رائٹس، اے ڈی پی 19-2018 کی جاری ترقیاتی اسکیموں کیلئے مزید فنڈز کی ڈیمانڈ، سندھ گورنمنٹ رولرس آف بزنس میں تر میم، منیمم ( کم سے کم تنخواہ) ویج کی منظوری، سندھ کنزیومر پروڈکشن ایکٹ 2017 میں ترمیم، اسپیشل کورٹ سکھر کیلئے جج کا تقرر، سائٹ لمیٹڈ کیلئے واٹر کمیشن کی ہدایت کے مطابق لائحہ عمل پر بات چیت، بینظیر بھٹو شہید ہیومن ریسورس ریسرچ ڈیولپمنٹ بورڈ کی منظوری، چیئرمین چارٹر انسپیکشن اینڈ ایویلوایشن کمیٹی
کے چیئرمین کی کنٹریکٹ کی تجدید، ایکسٹینشن آف ٹینیور آف جوڈیشنل آفیسرز، این آئی سی وی ڈی کی گرانٹ اور کابینہ میں مالی معاملات کی منظوری کیلئے کابینہ کی سب کمیٹی قائم کرنے کی منظوری دی گئی ۔

یہ کمیٹی حکومت کے اخراجات کی منظوری دیگی۔ سندھ کابینہ نے سندھ کچی آبادی ڈپارٹمنٹ کا نام تبدیل کرکے ہیومن سیٹلمنٹ، اسپیٹیئل ڈیولپمنٹ اینڈ سوشل ہائوسنگ ڈپارٹمنٹ رکھ دیا۔

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ کابینہ نے جان محمد لنجار، ریٹائرڈ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کو اسپیشل کورٹ سندھ پبلک پراپرٹی (ریموول آف انکروچمنٹ) سکھر کو ڈھائی سال کیلئے تقرر کرنے کی منظوری دی۔ یہ تقرری چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ کی سفارش پر کی گئی ہے۔

سندھ کابینہ کے اجلاس کے بعد میڈیا کے نمائندوں کو پریس بریفننگ دیتے ہوئے کیا۔ صوبائی مشیر نے کہا سپریم کورٹ کے فیصلہ کے بعد شہر میں تجاوزات کے انہدام کی کاروائی جاری ہے مگر کابینہ نے وزیر بلدیات کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی ہے جس میں ان امور کا خیال رکھا جائے گا کہ کسی بھی انہدامی کارروائی میں کوئی لیز پراپرٹی اس کی زد میں نہ آئے اس کمیٹی میں کمشنر کراچی بھی ہوں گے ۔

انہوں نے کہا کہ ماں اور بچہ کی صحت سے متعلق قانونی حیثیت سے حکومت قانون سا زی کررہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ماضی میں چند بدعنوان افسران اور سیاسی اثر رسوخ رکھنے والے افراد نے کراچی میں زمینوں پر قبضہ کرنے کے لیے بندر بانٹ کی مگر ان افراد کے خلاف بھی قانونی کاروائی عمل میں لائی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کسی کو بھی بے گھر کرنے کے سختی سے خلاف ہے اور یہی پالیسی پیپلز پارٹی کی روزگار سے متعلق ہے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *