سموگ کی وجہ سے آنکھیں اور پھیپھڑے متاثر ہو سکتے ہیں ۔رپورٹ

گذشتہ چند برسوں کی طرح اس سال بھی موسم سرما کے آغاز پر پاکستان کے مختلف علاقوں میں شہریوں کو سموگ یعنی آلودہ دھند کا سامنا رہا ہے ۔اس کے باعث جہاں لوگوں کو مختلف بیماریوں کی صورت میں مشکلات پیش آئیں ‘ وہیں ایک دفعہ پھر یہ بحث چھڑ گئی کہ ماحولیاتی تبدیلیوں کا موضوع محض یورپ اور امریکہ کا ہی نہیں‘ ہمارا بھی مسئلہ ہے جسے زیادہ سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے ۔

نومبر کے دوسرے ہفتے میں ہونے والی بارشوں کی وجہ سے اس سے نجات ملی ۔ لفظ ”سموگ“ میں چھپاایک لفظ ”فوگ “ یعنی دھند ہے جو ہمارے ہاں غیر مانوس نہیں اور جب بھی سردی زیادہ پڑتی ہے تو میڈیا میں اس کا تذکرہ عام سننے کو ملتا ہے ۔ بعض اوقات یہ اتنی شدید ہوتی ہے کہ چند میٹر سے آگے کچھ دکھائی نہیں دیتا لہٰذا سڑکوں پر حادثات کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ایسے میں مخصوص اوقات کے لئے موٹروے کو بند اور مسافر طیاروں کی پروازوں کو معطل کر دیا جاتا ہے تاکہ ممکنہ حادثات سے بچا جا سکے۔

ان دنوں عام لوگوں کو خبردار کیا جاتا ہے کہ دھند کے اوقات میں سفر سے گریز کریں اور اگر ایسا کرنا ضروری ہو تو گاڑی کی ”فوگ لائٹس“ لازماً آن رکھیں۔اس کی وجہ سے اگرچہ لوگوں کو مسائل اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن پھر بھی کچھ لوگوں اور خصوصاً بچوںکے لئے یہ ایک دلکش منظر ہوتا ہے جب انہیں صبح کے وقت سورج کی کرنیں مدھم نظر آتی ہیں اور سفید بادل نما چیز اپنے بہت قریب دکھائی دیتی ہے۔

تاہم گذشتہ چند برسوں کی طرح اب کی بار بھی سردیوں کے آغاز پر ایک ایسی چیز کی خبریں سامنے آئیں جسے” سموگ “ کہا جاتا ہے۔ لوگ حیران اور پریشان تھے کہ کیا یہ ”سموک“ یعنی دھواں ہے یا ”فوگ“ یعنی دھند؟ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ ان دونوں الفاظ کا مجموعہ ہے۔ اس کے لئے اردو میں ”آلودہ دھند“ کے علاوہ ”دھنددھواں“ کی اصطلاح بھی استعمال ہو رہی ہے جو ”دھند“ اور ”دھواں“ کے ملنے سے بنی ہے۔تاہم پاکستان کے اندر اور باہر ”سموگ “ کی اصطلاح ہی زیادہ استعمال ہوتی ہے ۔

سموگ ہے کیا ؟

سموگ کو سمجھنے کے لئے فوگ کو سمجھنا ضروری ہے ۔موسم سرما میں صبح کے وقت آسمان پر پھیلی بادل کی چادر فوگ یا دھند کہلاتی ہے۔ یہ اصل میں آبی بخارات کی ہی ایک شکل ہے جو سورج طلوع ہونے پر گرم ہونے کی وجہ سے اپنا وجود کھو دیتی ہے اور فضا صاف ہوجاتی ہے۔اس کے برعکس سموگ (دھندھواں)فضا میں شامل مختلف قسم کے زہریلے مادوں اور آبی بخارات کا آمیزہ ہے جو وزنی ہونے اور فضا میں پانی کی کمی کی وجہ سے فضائی آلودگی کا باعث بنتا ہے۔ سورج طلوع ہونے کے باوجودیہ آلودگی ختم نہیں ہوتی۔

اگر کیمیائی طور پر دیکھا جائے تواس میں صنعتی کارخانوں کی فضائی آلودگی‘ سڑکوں پردوڑتی گاڑیوںکادھواں‘بھٹوںاورزرعی زمینوں میں چاول کی فصل کے گھاس پھونس کو جلانے سے پیدا شدہ دھواں شامل ہے۔

مختلف ممالک میں فضائی آلودگی کی کمی بیشی کو ماپنے کے لئے ائیر کوالٹی انڈیکس میپ(Air Quality Index Map)کا سہارا لیا جاتا ہے جو یہ بتاتا ہے کہ کسی علاقے میں فضاکی نوعیت کیسی ہے لیکن بدقسمتی سے اس میں پاکستان کے بارے میں معلومات موجود نہیں۔

بعض لوگوں میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ لاہور میں سموگ کا سبب انڈیا میں موجود صنعتی کارخانے ہیں لیکن یہ تصور درست نہیں۔ اس کی بنیادی وجوہات دوہیںجن میں سے پہلی چاول کی فصل کی ایک ہی وقت میں کٹائی اور دوسری بارشوں کا نہ ہوناہے۔زہریلے مادے فضا میں ہروقت موجودرہتے ہیں جنہیں بارشیںصاف کر دیتی ہیں۔ اس بار خشک سالی کی وجہ سے یہ مسئلہ زیادہ ابھر کر سامنے آیا ہے۔

صحت پر منفی اثرات

سموگ میں زیادہ وقت گزارنے یا سانس لینے سے اس میں موجود زہریلے مادے مثلاً کاربن مونوآکسائیڈ، سلیکان اور نائٹروجن پھیپھڑوں اور آنکھوں کو بہت زیادہ متاثر کرتے ہیں۔ اس کی واضح علامات میں کھانسی، سانس لینے میں دشواری، سینے میں جلن، آنکھوں میں سرخی،جلن اور آنکھوں سے پانی نکلنا شامل ہیں۔ اس سے بچاو¿ کے لئے ضروری ہے کہ خاص کر سانس کی بیماریوں میں مبتلا مریض ایسے ماحول میں باہر نکلنے سے گریز کریں۔

کرنے کے کام

مندرجہ ذیل تدابیر پر عمل کر کے دھندھواں سے پیدا ہونے والی بیماریوں سے محفوظ رہا جا سکتا ہے :
٭فضا میں نمی کی مقدار بڑھانے کے لئے پانی کا زیادہ سے زیادہ چھڑکاو کریں تاکہ یہ زہریلے مادے فضا میںتیرنے کی بجائے زمین پر بیٹھ جائیں۔
٭جب فضا میں دھندھواں ہو تو ماسک کے بغیر باہر نہ نکلیں۔
موٹر سائیکل سواروں کو چاہئے کہ فلٹر والے ماسک استعمال کریں۔ گاڑی میں سفر کے دوران وینٹی لیٹر (ventilator) لازماًاستعمال کریں تاکہ دھندھواں گاڑی میں جمع نہ ہونے پائے۔
٭ایسی عینکیں استعمال کریں جو آپ کی آنکھوں کو مکمل ڈھانپ لیں۔
٭باہر سے گھر واپسی پر آنکھوں ،ناک اور گلے کو لازماً دھوئیں۔
٭دل،دمہ اور پھپیھڑوں کے مریض اس آلودہ فضا میں نکلنے سے خاص طور پر اجتناب کریں۔
سرکاری سطح پر کرنے کے کام
٭دھندھواںسے محفوظ رہنے اور فضا کو آلودگی سے پاک رکھنے کے لئے سڑکوں اور اردگرد کی جگہوں پر پانی کازیادہ سے زیادہ چھڑکاو¿ کیا جائے۔
٭درخت کاٹنے پر پابندی کو موثر بنایا جائے اور زیادہ سے زیادہ درخت لگانے کی حوصلہ افزائی کی جائے ۔
٭فیکٹریوں، گاڑیوںاور بھٹوںسے نکلنے والے دھوئیں کو ہوا میں خارج کرنے سے پہلے اس میں موجود زہریلے مادوں کی ماحول دوست مادوں میں تبدیلی کو یقینی بنایا جائے۔
٭ کھیتوں میں دھان کے گھاس پھونس کو جلانے پر پابندی لگائی جائے اور اسے زمین سے صاف کرنے کے لئے کسانوں کو آسان اقساط پر جدید مشینیں فراہم کی جائیں تاکہ فضا کو اس زہریلے دھوئیں سے پاک کیا جا سکے۔

گفتگو کا نچوڑ یہ ہے کہ فضا میں پہلے بھی یہ زہریلے مادے موجود ہوتے تھے۔اب ایک طرف خشک سالی کی وجہ سے فضا میں خشکی زیادہ ہے تودوسری طرف انسان درخت کاٹ کر،گاڑیوں اور فیکٹریوں سے زہریلا دھواں پیدا کر کے اور زرعی زمینوں پر گھاس پھونس کو آگ لگا کر فضائی آلودگی بڑھاتے چلے جارہے ہیں ۔ اس سے یہ مسئلہ زیادہ ابھر کر سامنے آرہا ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ اسے سنجیدہ لیا جائے اور اس سلسلے میں انفرادی اور اجتماعی سطح پر ضروری اقدامات کئے ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *